
ایران گزشتہ چالیس برس سے عالمی پابندیوں کی زد میں ہے۔ ایک برس کے اندر وہ دوسری مرتبہ امریکہ اور اسرائل کے حملوں کا مقابلہ کررہا ہے۔ امریکہ اور اسرائل کے مشترکہ حملوں میں رہبر اعلیٰآیت اللہ سید علی خامنہ ای، انکے متعدد اہل خانہ اور دیگر کئی حکام سمیت سیکڑوں مرد و خواتین اور بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بڑے پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے لیکن جہاں ایک طرف ایرانی حکومت جارح اور باطل طاقتوں کے آگے سر خم کرنے کو تیار نہیں ہے وہیں صنف نازک کہی جانے والی خواتین بھی جوش اور ولولے میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ ایرانی خواتین کے اندر ایثار اور قربانی کاجزبہ بھرا ہوا ہے۔وہ اپنے عزیزوں کے شہید ہونے سے گھبرا نہیں رہی ہیں۔ بلکہ وہ اپنے پیاروں کی شہادت پر احساس فخر و سرفرازی سے سرشارنظر آرہی ہیں۔

ضعیفوں سے لیکر جوانوں اور لڑکیوں سے لیکر خواتین تک کے اندر قربانی اور ایثار کا جزبہ موجزن ہے۔ایرانی قوم کے اس جزبہ قربانی کے ڈانڈے سر زمین کربلا سے جا کر ملتے ہیں۔کربلا کی خواتین نے حق کی راہ میں قربانی کے ایسے نمونے پیش کئے ہیں جنکی مثالیں دنیا میں کہیں نظر نہیں آتیں۔ ایران کی خواتین کربلا کی خواتین کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ وہاں جب کسی خاتون کے شہید ہونے والے شوہر کی میت آتی ہے تو وہ خاتون گریہ و زاری اور ماتم و نوحہ خوانی کے بجائے اس فخر کا اظہار کرتی ہے کہ اسے ایک شہید کی ذوجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔وہ اپنے شوہر کی میت پر بین کرنے کے بجائے کہتی ہیکہ وہ اس بات سے خوش ہیکہ اسکے شوہر نے حق کی راہ میں قربان ہو کر اسے سرفراز کیا۔وہ جوش اور ولولے کے ساتھ کہتی ہیکہ وہ حق کی راہ میں اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہے۔
