qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد

معروف انگریزی اخبار Middle East Eye میں صحافی کیتھرین ہرسٹ کی ایک دل دہلا دینے والی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے “میں موت کی تمنا کرتا رہا”۔ یہ رپورٹ یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کی تحقیق پر مبنی ہے جس میں فلسطینی سابق قیدیوں کی براہ راست گواہیاں شامل ہیں۔

رپورٹ کا سب سے چونکا دینے والا نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد کوئی انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک “منظم ریاستی پالیسی” ہے جسے اسرائیل کی اعلیٰ ترین سیاسی، فوجی اور عدالتی قیادت کی سرپرستی اور منظوری حاصل ہے۔

اس رپورٹ میں خاص طور پر بدنام زمانہ سڈے تیمان جیل کا ذکر ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ریڈ کراس اور وکلاء کو داخل ہونے کی اجازت نہیں اور جہاں سے تشدد، عصمت دری اور قتل کی مسلسل رپورٹیں آتی رہی ہیں۔ اسرائیلی ڈاکٹروں نے بھی اس سلسلے میں مجرمانہ کردار ادا کیا، ملزمان کی شناخت چھپائی گئی، زخموں کو میڈیکل ریکارڈ میں دفن کیا گیا اور قیدیوں کو “تفتیش کے لیے موزوں” کے جھوٹے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔ اسرائیلی عدالتی نظام نے بھی مجرمان کو بچانے میں بھرپور کردار ادا کیا اور سنگین جرائم کو معمولی خلاف ورزیوں میں بدل کر مقدمات ختم کروا دیے۔

اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے مارچ 2025 میں اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کا “معیاری طریقہ کار” بن چکا ہے اور یہ سب اسرائیل کی اعلیٰ فوجی و سیاسی قیادت کی واضح یا ضمنی ہدایات پر ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اس جنسی تشدد کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ فلسطینی عوام کو نفسیاتی طور پر توڑا، کچلا اور تباہ کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کا شکار ہونے والا شخص جسمانی زخموں کے علاوہ ساری زندگی ذہنی اذیت، شرمندگی، خود کو قصوروار سمجھنے اور احساس کمتری کے عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ تشدد متاثرہ شخص کو ایک ایسے چکر میں قید کر دیتا ہے جس سے نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ جب عملی طور پر تشدد بند بھی ہو جائے۔

یہ رپورٹ عالمی  برادری کے لیے ایک زوردار تھپیڑا ہے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں، اقوام متحدہ کے ادارے اور آزاد صحافی بار بار ان مظالم کو دستاویزی شکل دے چکے ہیں، مگر بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور بے عملی جاری ہے۔

Related posts

جامعہ اردو علیگڑھ اور لکھنؤ یونیورسٹی میں معاہدہ

qaumikhabrein

امام حسین ؑکے عزادار کے حصے میں معصوم گھنٹوں کا ذخیرہ ہے۔ مولانا قمر سلطان

qaumikhabrein

رسول کی63سالہ زندگی کا نچوڑ ہے علی اکبر کی ذات۔ مولانا مشہدی

qaumikhabrein

Leave a Comment