qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

شہید رہبرِ اسلامی کی تشیع و تدفین کی تیاریاں

عالم تشیع کی عظیم شخصیت شہید آیت اللہ  خامنہ ای کی تدفین بھی عظیم المرتبت طریقے سے انجام دی جائےگی۔   شہید رہبر کی تدفین تو نو جولائی کو مشہد میں امام رضا کے  روضہ اطہر کے احاطے میں ہو گی لیکن تشیع جنازہ  عراق کے دو شہروں اور ایران کے دو شہروں میں ہو گی۔تاکہ زیادہ سے زیادہ مومنین شہید رہبر کو  خراج عقیدت ؛پیش کرسکیں۔

ایران اور عالمِ اسلام ایک ایسے تاریخی اور دل خراش مرحلے سے گزر رہے ہیں جس کی مثال حالیہ دہائیوں میں نہیں ملتی۔ رہبرِ شہید انقلاب اسلامی، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے جسدِ مطہر کی تشییع، وداع اور تدفین کے سلسلے میں ایران اور عراق بھر میں غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں، اور دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکام اور عوام کی بڑی تعداد ان مراسم میں شرکت کے لیے پہنچ رہی ہے۔عزائی تقریب کے ترجمان ایمان عطارزادہ کا کہنا ہیکہ  تقریباً 40 ممالک کے سربراہانِ مملکت، اعلیٰ سطحی وفود اور نمایاں شخصیات رہبرِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تہران پہنچ رہی ہیں۔۔

شہید رہبر کی تشیع جنازہ اور تدفین کے پروگرام کے مطابق 4 جولائی بروز ہفتہ صبح 6 بجے سے تہران کا مصلہ امام خمینی چوبیس گھنٹے کے لیے عزاداروں کی حاضری کے لیے کھول دیا جائے گا، جہاں تلاوتِ قرآن، نوحہ خوانی اور شعر خوانی سمیت مختلف عزائی پروگرام ہوں گے۔8 جولائی بروز بدھ عراق میں ان کا جسدِ مطہر نجف میں حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام اور کربلا میں  حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے روضوں پر حاضری دے گا۔جس گاڑی پر شہید رہبر کے جسد مقدس کو رکھا جائےگا وہ امام رضا کے روضے کی شبیہ کی شکل میں تیار کی گئی ہے۔نجف اور کربلا میں تشیع جنازہ کا اہتمام عراقی عوام، علماء، قبائل اور عشائر کی جانب سے ا کی جانے والی درخواستوں کے پیشِ نظر کیا جائے گا۔رہبر انقلاب نے 69 برس قبل نجف اور کربلا کی زیارت کی تھی۔

مکمل شیڈول کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو تہران کے مصلائے امام خمینی میں الوداعی تقریبات ہوں گی، 6 جولائی کو تہران میں تشییع کا مرکزی پروگرام رکھا گیا ہے، 7 جولائی کو شہر قم میں تشییع ہوگی، 8 جولائی کو نجف اور کربلا میں مراسم منعقد ہوں گے، جبکہ 9 جولائی بروز جمعرات، شبِ شہادت امام سجاد علیہ السلام کے موقع پر مشہد میں تشییع اور حرمِ رضوی میں تدفین عمل میں لائی جائے گی۔ اس المناک موقع پر رہبرِ شہید کے ہمراہ ان کے خاندان کے چار شہداء، ڈاکٹر مصباح الہدیٰ باقری، بشریٰ سادات خامنہ ای، زہرا حداد عادل اور زہرا محمدی گلپائیگانی کی بھی تدفین کی جائے گی۔ تمام مراسم کی نگرانی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے سپرد کی گئی ہے۔

تہران میونسپلٹی کے نائب سربراہ توکلی زاده نے بتایا کہ تہران میں مرکزی تشییع کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہے گی، اور اس عظیم اجتماع میں 15 سے 20 ملین افراد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کے مطابق رہبرِ شہید کی تدفین ان کی وصیت اور اہلِ خانہ کی خواہش کے مطابق روضۂ امام رضا علیہ السلام میں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مشہد میں پاکستان، افغانستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش سمیت ہمسایہ ممالک سے بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد متوقع  ہے ۔ بڑی تعداد میں  سوگوار زائرین کی آمد کے پیشِ نظر ایران بھر میں رہائش، خوراک اور طبی سہولیات کے وسیع انتظامات کئے گئے ہیں۔ صوبہ قم میں گرمی کے موسم کے پیشِ نظر ٹھنڈے پانی کی فراہمی کے لیے ریفریجریٹر گاڑیاں تعینات کی جا رہی ہیں، جبکہ اسکولوں، مساجد، دینی مدارس اور حوزوی مراکز کو زائرین کی رہائش کے لیے تیار کر دیا گیا ہے۔ عارضی بیت الخلا، طبی امدادی مراکز اور خصوصی ٹریفک پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے تاکہ آمدورفت میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

تہران ہوٹل ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد علی فرخ مہر نے اعلان کیا کہ صوبہ تہران کے تمام ہوٹل اور رہائشی مراکز جمعہ سے منگل تک زائرین کو 50 فیصد رعایت کے ساتھ رہائش فراہم کریں گے تاکہ رہائش کے اخراجات کسی کی شرکت میں رکاوٹ نہ بنیں۔ سرکاری اندازوں کے مطابق 4 سے 9 جولائی تک تہران، قم، مشہد اور عراق میں منعقد ہونے والیعزائی رسومات میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے۔ صوبہ قم میں تقریباً 8 لاکھ 22 ہزار افراد کے قیام کی گنجائش پیدا کی گئی ہے، جس میں ہوٹلوں کے 14 ہزار بستر اور خصوصی مہمانوں کے لیے مزید 2 ہزار بستر شامل ہیں۔ اسی طرح صوبہ خراسان رضوی میں تقریباً 15 لاکھ افراد کی رہائش کی گنجائش پیدا کی جا چکی ہے، جس میں تقریباً 7 ہزار مقامات کو رہائش کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

یہ تمام انتظامات محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قوم کے اجتماعی جذبۂ عقیدت کا مظہر ہیں۔ حکومتی اداروں، نجی شعبے اور عوامی تنظیموں کا یوں ایک ساتھ متحرک ہو جانا اس بات کی گواہی ہے کہ رہبرِ شہید کی رحلت نے پورے ایران بلکہ عالمِ تشیع کو ایک ایسے قومی اور مذہبی سوگ میں مبتلا کر دیا ہے جس کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔

Related posts

دوبئی میں کسوٹی جدید کا پچاس واں ادبی اجلاس

qaumikhabrein

میرٹھ۔عشرہ تحت اللفظ۔ حسن جانسٹھی انعام سے سرفراز

qaumikhabrein

اسرائلی فوجیوں نے فلسطینی سمجھ کر اپنے ہی افسروں کو مارڈالا۔

qaumikhabrein

Leave a Comment