
مولا علی علیہ السلام کا مشہور قول ہیکہ ”زندگی ایسے گزارو کہ لوگ تم سے ملاقات کے مشتاق ہوں اور جب مر جاؤ تو لوگ تمہارے لئے آنسو بہائیں”۔ سیدہ سلطانہ مرحومہ نے زندگی ایسے ہی گزاری کہ مولا علی کے قول کو مجسم کردیا۔ سیدہ سلطانہ کو مرحومہ لکھتے ہوئے ہاتھ لرزنے لگتا ہے اور انکا مسکراتا ہوا چہرہ نطروں کے سامنے آجاتا ہے۔ اگر یہ جاننا ہو کہ اس دور میں ایک خاتون کو زندگی کیسے گزارناچاہئے تو سیدہ سلطانہ یقینأ اسکی بہترین مثال تھیں۔ وہ ایک ماہر تعلیم ، مدبرہ، ذاکرہ اہل بیت، عشق محمد و آل محمد میں سرشار، حاجیہ اور ذائرہ تھی۔ سیدہ سلطانہ ایک شفیق ماں، فرماں بردار زوجہ اور خوش اخلاق بیٹی تھیں۔ اس لحاظ سے وہ حقیقی معنی میں بی بی سیدہ کی کنیز تھیں۔

سیدہ سلطانہ کا خاندانی پس منظر بھی بہت درخشاں ہے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ ، روشن خیال اور دیں دار گھرانے کی فرد تھیں۔ روشن خیال اس معنیٰ میں کہ وہاں لڑکیوں کی تعلیم پر خاص زور دیا جاتا تھا۔ سیدہ سلطانہ کے والد سید مجتبیٰ حسین ترمزی جیلر تھے۔ نانا علی اختر زیدی جنکا تعلق غازی پور شاملی سے تھا وائس رائے کےآفس سپرنٹنڈنٹ تھے۔ انکے ایک ماموں مولانا سید علی آصف تنظیم المکاتب کے بانی مولانا سید غلام عسکری کے دست راست تھے۔سیدہ سلطانہ کی ولادت غازی پور میں اپنی ننیہال میں پندرہ مارچ 1949 میں ہوئی تھی

بچپن سے ہی انہیں پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ ہمیشہ امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بی اے اور جغرافیہ میں ایم اے سینٹ جان کالج آگرہ سے کیا جبکہ انگریزی میں ایم اے مراد آباد کے گوکل داس گرلس کالج سے کیا۔ وہ سرسی کے ایک تعلیم یافتہ خاندان کی بہو بنیں۔ رئیس الحسن نقوی کے بڑے فرزند حسن عباس نقوی کے ساتھ انیس سو تہتر میں ازدواجی رشتے میں منسلک ہوئیں۔ رئیس الحسن نقوی تقسیم وطن سے پہلے امروہا میں سپلائی انسپیکٹر تھے۔

سیدہ سلطانہ اپنے ایک فرزند کی موت کے سبب پی ایچ ڈی نہ کر سکیں۔ بات1980 کی ہے۔ سیدہ سلطانہ نے آگرہ کالج آگرہ سے جغرافیہ میں ڈاکٹریٹ کرنے کی تیاری شروع کی۔ کافی حد تک وہ اپنی تھیسیس لکھ چکی تھیں لیکن اپنے آٹھ سالہ فرزند کی ناوقت موت کی وجہ سے انہوں نے تھیسیس نا مکمل چھوڑدی اور ڈاکٹریٹ کرنے کا خیال ہمیشہ کے لئے ذہن سے نکال دیا۔1975 میں وہ امروہا کے آل احمد گرلز انٹر کالج سے بحیثیت انگریزی لیکچرار وابستہ ہوئیں اور وائس پرنسپل کے عہدے تک پہونچیں۔انکے شوہر حسن عباس نقوی امروہا میں ریلوے میں سگنل انسپیکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔

امروہا میں قیام کے دوران سیدہ سلطانہ کی زندگی میں ایک اہم موڑ آیا۔ جس نے انہیں ایک الگ ہی پہچان دی۔ انہوں نے خواتین کی مجلسوں میں ذاکری شروع کی۔ اوردیکھتے دیکھتے امروہا کے عزائی حلقوں میں ہر ہر دل عزیز ذاکرہ بن گئیں۔ انہوں نے 1991 میں امروہا کو الوداع کہا اور سہارنپور کے انڈسٹریل گرلز انٹر کالج سے بحیثیت پرنسپل وابستہ ہو گئیں۔2011 میں وہ حسن خدمت کے بعد سبکدوش ہو گئیں۔ امروہا چھوڑنے کے بعد بھی انکا جذباتی لگاؤ امروہا کے ساتھ قائم رہا۔ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد آج بھی وہ اہل امروہا کے دلوں میں عزت و وقار کے ساتھ براجمان ہیں۔
76 برس کی عمر میں 14 فروری 2025 میں انہوں نے دار فانی کو الوداع کہا ۔ انکے انتقال کی خبر انکے پسماندگان، شوہر، ایک دختر اور تین فرزندوں کے ساتھ ساتھ اہل امروہا کے دلوں پر بجلی بن کر گری۔انکے غم میں لوگوں کے بہتے ہوئے آنسو انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
