qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امام رضا کی زیارت نے علم فلکیات کا راز کھولا۔

آئمہ معصومین کی زیارتیں اور دعائیں محض عقیدت کا سمندر نہیں  ہوتی ہیں بلکہ بعض اماموں کی زیارتوں اور دعاؤں سے کائنات  کے اہم راز افشا ہوتے ہیں۔ امام رضائے غریب کی شہادت کے سلسلے میں منعقدہ ایک مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے  ذاکر و شاعر اہل بیت مولانا کاظم مہدی عروج جونپوری نے امام رضا کی ریارت میں استعمال امام کے ایک لقب ‘شمس الشموس’ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب سے پچاس ساٹھ برس پہلے تک دنیا یہی سمجھتی تھی کہ کائنات میں صرف ایک ہی سورج ہے لیکن امام رضا کو ‘شمس الشموس یعنی سورجوں کے سورج کہکر علم فلکیات کے اس راز کو افشا کیا گیا کہ  نظام شمسی میں صرف ایک سورج نہیں ہے بلکہ سیکڑوں سورج موجود ہیں۔  سائنس اس بات کی تصدیق  کرتی ہیکہ نظام شمسی سیکڑوں سورجوں سے مزین ہے۔

مولانا کاظم مہدی عروج جونپوری

امام رضا کی شہادت کے عنوان سے منعقدہ اس مجلس میں مولانا عروج  جونپوری نے شیعہ معاشرے میں سورہ یاسین کے تعلق سے موجود غلط رواج پر بھی نکتہ چینی کی۔ مولانا نے سورہ یاسین کو ایسا مظلوم سورہ بتایا جو یا تو مردے کے سرہانے پڑھا جاتا ہے یا حالت نزہ سے گزر رہے فرد  کے پاس بیٹھ کر پڑھا جاتا ہے۔ مولانا کاظم مہدی نے  کہا کہ سورہ یاسین  کو آئمہ  نے قرآن کا قلب قرار دیا ہے۔ اور ہمارے  معاشرے نے اس سورہ کو موت کا سورہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن حیات کا ضامن ہے موت کا نہیں۔

امام رضا کی شہادت کے سلسلے میں  اس مجلس کا اہتمام محلہ قاضی گلی کے عزا خانہ مسماۃ چھجی میں کیا گیا تھا۔ بعد مجلس امام رضا کے تابوت کی شبیہ برامد کی گئی ۔ شہر کی ماتمی انجمنوں نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعے  امام زمانہ عج  کی خدمت میں  انکے جد امام رضا  کی شہادت کا پرسہ پیش کیا۔مجلس میں مرثیہ محمد اصغر اور انکے ہمنواؤں نے پیش کیا۔

مشہد مقدس میں امام رضا کا روضہ

 امام رضا کی ولادت گیارہ ذیقعدہ سن 148 ہجری میں مدینہ میں ہوئی تھی۔ خلیفہ ہارون رشید کے بیٹے مامون نے زبردستی امام کو خراسان بلایا۔عباسی خلیفہ مامون نے  اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کے تحت امام کو اپنا ولی عہد  نامزد کیا۔  اس مقصد کے پس پردہ سیاست اس امر سے ہی ظاہر ہے کہ امام رضا خلیفہ مامون سے بائیس برس بڑے تھےاور ولی عہد  اپنے سے  کم عمر کے فرد کو بنایا جاتا ہے۔ لیکن امام کی فراست اور دانش مندی کے سبب مامون اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس نے زہر دیکر امام کو شہید کردیا۔ امام رضا صفر المظفر کے آخری روز سن  203 ہجری میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔  شہادت کے وقت انکی عمر 54 برس اور انکی ولی عہدی کی عمر ڈیڑھ برس تھی۔ انہیں  ایران کے شہر مشہد میں دفن کیا گیا۔ اس زمانہ میں مشہد   طوس کے نام سے مشہور تھا۔اس مناسبت سے انہیں شہید طوس بھی کہا جاتا ہے۔

Related posts

رمضان المبارک میں رعایت دینے کا مطالبہ۔

qaumikhabrein

اربعین کے لئے زیادہ غیر ملکی زائرین کو ویزا دینے کا فیصلہ۔

qaumikhabrein

ورکنگ جرنلسٹ کلب کے نئے عہدیداران کا انتخاب

qaumikhabrein

Leave a Comment