
امریکہ تیل اور زیر زمین ذخائر کے لیے دنیا میں کہیں بھی جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے تیار ہے اور جنگ کی یہ آگ آج لاطینی امریکا تک پہنچ گئی ہے۔ ھفتہ بسیج پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے اعلیٰ رہنما آٰیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں مداخلت نے امریکا کو اقوام کے درمیان روز بروز زیادہ نفرت انگيز بنا دیا ہے۔ بارہ روزہ جنگ میں ایرانی قوم نے امریکا کو بھی دھول چٹائی اور صیہونیوں کو بھی شکست دی، اس میں کوئی شک نہیں۔ انھوں نے شیطنت کی، مار کھائی اور خالی ہاتھ لوٹ گئے۔ یہ حقیقی معنی میں شکست ہے۔

ایرانی رہنما نے کہا کہ ہاں، ہم نے اس بارہ روزہ جنگ میں نقصانات بھی اٹھائے؛ ہماری کئی عزیز ہستیاں ہاتھ سے چلی گئيں، اس میں شک نہیں، جنگ کی فطرت یہی ہے۔ لیکن اسلامی جمہوریہ نے ثابت کر دیا کہ وہ ارادے اور قوت کا مرکز ہے، وہ فیصلہ کرنے اور مقتدرانہ انداز میں ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ بارہ روزہ جنگ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کو ہونے والے نقصانات ہمارے ملک کو پہنچنے والے نقصانات سے بہت زیادہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس بارہ روزہ جنگ میں امریکا کے مقابلے میں ایرانی قوم کا اتحاد مزید بڑھ گيا اور ایرانی قوم حقیقی معنی میں فریق مقابل کو ناکام کرنے میں کامیاب رہی۔اس جنگ میں امریکہ کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اُس نے حملے اور دفاع دونوں میں اپنے جدید ترین اور انتہائی پیشرفتہ ہتھیار استعمال کیے؛ اپنی آبدوزوں اور جنگی طیاروں کو میدان میں اتارا، مگر پھر بھی اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا۔

بسیج ایران کی وہ عوامی نیم فوجی فورس ہے جو انقلابِ اسلامی کی حفاظت، حکومت کی حمایت اور مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ بسیج کا پورا نام “بسیجِ مستضعفین” ہے۔ یہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کے زیرِ انتظام ایک نیم فوجی (paramilitary) تنظیم ہے جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے فوراً بعد آیت اللہ خمینی کے حکم پر قائم کی گئی تھی۔
