
مولانا شہوار حسین نقوی نے کہا کہ دنیا سے رخصت ہونے سے قبل مولا علی علیہ السلام نے جو وصیت کی تھی اگر اس پر انسان عمل کرے تو وہ انسان کامل بن سکتا ہے۔ امروہا میں جامعہ الھدا لائبریری میں اپنے ہفتہ واری لیکچر میں مولانا شہوار نے مولا علی کی وصیت کے حوالے سے گفتگو کی۔ مولانا شہوار نے کہا کہ بظاہر تو مولا علی کی وصیت اپنے فرزند امام حسن کے نام ہے لیکن در اصل یہ تمام افراد با لخصوص اپنے چاہنے والوں سے انکا خطاب ہے۔ مولا علی اس وقت بھی اپنے چاہنے والوں سے غافل نہیں رہے کہ جب وہ ابن ملجم کی زہر میں بجھی تلوار سے زخمی ہونے کے سبب بستر مرگ پر تھے۔مولانا شہوار نے مولا علی کی وصیت کے تمام بیس نکات کا تفصیل سے ذکر کیا۔مولا علی کی وصیت کا خلاصہ یہ ہیکہ کہ انسان کو تقوہ الہیٰ اختیار کرنا چاہئے۔یعنی ہمیشہ اللہ کا خوف اسکے دل میں رہنا چاہئے۔ دنیا کی چکا چوند سے متاثر نا ہو کر اس سے فاصلہ رکھنا چاہئے۔ہمیشہ حق بیانی سے کام لینا چاہئے۔ ظالم کو دشمن سمجھتے ہوئے ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دینا چاہئے۔ خواہشات نفسانی کی پیروی نہیں کرنی چاہئے۔انسان کو اپنی زندگی کے امور کو منظم رکھنا چاہئے۔آپسی اختلافات سے دور رہتے ہوئے محبت اور اخوت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ اس بات کا خیال رکھنا کہ تم بھر پیٹ کھانا کھا لو اور کوئی بھوکا رہ جائے۔ اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا اور انکے حقوق ادا کرتے رہنا۔ قرآن کے احکامات پر عمل کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ قرآن پر عمل کے معاملے میں تم دوسروں سے پیچھے رہ جاؤ.

مولانا شہوار نے کہا کہ مولا علی کی وصیت کے حوالے سے ہمیں اپنے اعمال اور کردار کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم ان پر کس حد تک عمل پیرا ہیں کہیں ایسا تو نہیں ہے انکی وصیت کا ہماری عملی زندگی سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہو۔

