qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اسرائیل میں مذہبی رسومات کے نام پر جنسی استحصال۔

اسرائیل صرف فلسطنیوں پر مظالم ڈھانے کے معاملے میں ہی بد نام نہیں بلکہ اسرائیلی اخبارات کی کچھ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہیکہ  اسرائلی معاشرہ اندر سے سڑ گل چکا ہے۔ اسرائیلی معاشرے میں مذہبی رسومات کے نام پر خواتین اور لڑکیوں کو جنسی استحصال کا شکار بنایا جاتا ہے۔۔ یہ الزامات نہ صرف معاشرے کے لیے چونکا دینے والے ہیں بلکہ انہوں نے مذہبی اداروں، سیاسی شخصیات، اور حتیٰ کہ حکومتی ڈھانچوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

رپورٹس کا پس منظر

اخبار اسرائل ہیوم کی (23 اپریل 2025) کی ایک رپورٹ کے مطابق، متعدد خواتین نے اپنی شہادتوں میں انکشاف کیا کہ الٹرا آرتھوڈوکس اور مذہبی صیہونی کمیونٹیز میں بچپن میں ان کا جنسی استحصال کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بدسلوکی “مذہبی رسومات” کے نام پر کی گئی، جن میں منظم طور پر خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض اوقات یہ اعمال خاندان کے افراد، مذہبی رہنماؤں، اور حتیٰ کہ اعلیٰ حکومتی شخصیات کی موجودگی میں انجام پائے۔اسی طرح، Haaretz (5 جون 2025) نے رپورٹ کیا کہ کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے ایک خصوصی اجلاس میں کئی خواتین نے اپنے تلخ تجربات بیان کیے۔ ان شہادتوں میں “سوڈسٹک جنسی رسومات” کا ذکر تھا، جن کا مقصد مذہبی یا روحانی اہمیت کو جواز بنانا تھا۔ ان خواتین نے الزام لگایا کہ ان واقعات میں ڈاکٹرز، ایجوکیٹرز، پولیس افسران، اور کنیسٹ کے موجودہ اور سابقہ ارکان ملوث تھے۔ Jerusalem Post (3 جون 2025) نے بھی اسی طرح کی شہادتوں کا حوالہ دیا، جن میں متاثرین نے بتایا کہ ہزاروں لڑکیاں ایسی رسومات کے نام پر عصمت دری کا شکار ہوئیں۔

الزامات کی نوعیت

ان رپورٹس میں بیان کردہ الزامات انتہائی سنگین ہیں۔ متاثرین نے دعویٰ کیا کہ انہیں بچپن سے ہی ایسی تقریبات میں شامل کیا گیا جن میں جنسی استحصال کو مذہبی یا روحانی جواز کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ کچھ خواتین نے بتایا کہ انہیں خاموش رہنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں، جبکہ دیگر نے کہا کہ ان کے گھر والوں نے ان کی شکایات کو نظر انداز کیا یا انہیں دبانے کی کوشش کی۔ ان رپورٹس کے مطابق، یہ اعمال نہ صرف الٹرا آرتھوڈوکس کمیونٹیز تک محدود تھے بلکہ بعض دیگر مذہبی گروہوں اور حتیٰ کہ سیکولر اداروں میں بھی پھیلے ہوئے تھے۔

تحقیقات اور چیلنجز

ان رپورٹوں کے بعد اسرائیلی پولیس نے کئی معاملات کی تحقیقات شروع کی ہے۔ تاہم، Haaretz کی رپورٹ کے مطابق، ٹھوس ثبوتوں کی کمی اور متاثرین کی طرف سے خاموشی اختیار کرنے کی وجہ سے مقدمات درج کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ کچھ معاملات میں، متاثرین کو سماجی دباؤ یا دھمکیوں کی وجہ سے اپنی شہادتیں واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔

معاشرتی اور قانونی اثرات

یہ رپورٹس اسرائیلی معاشرے  کے اندر سے  گلنے اور سڑنے کا ثبوت ہیں۔ کچھ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی اداروں اور حکومتی ڈھانچوں میں اصلاحات کی جائیں تاکہ ایسی بدسلوکی کو روکا جا سکے۔ دوسری طرف، کچھ مذہبی رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “مذہب کے خلاف سازش” قرار دیا ہے۔ Israel Hayom نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ بعض متاثرین نے اپنی شکایات کو منظر عام پر لانے کے بعد سماجی بائیکاٹ اور دھمکیوں کا سامنا کیا۔اسرائل نے جس طرح ظلم و ستم کو اپنی پالیسی کے طور پر اختیار کیا ہے  اورجس طرح سے اسکا معاشرہ سڑ چکا ہے، اسکی وجہ سے اس ناجائز ملک کی عمر بہت زیادہ ہونے والی نہیں ہے۔ 

Related posts

آکسیجن کا بندوبست کرنا سرکار کی ذمہ داری۔ دہلی ہائی کورٹ۔

qaumikhabrein

اسرائلی جیلوں میں مرنے والے فلسطینی قیدیوں کی لاشیں بھہ ورثا کو نہیں دی جاتیں۔

qaumikhabrein

عشرہ اربعین کے ذاکرین کے اعزاز میں استقبالیہ

qaumikhabrein

Leave a Comment