qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

تو مری اردو زباں کا بولتا قرآن ہے۔ میر انیس کو خراج عقیدت

میر انیس کا اردو پر احسان  ہیکہ انہوں نے ایسے معرکتہ الارا مراثی نظم کئے  جو عالمی ادب میں اردو زبان کا دبدبہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اگر  میرانیس کے مراثی کو اردو کے دامن سے ہٹا لیا جائے تو اس میں مطالعہ لائق کچھ بچے گا نہیں۔ ان خیالات کا اظہار امروہا میں میر انیس کی ایک سو پچاسویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک سیمنار میں کیا گیا۔ فیض آباد میں سن اٹھارہ سو میں پیدا ہونے والے میر انیس کی وفات دس دسمبر سن اٹھارہ سو چوہتر کو لکھنؤ می ہوئی تھی۔  پوری اردو دنیا میں میر انیس کی ایک سو پچاسویں برسی کے موقع پرمختلف پروگراموں کے ذریعے انہیں  خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔

امروہا کے قدیم تعلیمی ادارے امام المدارس انٹر کالج(آئی ایم انٹر کالج) میں منعقدہ سیمنار میں مہمان خصوصی کے طور پر ہاشمی گروپ آف کالیجیز کے چیٗر مین  ڈاکٹر سراج الدین ہاشمی  موجود تھے جبکہ  اسکی صدارت ڈاکٹر ناشر نقوی نے کی۔ اسٹیج پرآئی ایم کالج کے پرنسپل ڈٓکٹر جمشید کمال، وائس پرنسپل ڈاکٹر احسن اختر سروش،  شان حیدر بے باک، ڈاکٹر لاڈلے رہبر ، حسن بن علی، ولایت علی اور اے کے انٹر کالج کے پرنسپل عدیل عباسی موجود تھے۔

میر انیس حیدر آباد کی عنایت جنگ حویلی میں مرثیہ پیش کرتے ہوئے

ڈاکٹر ا حسن اختر سروش، ڈاکٹر مصباح صدیقی، ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر ناصر پرویز ،حسن امام، شیبان قادری اور تاجدار امروہوی نے میر انیس کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی  ڈالنے والے مقالے پیش کئے جبکہ بےباک امروہوی، مرزا ساجد، لیاقت امروہوی، لاڈ لے رہبر اور ارمان ساحل نے میر انیس  کی زمینوں میں کلام پیش کیا۔بیشتر مقالے میر انیس کی غزلیہ شاعری پر تھے جبکہ ڈاکٹر احسن اختر نے فرذدق ہند شمیم امروہوی کے کلام پر انیس کے اثرات اور حسن امام نے میر انیس کے مراثی میں جذبات و کیفیات اور ڈاکٹر مبارک نےمیر انیس کی رباعیہ شاعری پر  مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر جمشید کمال  نے میر انیس کو شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی   کا منظوم خراج عقیدت اپنے مخصوص انداز میں پیش کیا۔

بقول جوش کے

اے دیار لفظ و معنی کے رئیس ابن رئیس

اے امین کربلا باطل شکار و حق نویس

ناظم کرسی نشیں و شاعر یذداں جلیس

عظمت آل محمد کے مورخ اے انیس

 تیری ہر موج نفس روح الامیں کی جان ہے

تو مری اردو زباں کا بولتا قرآن ہے

 سیمنار میں اس بات پر بھی فخرظاہر کیا گیا کہ میر انیس کے والد میر خلیق مصحفی امروہوی  کے شاگرد تھے۔سیمنار کےحوالے سے ڈاکٹر ناشر نقوی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ یہ سمینار میر انیس کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف تو ہے ہی امروہا کے نوجوان قلمکاروں کی  تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا  وسیلہ بھی ثابت ہوا۔سیمنار کی نظامت ڈاکٹر چندن نقوی نے کی۔اسکا اہتمام آئی ایم کالج کی منتظمہ کمیٹی اور اسٹاف نے کیا تھا۔

Related posts

فلسطینی وزیر خارجہ کا سرحدی اجازت نامہ اسرائیل نے ضبط کرلیا

qaumikhabrein

کلب صادق کی شخصیت پر کتاب کی رسم اجرا

qaumikhabrein

گورنر عارف خاں کے ہاتھوں ڈاکٹر مہتاب کی کتاب کا اجرا

qaumikhabrein

Leave a Comment