qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

تیل کی خاطر خون بہایا ۔۔ٹرمپ اور اسرائیل کے جنگی جرائم

بلی آخر کار تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ایران پر حملے کرنے کے  نئے نئے بہانے تراشنے کے بعد آخر کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعتراف کر ہی لیا ہیکہ انہیں ایران کا تیل چاہئے۔۔

فائننشیل ٹائمز کو دیے انٹرویو میں ٹرمپ نےخود کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا: “سچ بات یہ ہے کہ میری پسندیدہ چیز ایران کا تیل لینا ہے۔ کچھ احمق لوگ کہتے ہیں تم یہ کیوں کر رہے ہو، لیکن وہ احمق ہیں!” ٹرمپ نے خارک جزیرے پر قبضے کی بات کی جو ایران کی تیل برآمدات کا 90 فیصد سنبھالتا ہے اور کہا: “ایرانیوں کے پاس کوئی دفاع نہیں، ہم اسے بآسانی لے سکتے ہیں۔” 4 سے 5 اہداف بدلنے کے بعد آخرکار اصل بات سامنے آ گئی — باقی سب جھوٹ اور پردہ تھا۔

اسکا مطلب یہ ہوا کہ ٹرمپ نے صرف تیل کی خاطر ایران کے اعلیٰ مذہبی اور روحانی پیشوا خامنہ ای سمیت درجنوں  لیڈروں، درجنوں فوجی افسروں ، اور درجنوں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ   ایک سو ساٹھ اسکولی طالبات سمیت ہزاروں بے گناہ انسانوں کا خون بہا دیا ہے۔ امریکہ نے محض ایران کا تیل حاصل کرنے کی خاطر ایران کے  اسکولوں ، اسپتالوں اوربنیادی ضرورتوں کے وسائل کو تہس نہس کردیا۔  کیا ٹرمپ جنگی مجرم نہیں ہے۔؟ کیا اسکے اوپر جنگی جرائم کے ارتکاب  کے لئے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہئے۔؟

کیا جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے روم معاہدے کی دفعہ 12(3) کے تحت ایران اپنی سرزمین پر جرائم کی تحقیقات کروا سکتا ہے۔ فلسطین نے 2014 میں یہی کیا جس کے نتیجے میں نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ یوکرین نے یہی راستہ اپنایا اور پوتن کے خلاف وارنٹ جاری ہوئے۔ ٹرمپ کے اپنے الفاظ، پینٹاگون کے کانگریسی بریفنگ ریکارڈ، تباہ اسکولوں اور اسپتالوں کی دستاویزات، اور اقوام متحدہ کے ماہرین کے بیانات — سب مل کر  ٹرمپ کو جنگی مجرم ثابت کرنے کے لئےایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

جانی نقصان: ایران کا خون بہا

انسانی حقوق کی تنظیم HRANA کے مطابق امریکہ اور اسرائل کے حملوں میں اب تک 3,461 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 1,551 عام شہری اور 236 بچے شامل ہیں۔ ریڈ کراس نے کم از کم 1,900 اموات اور 20,000 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی ہلال احمر کے مطابق 9,800 سے زائد شہری ڈھانچے نشانہ بنے جن میں 65 اسکول، 32 اسپتال اور 7,943 رہائشی عمارتیں شامل ہیں۔ جنوبی ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے میں 165 سے زائد طالبات ہلاک ہوئیں۔۔ یونیسکو نے اسے “بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی” اور ہیومن رائٹس واچ نے “جنگی جرم” قرار دیا۔

شہید اسکولی طالبات کی قبریں

دہرا معیار — دہشت گرد کون؟

امریکہ ایران کو “دہشت گرد ریاست” کہتا ہے۔ مگر یہی امریکہ بغیر سلامتی کونسل کی اجازت کے ایران پرحملہ کرتا ہے، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بناتا ہے، سیکڑوں بچوں کو ہلاک کرتا ہے، اور پھر خود تسلیم کرتا ہے کہ سب کچھ تیل کے لیے تھا۔ طاقتور کو “دفاع” اور کمزور کو “دہشت گرد” کہنا — یہ انصاف نہیں، یہ تاریخ کی سب سے بڑی منافقت ہے۔

ٹرمپ کے بدلتے اہداف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرمپ ایران پر حملے کے تعلق سے اپنے اہداف مسلسل تبدیل کرتے رہے۔ جنوری 2026 میں ٹرمپ نے Truth Social پر لکھا کہ “ایران میں مظاہرین کا تحفظ” مقصد ہے اور “ہم ان کی مدد کریں گے”۔ 28 فروری 2026 کو ٹرمپ نے ویڈیو پیغام میں جوہری ہتھیاروں کو جواز بنایا اور کہا “ایران جوہری بم بنانا چاہتا ہے”۔ اسی دن سوشل میڈیا پر رجیم چینج کا نیا ہدف سامنے آیا اور کہا کہ “ایرانی عوام اپنی حکومت خود سنبھالیں”۔ 2 مارچ کو مارکو روبیو نے پریس بریفنگ میں یہ جواز پیش کیا کہ “ایران امریکی اڈوں پر حملہ کرنے والا تھا” ۔ اسی دن ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ایرانی بحریہ تباہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا “ان کی بحریہ کو غرق کریں گے”۔ 3 مارچ کو جرمن چانسلر سے ملاقات میں ٹرمپ نے خود پہلے جواز کو رد کیا اور کہا “میں نے اسرائیل کو مجبور کیا، ایران ہم پر حملہ کرنے والا تھا”۔ مارچ کے وسط میں آبنائے ہرمز کا نیا جواز آیا کہ “آزادانہ بحری نقل و حمل یقینی بنانا” ہدف ہے۔ اور آخرکار مارچ 2026 کے آخر میں فائننشیل ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے اصل بات بتائی۔ “مجھے ایران کا تیل چاہیے!”

ٹرمپ کے جرائم کی گواہ خون اور لاشیں ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بار مجرم وہی ہیں جو خود کو “دنیا کے محافظ” کہتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں بلکہ ہزاروں معصوم انسانی جانوں کو تیل کی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ اور اب خود ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کر لیا ہے کہ ان کا اصل ہدف ایران کا تیل ہے — انسانی حقوق نہیں، جوہری خطرہ نہیں، امن نہیں۔ٹرمپ کے  جنگی مجرم ہونے کےثبوت موجود ہیں، لاشیں گواہ ہیں، تباہ اسکول گواہ ہیں۔بس دیر ہے تو بین الاقوامی عدالت کے فیصلے کی۔ گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کی۔

Related posts

خامنہ ای کی جانب سے خمینی کووڈ سنٹر کو سات آکسیجن کنسنٹریٹر کا ہدیہ۔

qaumikhabrein

ایران کے تیل ٹینکر لبنان پہونچ گئے۔امریکہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔

qaumikhabrein

مسجد اقصیٰ کی جانب بڑھتے ہاتھوں کو توڑ دیا جائے گا۔ اردو غان۔

qaumikhabrein

Leave a Comment