
چند روز قبل جرمنی کے چانسلر نے کہا تھا کہ ایرانی قیادت ٹرمپ کو ذلیل کر رہی ہے۔” کہتے ہیں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے — خاص طور پر جب وہ دوست کی زبان سے نکلے۔ جرمنی کے چانسلر نے چند روز قبل وہ بات کہی جو شاید کئی عالمی رہنما سوچ تو رہے تھے مگر زبان پر لانے کی ہمت نہ کر رہے تھے: ایرانی قیادت ٹرمپ کو ذلیل کر رہی ہے۔ ٹرمپ کو اس پر سخت غصہ آیا — وہی ٹرمپ جو خود کو “دنیا کا سب سے طاقتور آدمی” سمجھتے ہیں۔ لیکن غصہ کرنا اور بات غلط ہونا — یہ دو الگ چیزیں ہیں۔ اور 27 اپریل 2026 کو اقوام متحدہ نے اس سچ پر مہر ثبت کر دی۔

اقوام متحدہ کا “تھپڑ” — ایران نائب صدر منتخب
27 اپریل 2026 کو اقوام متحدہ میں وہ ہوا جو واشنگٹن کے کسی سرکاری دفتر میں ہضم نہیں ہوا ہوگا۔ ایران — جی ہاں، وہی ایران جس کی تنصیبات پر 2025 میں فوجی حملے کیے گئے — 11ویں NPT نظرثانی کانفرنس کے 34 نائب صدور میں سے ایک منتخب ہو گیا۔ یہ محض ایک عہدہ نہیں، یہ 121 ترقی پذیر ممالک کی عدم وابستگی تحریک (NAM) کا اجتماعی پیغام تھا: ہم امریکی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔ایران این پی ٹی یعنی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ پر ستخط کرچکا ہے لیکن اسرائل نے آج تک اس پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ جبجہ اسکے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں۔
ذرا سوچیں — برلن میں جرمن چانسلر کی بات نے ٹرمپ کو برہم کیا، اور چند ہی روز بعد نیویارک میں اقوام متحدہ نے وہی بات عملاً ثابت کر دی۔ یہ محض اتفاق نہیں، یہ ایک بدلتی ہوئی دنیا کی تصویر ہے۔

جنگ کے بعد کا منظرنامہ — بمباری کامیاب، سفارت ناکام
2025 میں ایران کے جوہری ٹھکانوں پر فوجی حملے ہوئے۔ میزائل گرے، عمارتیں ہلیں،ایران کی قیات ماری گئی بچیاں ہلاک ہوئیں۔ اور واشنگٹن نے شاید سمجھا کہ ایران اب عالمی سطح پر تنہا ہو جائے گا۔ لیکن سیاست میں بمباری آخری بات نہیں ہوتی۔ ایران نے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ NAM کی پشت پناہی سے اقوام متحدہ کا عہدہ حاصل کر لیا۔ اور IAEA سے تعاون محدود کرنے کے باوجود دنیا کی اکثریت نے اسے ایران کا جرم نہیں، حق سمجھا۔
امریکی احتجاج — “شرم سے بھی پرے ہے!”
امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ کرسٹوفر یا نے اس فیصلے کو “شرم سے بھی پرے” اور کانفرنس کی ساکھ کے لیے “رسوائی” قرار دیا۔ لیکن دنیا نے ایک سوال پوچھا جس کا جواب واشنگٹن کے پاس نہیں تھا: کیا کسی ملک پر بم گرا کر پھر اسے عالمی برادری سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے؟ 121 ممالک کا جواب تھا — نہیں۔

اصل سبق — خوف اور عزت میں فرق
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے برلن اور نیویارک کے یہ دو واقعات ایک ہی کہانی سناتے ہیں: طاقت سے خوف خریدا جا سکتا ہے، دلوں کی سمت نہیں بدلی جا سکتی۔ جرمن چانسلر نے آئینہ دکھایا، اقوام متحدہ نے فیصلہ سنا دیا۔ ٹرمپ کا غصہ قابل فہم ہے — لیکن غصے سے نہ سفارت بنتی ہے، نہ عزت ملتی ہے۔ بمبار جہاز سرحدیں بدل سکتے ہیں، دلوں کی سمت نہیں۔

