
مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کے بارے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے انچارج جنرل سیکریٹری خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک اہم بیان دیا ہے۔ انکا کہنا ہیکہ اگر ایک محلہ میں کئی مسجدیں ہوں تو ایک بڑی مسجد میں بیرونی مائک پر اذان دی جائے، اور اس میں بھی خیال رکھا جائے کہ آواز بہت تیز نہ ہو، بس اتنی ہو کہ پڑوس کے لوگوں تک پہنچ جائے، بقیہ مسجدوں میں اذان اندرونی مائک میں دی جائے، یا مسجد کے باہر بغیر مائک کے دی جائے۔

سیف اللہ رحمانی کا کہنا ہیکہ اسپیکر کی سیٹنگ میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بیرونی مائک کا رُخ غیر مسلم آبادی یا اسپتالوں کی طرف نا ہو، تاکہ یہ دوسروں کے لئے تکلیف کا سبب نہ بنے۔مسجدوں میں ہونے والے بیانات، قرآن مجید کا درس، حدیث شریف کا درس، تلاوت، جہری نمازوں کی قرأت کو مسجد کے اندرونی مائک میں ہونا چاہئے، ان امور کو مسجد کے بیرونی مائک میں انجام دینا کراہت سے خالی نہیں؛ کیوں کہ اس سے قرآن مجید اور دینی باتوں کی بے احترامی ہوتی ہے۔ خالد سیف اللہ رحمانی نے اذان کی مخالفت کے پس منظر میں کہا کہ اگرچہ ہمیں فرقہ پرستوں کی اذان کے خلاف یورش کا مقابلہ کرنا چاہئے؛ لیکن اسلامی تعلیمات کے مطابق خود بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارا عمل اعتدال پر مبنی ہو۔۔
