qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

ناشر نقوی کی ایک اور تصنیف منظر عام پر ۔

اردو  کے ناقد، محقق، شاعر، مرثیہ گو اور ناظم ڈاکٹر ناشر نقوی کی نئی تصنیف ‘مرثیہ اور مرثیے ‘ کی رسم اجرا دہلی میں انجام پائی۔  انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں  عالمی مرثیہ سینٹر کے زیر اہتمام  ‘پیام زینب’ کے عنوان سے ایک پروگرام ہوا، جس میں ڈاکٹر ناشر نقوی کی نئی تصنیف ‘مرثیہ اور مرثیے’ کی رسم اجرا انجام پائی۔ تقریب کی صدارت الہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس قمر رضوی نے کی  جبکہ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے عالمی مرثیہ سینٹر کے چیر مین  ناصر علی، لیفٹینٹ جنرل عطا حسین، لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر نیر جلال پوری اور کاروان خلوص امروہا کے صدر محبوب زیدی نے شرکت کی۔

نیر جلال پوری نے تقریب کی نظامت بھی کی اور فن مرثیہ گوئی پر اظہار خیال بھی کیا۔ عالمی مرثیہ سینٹر کے چیئر مین ناصر علی نے ناشر نقوی کی کتاب کی خصوصیات کا ذکر  بھی کیا اور واقعہ کربلا کے عالمی ادب  کی مختلف اصناف پر مرتب ہونے والے اثرات کا بھی تذکرہ کیا۔مہمان خصوصی قمر رضوی نے بھی اس موقع پر واقعہ کربلا کے انسانی زندگی اور معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات پر روشنی ڈالی۔۔ ناشر نقوی اب تک چودہ مراثی نظم کر چکے ہیں۔ نوتصنیف شدہ کتاب میں انکے نظم کردہ بارہ مراثی شامل ہیں اور فن مرثیہ گوئی کے حوالے سے  ایک مبسوط تحریر بھی شامل کتاب ہے

یہ شکوہ کیا جاتا ہیکہ اردو  ادبی دنیا میں مرثیہ   پر تحقیقی کام بھی ہورہا ہے اور تنقیدی کام بھی خوب ہو رہا ہے لیکن مرثیہ تخلیق کرنے والے معدود چند شعرا ہیں۔  لیکن ادبی سرزمین امروہا اس شکوے سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ امروہا میں مراثی تخلیق بھی ہو رہے ہیں۔ تحت اللفظ مرثیہ خوانی کے ذریعے انکی ترویج  بھی ہو رہی ہے۔  امروہا میں تحت اللفظ مرثیہ خوانی بھی رواج پا رہی  اور نئے مرثیہ نگار بھی منصہ شہود پر آرہے ہیں۔ استاد شعرا میں جہاں ناشر نقوی اور شان حیدر بے باک جیسے شعرا مراثی نظم کر رہے ہیں وہیں وسیم امروہوی، حسنین امروہوی، پیمبر امروہوی اور سلیم امروہوی جیسے نوجوان شعرا  جدید طرز کے مراثی نظم کررہے ہیں۔

15 جولائی 1956 کو پیدا ہونے ولے ناشر نقوی کا تعلق امروہہ کے ایک نہایت با عزت اور تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ ان کا سلسلہ نسب کراماتی بزرگ سید حسین شرف الدین شاہ ولایت کے واسطے سے امام علی نقی تک پہنچتا ہے۔ ان کے والد سید ناظر حسین اردو، عربی اور فارسی کے عالم تھے۔ قادر الکلام شاعر تھے۔ ناشر نقوی کی اب تک 30 تخلیقات منظر عام پر آچکی ہیں جن میں 20 ان کی طبع زاد تخلیقات ہیں اور 10 کتابوں کے وہ مرتب ہیں۔ وہ ابتک چودہ مراثی نظم کر چکے ہیں۔ 300  سے زیادہ غزلیں، درجنوں قطعات اور متعدد نظمیں اور نغمے  بھی انکے شعری سرمایہ میں شامل ہیں۔  ناشر نقوی اس وقت بین الاقوامی پلیٹ فارم پر امروہہ کی نمائندگی کرنے والوں میں ایک نمایاں نام ہے۔

Related posts

کسانوں کا بارہ گھنٹے کا بند۔ حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش

qaumikhabrein

سرسید احمد کی علمی اور ادبی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

qaumikhabrein

عید غدیر پر پینٹنگ مقابلہ۔

qaumikhabrein

Leave a Comment