
حال ہی میں دسیوں نوجوانوں کو پھانسی دئے جانے کے بعد اب سعودی عرب سے خبر آرہی ہیکہ وہاں بڑے پیمانے پر خواتین کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہیکہ کئی خاتون سماجی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سعودی لیکس ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں تین سماجی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدگان میں لینا الشریف بھی ہیں جنہیں مئی کے اواخر میں پکڑا گیا۔

سند نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہیکہ سعودی حکمرانوں کے ذریعے حقوق انسانی کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کے پیش نظر مستقبل میں اس قسم کی گرفتاریوں میں اضافہ ممکن ہے۔ اس تنظیم کے مطابق سعودی عرب کی جیلوں میں اس وقت سو سے زیادہ خواتین سماجی کارکن قید ہیں۔ سند نامی تنظیم نے سعودی عرب سرکار سے گرفتار شدہ خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ فروری میں حقوق انسانی کی کچھ تنظیموں نے سعودی جیلوں میں بند خواتین کارکنوں کی فہرست جاری کی تھی۔ سعودی عرب سے فرار ہو کر ہزاروں خواتین دوسرے ملکوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ بھلے ہی سعودی ولی عہد نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی ہے۔
انکے حقوق کی پاسداری کا ڈھنڈورا پیٹا گیا لیکن زمینی حقیقت اب بھی یہی ہیکہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی جگہ جیل ہی ہے۔(بشکریہ پارس نیوز)
