
قومی چینلوں کو اپنے اشاروں پر نچانے والی مرکزی حکومت کو اب چھوٹے چھوٹے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں سے خوف آنے لگا ہے ۔ جی ہاں سوشل میڈیاپلیٹ فارم اب حکومت کے لیے درد سر ثابت ہورہے ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب پورا ملک کورونا وبا کے نرغے میں ہے ۔ لوگ اپنوں کی جان بچانے کے لیے تگ ودو کررہے ہیں اور کسی طرح حالات سے مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔اس کوشش میں اکثریت کے ہاتھ ناکامی اور مایوسی آرہی ہے ، انکے اپنے ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑرہے ہیں اسپتال ، شمشان گھاٹ اور قبرستانوں میں جگہ کی قلت ہے۔ اس پورے ماحول میں پانی میں تیرتی سینکڑوں لاشیں، شمشان گھاٹوں میں مردوں کو جلانے کے لیے لکڑی کی قلت، جن کو چتا نصیب نہیں ہو سکی انھیں جل سمادھی دیدی گئی ۔ ملک کی بڑی ریاستوں میں آکسیجن کی کمی اور وسائل کی کمی ہے۔ اس وبا کے دور میں ہر باشعور شخص کو بخوبی اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ مودی حکومت وبا سے بچاؤ کے معاملے میں پوری طرح ناکام رہی۔ پورا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ۔قومی میڈیا خاص کر الیکٹرانک میڈیا نے اس پورے معاملے پر اپنے اپنے انداز میں پردہ ڈالنے کی کوشش کی ۔ تاویلیں پیش کی گئیں اور عوام کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی لیکن میڈیا کے ذریعے ہمیشہ عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا قومی میڈیا کی حقائق پر ملمع کاری کو سوشل میڈیا نے ادھیڑ کر رکھ دیا۔ حقائق اس تیزی سے منظر عام پر آئے کہ ہزار کوششوں کے باوجود سچ پر پردہ ڈالنے میں حکومت ناکام رہی، یہاں تک کہ گودی میڈیا کی ٹرول آرمی بھی بس ہوکر رہ گئی ہے ۔کورونا وبا کے مہلک اثرات نے پورے ملک کی نہ صرف آنکھیں کھول کر رکھ دیں بلکہ مودی کی مداح سرائی کرنے والے سیاسی لیڈروں۔ سماجی کارکنان اور ادیب و شاعروں کو برہم کردیا ہے۔یہ برہمی سسٹم کی ناکامی کے خلاف ظاہر ہونا شروع ہوچکی ہے ۔

گجرات کو وزیر اعظم مودی کا گڑھ کہا جاتا ہے ، ریاست گجرات میں کوئی مودی کے خلاف کچھ کہنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، سوال کرنا تو دور کی بات ہے ، لیکن آج اسی گجرات کی ایک شاعرہ نے جب گنگا میں تیرتی انسانی لاشوں کا منظر دیکھا تو وہ تڑپ اٹھی اور ایک شاعرہ کے قلم سے نظم کی شکل میں جو سوال اٹھائے گئے وہ ضمیر کو جھنجھوڑنے والے ثابت ہوئے کہ مودی حکومت لرز کر رہ گئی ۔ آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے ، گجرات کی شاعرہ پارول کھکر، یوں تو پچھلی دو دہائیوں سے گجراتی زبان میں شاعری کررہی ہیں، ان کی نظمیں عموماً رومانی انداز کی اور بھکتی پر مبنی ہوتی ہیں ۔ پارول کھکر نے گجراتی ادب میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہیں انھیں سیاست سے کوئی سروکار نہیں لیکن کورونا وبا کے دوران گنگا میں تیرتی لاشیں اورشمشان گھاٹوں کی حالت زار نے اس شاعرہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ پارول کھکر کے قلم سے جو نظم تحریر ہوئی وہ حکومت کے لیے درد سر بن گئی ، پارول کھکر نے ’’شو واہنی گنگا ‘‘ عنوان سے گجراتی زبان میں ایک نظم لکھی اور اس نظم کوفیس بک ، انسٹا گرام ، ٹوئیٹر پر پوسٹ کردیا ۔پارول کھکر کی یہ نظم سوشل سائٹس پر اتنی مقبول ہوئی کہ ایک ہفتے میں ہی انکی گجراتی نظم کا ملک کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوگیا ۔گجراتی جاننے والے الیاس منصوری نے اس نظم کا ہندی میں ترجمہ کیا ہے ،قاریئن کی دلچسپی کے لیے ہندی نظم کے کچھ اشعار یہاں پیش کیے جارہے ہیں ۔

شو واہنی گنگا۔
ایک ساتھ سب مردے بولے سب کچھ چنگا چنگا
صاحب تمھارے رام راج میں شو واہنی گنگا
ختم ہوئے شمشان تمھارے ،ختم ہوئی کاشٹھ کی بوری
تھکے ہمارے کندھے سارے ،آنکھیں رہ گئیں کوری
در۔ در‘ جاکر یمدوت کھیلے
موت کا ناچ بے ڈھنگا
صاحب تمھارے رام راج میں شو واہنی گنگا
نت لگاتار جلتی چتائیں
راحت مانگیں پل بھر
نت لگاتار ٹوٹیں چوڑیاں
کُوٹتی چھاتی گھر گھر
دیکھ لپٹوں کو فِڈل بجاتے واہ ،رے ،رنگا بّلا
صاحب تمھارے رام راج میں شو واہنی گنگا
صاحب تمھارے دیویہ وستر،دیئے دیپ تمھاری جیوتی
کاش اصلیت لوگ سمجھتے ،ہوتم پتھر ،ناموتی
ہوہمت تو آکے بولو
’’میرا صاحب ننگا‘‘
صاحب تمھارے رام راج میں شو واہنی گنگا
۔۔۔۔۔۔۔۔پارول کھکر،مترجم الیاس منصوری

