qaumikhabrein
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

وہائٹ ہاؤس  کا مذہبی آزادی کمیشن فراڈ ہے۔ سابق رکن کیری کا الزام

کیری پریجین بولر کو وہائٹ ہاؤس کے مذہبی آزادی کمیشن سے  باہر کردیا گیا ہے اسکی وجہ یہ ہیکہ انہو ں نے غزہ پر سرائیلی حملوں کی مذمت کی۔ میٹنگ میں فلسطینی پرچم لہرایا اور امریکی انتظامیہ پر اسرائیلی غلبے کا الزام لگایا۔ پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیری پریجین بولرکون ہیں۔

کیری پریجین بولر (Carrie Prejean Boller) کا نام امریکی عوام کے لیے نیا نہیں ہے۔ 2009 میں وہ مس کیلیفورنیا USA کی فاتح بنیں اور مس USA مقابلے میں رنر اپ رہیں۔ اس وقت ان کی شہرت صرف خوبصورتی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک متنازعہ سوال کے جواب کیوجہ سے تھی — جب ان سے ہم جنس پرستی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے عقیدے کے مطابق جواب دیا کہ شادی صرف مرد اور عورت کے درمیان ہوتی ہے۔ اس بیان نے انہیں قدامت پسند حلقوں میں ہیرو بنا دیا، جبکہ لبرل میڈیا میں تنقید کا نشانہ۔

سالوں بعد، کیری ایک کیتھولک ایکٹوسٹ، خاتون حقوق کی حامی، اور مذہبی آزادی کی وکالت کرنے والی شخصیت کے طور پر ابھریں۔ انہوں نے اپنی زندگی کو خاندان، ایمان، اور اخلاقی اقدار کے گرد گھمایا۔ 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں White House Religious Liberty Commission (صدر کا مذہبی آزادی کمیشن) کا رکن نامزد کیا — ایک ایسا ادارہ جو امریکہ میں مذہبی آزادی کی حفاظت اور پروموشن کے لیے بنایا گیا تھا۔ کیری نے اسے اپنے ایمان کی خدمت کا موقع سمجھا اور خوشی سے اسکی رکنیت  کوقبول کیا۔

لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہی۔ فروری 2026 میں کمیشن کی ایک سماعت اینٹی سیمٹزم (یہودی مخالفیت) پر ہوئی۔ کیری نے اس سماعت کو ایک موقع بنایا اور کئی اہم سوالات اٹھائے:

کیا صیہونیت  “Zionism” کی مخالفت اینٹی سیمٹک ہے؟

کیا “Christ is King” کہنا یہودی مخالف ہے؟

غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں پر تنقید مذہبی آزادی کے دائرے میں آتی ہے یا نہیں؟

انہوں نے فلسطینی جھنڈا لگایا، ایک یہودی گواہ سے پوچھا کہ کیا اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید اینٹی سیمٹزم ہے۔ کمیشن کے چیئرمین، ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک نے اسے “hearing hijack” قرار دیا اور کیری کو فوری طور پر ہٹا دیا۔ بعد میں صدر ٹرمپ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کی۔

ہٹائے جانے کے بعد کیری نے Tucker Carlson کے شو میں تفصیلی انٹرویو دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمیشن “fraud” (دھوکہ) ہے۔ ان کے بقول:

کمیشن کا اصل مقصد مذہبی آزادی کی حفاظت نہیں، بلکہ  صیہونی ایجنڈہZionist agenda اور اسرائیل کی غیر مشروط حمایت نافذ کرنا ہے۔

انہیں ڈین پیٹرک اور صدر کے روحانی مشیر پالہ وائٹ سے فون آیا، جس میں وارننگ دی گئی کہ غزہ، replacement theology (ایک کیتھولک/عیسائی نظریہ)، یا اسرائیل کی تنقید سے گریز کریں، ورنہ یہ “antisemitic” سمجھا جائے گا۔

انہوں نے اسرائل کی تنقید کرنے سے باز رہنے سے انکار کردیا

کیری نے مزید کہا کہ کمیشن حقیقی مذہبی آزادی کی بجائے ایک سیاسی آلہ بن چکا ہے، جہاں صرف ایک خاص نظریے کی اجازت ہے۔ انہوں نے اپنے کیتھولک عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کی جان کی حرمت (بشمول فلسطینیوں کی) ان کے ایمان کا حصہ ہے، اور انہیں خاموش نہیں کیا جاسکتا

اس واقعے نے تنازعہ کھڑا کر دیا۔ ایک طرف اسرائیل حامی گروپس اور کمیشن کے حامیوں نے کیری کو “antisemite” قرار دیا۔ دوسری طرف ، کچھ کیتھولک گروپس، اور CAIR (Council on American-Islamic Relations) جیسے اداروں نے ان کی حمایت کی۔ ایک مسلمان ایڈوائزر Sameerah Munshi نے بھی احتجاج میں استعفیٰ دے دیا۔

یہ واقعہ ایک بڑے سوال کو جنم دیتا ہے: کیا مذہبی آزادی واقعی سب کے لیے ہے، یا یہ صرف مخصوص سیاسی اتحادوں کی خدمت کرتی ہے؟ کیری پریجین بولر کا جواب واضح ہے — وہ خاموش نہیں رہیں گی، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی کہانی خوبصورتی، ایمان، اور سیاسی دباؤ کے درمیان جدوجہد کی ایک مثال ہے، جو آج کے امریکہ میں مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی حدود پر روشنی ڈالتی ہے۔ کیری کے موقف سےواضح ہوتا  ہیکہ مذہبی آزادی کا مطلب صرف اکثریت کی حفاظت نہیں، بلکہ اقلیتوں اور مختلف آراء کی بھی حفاظت ہے — بشمول وہ آراء جو طاقتور اتحادوں کو پسند نہ آئیں۔

Related posts

2022 میں انتہائی بربریت کا مظاہرہ کیا امریکی پولیس نے

qaumikhabrein

ہندو پاک کے کرکٹرز فاصلے مٹانے میں لگے ہیں۔

qaumikhabrein

شامی زلزلہ زدگان کے ساتھ مغرب اور عرب دنیا کا دوہرا معیار

qaumikhabrein

Leave a Comment