
دنیا کی سب سے بڑی معیشت، ریاستہائے متحدہ امریکہ، اس وقت ایک ایسے مالیاتی چیلنج کا سامنا کر رہی ہے جو نہ صرف اس کے اپنے مستقبل بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کا قومی قرضہ 39 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو ایک دہائی قبل 2016 میں تقریباً 19.5 ٹریلین ڈالر تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف دس سالوں میں یہ قرضہ تقریباً دوگنا ہو چکا ہے—ایک ایسا اضافہ جو غیر معمولی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔
ماضی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کو اپنے قومی قرضے کو 10 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے میں 27 سال لگے تھے۔ لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہے؛ قرضے میں ہر ایک ٹریلین ڈالر کا اضافہ محض چند مہینوں میں ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر، 37 سے 38 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے میں صرف 72 دن لگے، جبکہ 38 سے 39 ٹریلین تک کا سفر 146 دن میں طے ہوا۔ یہ رفتار اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قرضے کا بوجھ نہایت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اگر اس رجحان کو موجودہ رفتار سے دیکھا جائے تو اندازہ ہے کہ روزانہ تقریباً 7.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی بنیاد پر ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں کہ 2026 کی گرمیوں تک یہ قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ 2030 تک 50 ٹریلین ڈالر کی حد کو چھونے کا بھی امکان ہے۔
یہ سوال اب نہایت اہم ہو چکا ہے کہ اس تیز رفتار اضافے کے پسِ پشت عوامل کیا ہیں۔ بنیادی وجوہات میں حکومتی اخراجات میں اضافہ، ٹیکس محصولات کی نسبتاً کم رفتار، دفاعی بجٹ، صحت اور سماجی بہبود کے پروگرامز، اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے دی جانے والی مالی امداد اور جنگی اخراجات شامل ہیں ۔
اس بڑھتے ہوئے قرضے کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ چونکہ امریکی ڈالر عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس کی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ قرضے میں اضافہ سود کی شرحوں، مہنگائی، اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک بھی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ امریکہ کا بڑھتا ہوا قرضہ ایک خاموش مگر سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ اگر اس پر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے استحکام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ امریکہ کو اپنی جنگی پالیسی پر بھی نظر ثانی کرنا ہوگی۔اسرائل کی حمایت میں ایران کے خلاف چھیڑی گئی اس جنگ میں امریکہ کو روزانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ خؒیجی ملکوں میں اسکے فوجی اڈوں کو پہونچنے والا بھاری نقصان اس سے الگ ہے۔