یہ محض نظم نہیں ہے یہ ان لاکھوں کروڑوں ہندوستانیوں کی آواز ہے جسے پارول کھکر نے لفظوں کا پیرہن عطا کیا ۔ نظم کیا ہے پوری طرح سے طنز کا استعارہ ہے ، برہمی کا بڑے سلیقے سے اظہار ہے ، نااہلی اور لچر سسٹم کی قلعی کھولی گئی ہے اور ایسے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا کوئی جواب موجودہ حکومت کے پاس نہیں ہے ۔ اس نظم میں وقت کے حکمراں کو ’’صاحب ‘‘ کے لقب سےمخاطب کیا گیا ہے اور وبا کے دوران جو ہولناک مناظر نظروں سے گزرے انھیں کڑیوں میں پرودیا گیا ہے ،اس استعاراتی نظم میں صاحب کے دبدبے اور اقتدار کے نشہ کو بھی اجاگر کیا گیا ساتھ ہی ان کے رہن سہن ٹھاٹھ باٹ اور زمینی حقائق کو اجاگر کیا گیا اس نظم کے ذریعے شاعرہ نے صاحب کا چولا بڑے سلیقے سے اتارا ہے ، اور یہ چلینج کیا کہ ہمت ہو تو حقائق کا سامنا کریں اور اپنی نااہلی کا اعتراف کریں کہ اس انسانی المیے میں بحیثیت سے حکومت وہ پوری طرح ناکام رہے ہیں ،’’فِڈل بجاتے رنگا بلا‘‘ سے کس کو تشبیہ دی گئی یہ اب کہنے کی ضرورت نہیں جو تاریخ پر نظر رکھتے ہیں وہ بہتر جانتے ہیں بہر حال اس نظم نے موجودہ حکومت کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ اور یہ تحفہ مودی حکومت مودی کے گڑھ گجرات سے ملا ہے ۔، اس نظم کی مقبولیت کا اندازہ ،اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ہیکہ جب پارول کھکر نے نظم کو فیس بک اور دوسرے سوشل پلیٹ فارموں پر پوسٹ کیا تو ٹرول آرمی نے اسے اتنا ٹرول کیا کہ پارول کھکر کو اپنے اکاؤنٹ پروائیوٹ کرنے پڑے ، سوشل میڈیا میں ایک طرح سے حمایت اور مخالفت کی جنگ چھڑ گئی ۔ اب ٹرول آرمی خود کو یہ جھوٹی تسلی دے رہی کہ نظم ہٹالی گئی ۔خود گجرات کے قلمکاروں نے پارول کھکر سے فاصلہ بنالیا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ صاحب ان سے بھی ناراض ہوجائیں ، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ مودی حکومت کو آئینہ دکھانے والوں کے لیے زمین تنگ کردی جاتی ہے ، ماضی میں بھی ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو مل چکی ہیں ، لیکن پارول کھکر کی جرات کو سلام کہ انھوں نے نہ اپنی نظم ہٹائی اور نہ ہی معذرت چاہی ۔ پہلے سے ہی سوشل پلیٹ فارمز کے تعلق سے تحفظات کا رویہ اختیار کرنے والی حکومت پر پارول کھکر کی یہ نظم بم ثابت ہوئی۔

یہی وجہ ہیکہ
حکومت نے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق سوشل میڈیا پلیٹ فارم، واٹس ایپ ، فیس بک اور انسٹاگرام کے علاوہ دیگر سوشل سائٹس کو قانونی دائرے کار میں لانے کے نام پر پابند کرنے اور اظہار رائے کی آزادی پر شب خون مارنے کی ناکام کوشش کی ، دراصل سوشل پلیٹ فارم آزادی اظہار کا بڑا وسیلہ ثابت ہورہے ہیں اور عوام کو جوچیز اخبارات اور چینلوں پر نظر نہیں آتی وہ سوشل سائٹس پر دستیاب ہے۔ حکومت کو آئینہ دکھانے میں بھی ان سائٹس کا کلیدی کردار رہا ہے اس لیے حکومت کو شروع سے ہی یہ پلیٹ فارم کھٹکھتے رہے ، اور حکومت چاہتی ہیکہ واٹس ایپ ، فیس بک ، انسٹا گرام جیسے پلیٹ فارم صارف کی سرگرمیوں کی جانکاری حکومت تک پہنچائیں وہ بھی ہر مہینے بلاناغہ۔ اب یہ معاملے عدالت تک پہنچ گیا ہے ، واٹس ایپ نے دہلی ہائی کورٹ میں حکومت کے نوٹس کو چلینج کردیا ہے آگے کیا ہوگا یہ کہنا دشوار ہے لیکن اظہار رائے کی آزادی پر کب شب خون لگ جائے یہ کہنا دشوار ہے ، کسی زمانے میں بی جے پی قد آور لیڈر کہلانے والے ایل کے اڈوانی نے کہا تھا کہ ہم غیر معلنہ ایمرجنسی کا سامنا کررہے ہیں ۔ انکی بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔(تحریر۔ شیخ اظہر الدین۔ اورنگ آباد،مہاراشٹر)azharuddinstf37686@gmail.com
