
مولا علی کی ولایت کے اعلان کا واقعہ تمام مسالک کی اہم کتابوں میں اتنے تواتر کے ساتھ نقل ہوا ہیکہ واقعہ سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن منافقین نے واقعہ کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہوئے مولا کے معنیٰ میں مغالطے پیدا کردئے۔عید غدیر کے عنوان سے امروہا میں ایک سمپو زیم سے خطاب کرتے ہوئے خطیبوں نے کہا کہ منافق ذہنیت کے لوگوں نے مولا کے معنی دوست بتا کر مولا علی کی منزلت کو بھی گھٹانے کی مزموم کوشش کی اور واقعہ کی اہمیت کو بھی کم کیا۔ عزا خانہ مسماۃ صغرن میں منعقدہ اس سمپوزیم سے جشن غدیر کی تقریبات کا آغاز ہوا۔ سمپوزیم مولانا ڈاکٹر احسن اختر سروش کی صدارت میں ہوا جس میں شاعر اور آئی ایم انٹر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر جمشید کمال، معروف شاعر ،محقق اور اردو مصنف ڈاکٹر ناشر نقوی مولانا ڈاکٹر کوثر مجتبیٰ اور مولانا ڈاکٹر شہوار نقوی نے واقعہ غدیر پر مختلف انداز سے روشنی ڈالی ۔ جمشید کمال نے وہاں موجود طلبا و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولا علی شخصیت کا نمایاں اور غالب پہلو علم ہے۔ علم ہی کی بدولت زندگی میں ترقی حاصل کی جاسکتی ہے۔مولا علی کے بقول علم ایسی دولت ہے جسکو خرچ کرنے سے اس میں اور اضافہ ہوتا ہے۔ علم انسان کی حفاظت کرتا ہے۔

مولانا کوثر مجتبیٰ نے قرآن اور واقعات کے حوالے سے اعلان ولایت کی اہمیت کو واضح کیا۔انہوں نے کہا کہ اس اعلان کے حوالے سے اللہ نے رسول سے سخت لہجے میں گفتگو کی۔ جس سے اس اعلان کی اہمیت ثابت ہوتی ہے۔ مولانا شہوار نقوی نے مولا کے لغوی معنی پر بحث کرتے ہوئے منافقین کے اس دعوے کو باطل کیا کہ مولا کے معنی دوست کے ہیں۔
سپموزیم کی صدارت کرتے ہوئے مولانا احسن اختر سروش نے بھی واقعہ غدیر کے مختلف پہلو بیان کئے۔ اس موقع پر سپموزیم کی اہتمام کار انجمن بنی ہاشم کے ان فرزندان اور دختران کو انعامات سے نوازہ گیا جنہوں نے امتحانات میں امتیازی نمبر حاصل کئے ہیں۔سمپوزیم کے مقررین کو سند شرکت بھی پیش کی گئی۔

