qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

اردو درس و تدریس کی تاریخ میں سنگ میل۔

ایک طرف جہاں ملک میں  اردو اور مسلمانوں کے تئیں حکومت کے رویہ حوصلہ شکن ہے وہیں ایسی خبریں بھی سننے کو مل جاتی ہیں کہ جو دل کو سکون بخشتی ہیں۔ دل کو سکون بخشنے والی ایسی ہی خبر پروفیسر عباس رضا نیّر جلالپوری کو ‘سینئر پروفیسر’بنائے جانے سے متعلق ہے۔لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے سربراہ، شاعر ادیب ، نقاد پروفیسر عباس رضا نیّر جلالپوری کو ‘سینئر پروفیسر’ مقرر کیا جانا اردو درس و تدریس کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔پروفیسر عباس رضا نیر اردو درس و تدریس  میں پہلے ایسے استاد ہیں جنہیں سینئر پروفیسر بنایا گیا ہے۔

اردو ادب کی دنیا میں ایک معتبر، جلیل القدر ماہرِ تعلیم اور پالیسی ساز کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے پہچانے جانے والے پروفیسر عباس رضا نیّر کا تعلیمی سفر ہمیشہ سے ہی مثالی رہا ہے، اور انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی ہی سے پی ایچ ڈی (Ph.D.) کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تدریسی سفر 13 جولائی 1999ء کو روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی سے ملحقہ مہاراجہ ہریش چندر پی جی کالج سے بطور لکچرار شروع ہوا تھا، جس کے بعد وہ لکھنؤ یونیورسٹی میں تعینات ہوئے اور اپنی علمی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ترقی کرتے ہوئے صدرِ شعبہ مقرر ہوئے۔ ان کا علمی و تحقیقی سرمایہ انتہائی وسیع ہے؛ اب تک تنقید، ناول اور شاعری جیسے متنوع موضوعات پر ان کی کم و بیش 50 گراں قدر کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں، جبکہ قومی اور بین الاقوامی سطح کے نامور جرائد میں ان کے 100 سے زائد مضامین اور تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔

پروفیسر عباس رضا نیر کو اس اعلیٰ اور باوقار منصب پر فائز کیے جانے پر اردو حلقوں میں مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔شہر ادب امروہہ کی ادبی و ثقافتی تنظیم ’کاروانِ خلوص‘ نےپروفیسر عباس رضا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔۔ عصر حاضر میں پروفیسر عباس رضا نیّر جلالپوری یہ منفرد اور عظیم الشان اعزاز حاصل کرنے والے اردو دنیا کے پہلے استاد بن گئے ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری اردو برادری، اساتذہ اور اہلِ علم کے لیے ایک انتہائی پر مسرت اور باعثِ فخر لمحہ ہے۔ کاروانِ خلوص کی جانب سے جاری ایک بیان میں انکی اس تاریخی تقرری پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ یہ غیر معمولی اعزاز پروفیسر نیّر کی برسوں پر محیط بے لوث تدریسی، تحقیقی اور علمی خدمات کا ایک روشن اعتراف ہے۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کی ترویج میں جو تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے، وہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

پروفیسر عباس رضا نیّر کی ادبی و تنقیدی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد معزز ترین ملکی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان اعزازات میں حکومتِ اتر پردیش کا مایہ ناز ‘یش بھارتی سمان (2016)’، ‘عالمی میر انیس ایوارڈ’، ہندوستان سماچار سوسائٹی کا ‘بھاشا سمان (2016)’، ہیومن ویلفیئر سوسائٹی فرینکفرٹ (جرمنی) کا ‘آل انڈیا اقبال انٹرنیشنل ایوارڈ (2016)’، ‘اردو انجمن ایوارڈ برلن (جرمنی)’ اور نئی دہلی کا ‘انٹرنیشنل رثائی ادب ایوارڈ (2014)’ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مختلف ریاستی حکومتوں اور تعلیمی سوسائٹیوں کی جانب سے بھی انہیں  درجنوں انعامات پیشکئے جا چکے ہیں۔ ۔

پروفیسر عباس رضا نیر ایک بہترین مقرر اور دانشور کے طور پر آل انڈیا ریڈیو، دوردرشن اور ریڈیو آسٹریلیا پر بھی مسلسل مباحثوں اور ادبی پروگراموں کا معتبر حصہ بنتے رہے ہیں۔  اردو حخقوں میں امید کی جارہی ہیکہ عباس رضا نیر کے بعدیو جی سی کے نئے ضابطے کے مطابق مختلف یونیورسٹیز سے وابستہ دیگراردو اساتزہ بھی اس عہدے پر فائز ہونگے۔

Related posts

ساٹھ ملکوں کے لوگ پہونچے شہید سلیمانی کی قبر پر.

qaumikhabrein

الٹراسانک میزائل تجربے میں امریکہ تیسری بار ناکام۔

qaumikhabrein

ایودھیا میں نظر آئی امید کی کرن۔۔تحریر سراج نقوی

qaumikhabrein

Leave a Comment