
غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی حملوں کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امن منصوبہ پیش کیا، جسے نتن یاہو-ٹرمپ پلان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جنگ بندی اور خطے میں استحکام قائم کرنا بتایا جارہا ہے ۔اس نام نہاد امن منصوبے موجود گیارہ اخلاقی اور قانونی خامیوں کی نشان دہی کرکےبین الاقوامی قانون کے ماہرین اور فلسطینی تجزیہ کاروں نے اس کی ہوا نکال دی ہے۔
منصوبے میں فلسطینیوں کے حق خودارادیت، آزاد ریاست کے قیام، جنگی نقصانات کی تلافی، اور مظالم پر اسرائیل سے جواب طلبی جیسے بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا گیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کو بھی منصوبے میں کوئی مؤثر کردار نہیں دیا گیا۔

ادھر حماس نےقیدیوں کے تبادلے اور حکومت کی منتقلی جیسے فوری معاملات پر اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ حماس نے غزہ کے مستقبل اور غیر مسلح ہونے جیسے امور کو تمام فلسطینی دھڑوں کے اتفاق اور وسیع مذاکرات سے مشروط کردیا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین اور فلسطینی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اس نام نہاد امن منصوبے میں 11 بنیادی قانونی خامیاں ہیں، جو نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں مزید بیچینی اور عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہیں۔یہ منصوبہ فلسطینیوں پر ہر قیمت پر امن مسلط کرنے کی کوشش ہے، جو درحقیقت ناانصافی، تشدد اور مستقبل میں مزید بحرانوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ ٹرمپ کا مجوزہ منصوبہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے سے بھی متصادم ہے، جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں اپنی غیرقانونی موجودگی ختم کرے۔

نام نہاد امن منصوبے کی خامیاں:
حق خودارادیت کی ضمانت نہیں
منصوبے میں فلسطینیوں کے حق خودارادیت، خاص طور پر ایک آزاد ریاست کے قیام کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں ہے۔ اس حق کو مبہم شرائط سے مشروط کیا گیا ہے، جن میں غزہ کی تعمیرنو، فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات اور اسرائیل-فلسطین مذاکرات شامل ہیں۔
عبوری حکومت میں فلسطینیوں کی عدم نمائندگی
منصوبے میں تجویز کردہ عبوری حکومت فلسطینی عوام کی نمائندہ نہیں اور ان کے حق خودارادیت کی بات نہیں ہے۔ اس میں نہ کوئی واضح معیار دیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ٹائم فریم، جس کے تحت مکمل فلسطینی خودمختاری حاصل ہو۔ اس کے علاوہ امن کونسل کی نگرانی امریکی صدر کے ماتحت ہوگی، جو نہ اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار میں ہے اور نہ ہی شفاف بین الاقوامی کنٹرول میں۔یہ بات جگ ظاہر ہیکہ امریکہ اسرائیل کا کھلا حامی ہے۔
بین الاقوامی فورس کی غیر شفافیت
منصوبے میں تجویز کردہ بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی عوام یا اقوام متحدہ کے کنٹرول میں نہیں ہوگی، جس سے اسرائیلی قبضے کی جگہ امریکی قیادت میں ایک نئی قبضہ نما موجودگی قائم ہوسکتی ہے۔

ہتھیاروں سے دستبرداری کی یکطرفہ شرط
غزہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی، اور اگر یہ دائمی ہو تو اسرائیلی حملوں کے مقابلے میں غزہ کو غیر محفوظ بناسکتی ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل کو غیر مسلح کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ وہ فلسطینیوں کے خلاف بین الاقوامی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور خطے میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال چکا ہے۔
انتہا پسندی کا یکطرفہ ذکر
منصوبے میں انتہا پسندی کے خاتمے کی بات صرف غزہ کے تناظر میں کی گئی ہے، جبکہ اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں میں فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات، انتہا پسندانہ سوچ اور نسل کشی کی کھلی ترغیب صہیونی بیانیے کا حصہ ہیں، جسے نظرانداز کیا گیا ہے۔
اقتصادی منصوبے میں استحصال کا خدشہ
منصوبے میں تجویز کردہ اقتصادی ترقیاتی منصوبہ اور خصوصی اقتصادی زون غیر ملکی عناصر کو فلسطینی وسائل کے غیر قانونی استحصال کا موقع فراہم کرسکتے ہیں، جس سے مقامی خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔
جنگی نقصانات کی عدم تلافی
اسرائیل اور وہ عناصر جو غزہ میں غیر قانونی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، ان پر فلسطینیوں کو جنگی نقصانات کی تلافی کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
قیدیوں کی رہائی میں عدم مساوات
منصوبے میں تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی محدود تعداد تک ہی رکھی گئی ہے، جو غیر متوازن اور امتیازی رویہ ظاہر کرتا ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی
منصوبے میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بین الاقوامی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کوئی جواب طلبی یا عدالتی کارروائی کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی انصاف کی فراہمی کی کوئی ضمانت دی گئی ہے۔
اہم مسائل سے چشم پوشی
ٹرمپ کا منصوبہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے، بالخصوص مشرقی بیت المقدس میں غیر قانونی بستیوں کے قیام، سرحدوں کے تعین، پناہ گزینوں کی واپسی اور معاوضے جیسے بنیادی مسائل پر خاموش ہے۔
اقوام متحدہ کا کردار ختم
منصوبے میں اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی یا سلامتی کونسل، اور خاص طور پر فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے ادارے UNRWA کے لیے کوئی کردار نہیں رکھا گیا، حالانکہ یہ ادارے فلسطینیوں کی مدد اور تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔

