
کہتے ہیں کہ عقل مند قومیں تاریخ سے سیکھتی ہیں، لیکن امریکہ ایران کے معاملے میں بار بار وہی غلطیاں دہراتا آیا ہے۔ 45 برس سے پابندیاں، دھمکیاں، دباؤ اور اب کھلی جنگ — مگر نتیجہ وہی صفر جو پہلے دن تھا۔ آخر کب تک امریکہ اس وہم میں مبتلا رہے گا کہ طاقت کے بل پر ایران کو جھکایا جا سکتا ہے؟
پابندیوں کا 50 سالہ تجربہ: کیا حاصل ہوا؟
ایران پرپچاس برس سے پابندیوں لگی ہیں ۔۔ دواؤں کی قلت سے بے گناہ شہری ہلاک ہوئے، کرنسی تباہ ہوئی، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ۔ لیکن تہران نے واشنگٹن کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔ایران نے ان حالات میں مختلف شعبوں میں ترقی کی۔ کینسر کی دوائیں بنائیں۔ ڈرون اور میزائل ٹیکنا لاجی میں مہارت حاصل کی۔ اگر 50 سال کی اقتصادی جنگ ایران کو نہیں جھکا سکی تو کیا وہ چالیس روزہ جنگ اور چودہ روز کی جنگ بندی میں امریکہ کے آگے سرنڈر کردیگا؟ لیکن امریکہ اب بھی دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کے نسخے پر عمل کر رہا ہے۔
جنگ کا آغاز اور ایران کا جواب
فروری 2026 میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر فضائی حملے کیے، جن میں سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ حکومتی و فوجی عہدے داروں کو ہلاک کیا گیا، فوجی اور سرکاری تنصیبات تباہ کی گئیں اور شہریوں کا بھاری جانی نقصان ہوا۔ اسکولوں، اسپتالوں اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
لیکن ایران نے سرنڈر کرنےکے بجائے میزائل اور ڈرون حملوں سے ۔اسرائیل، امریکہ کے جدید ترین اور مہنگے ترین طیاروں کو تباہ کرکے منھ توڑ جواب دیا۔ امریکہ کے خلیج اور عرب اتحادی ممالک کو بھی نہیں بخشا ۔ آبنائے ہرمز بند کرکے عالمی تجارت کو درہم برہم کر دیا۔ایران نے اسرائل اور امریکہ کی فوجی ساکھ اور دبدبے کو مٹی میں ملا دیا۔

جنگ بندی: ایران کی شرطوں کا اعتراف
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط پر 2 ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ امریکہ نے ایران کی 10 نکاتی مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے اوپر گفتگو پر ر ضا مندی ظاہر کی۔ ایران کے مطالبات میں تمام پابندیوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا خاتمہ، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، خطے سے امریکی افواج کا انخلاء، جنگی معاوضہ اور یورینیم افزودگی کا حق شامل ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات: امید اور ناکامی
امریکی نائب صدر، صدارتی ایلچی اور دیگر نمائندے 11 اپریل 2026 کو اسلام آباد پہنچے ۔ ایران کے وفد کے ستھ انکی گفتگو کا نتیجہ مایوس کن رہا۔کیونکہ امریکہ نے ایران کی شرطوں پر بات کرنے کے بجائے اپنے ان مطالبات کو تسلیم کئے جانے پر زور دیا جنکو ایران پہلے ہی مسترد کرچکا تھا۔ ایران نے دوسرے دور کی بات چیت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ضرورت سے زیادہ مطالبات، غیر حقیقت پسندانہ توقعات، مسلسل تبدیل ہوتا موقف، تضادات اور بحری ناکہ بندی مذاکرات میں ناقابل رکاوٹ ہیں۔ اس بیچ امریکہ نے ہرمز کے بلاکیڈ کو سخت کردیا اور ایران کے ایک بحری کارگو جہاز پر حملہ کرکے اسکو اپنے قبضے میں لے لیا ایران نے اس حرکت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے اسکا سخت جوا دینے کی دھمکی دی ہے۔

ٹرمپ کا اصل چہرہ: سفارت کاری یا دھمکی؟
جنگ بندی سے چند گھنٹے پہلے ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو پوری تہذیب ختم کر دی جائے گی ۔ شہری بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملے کئے جائیں گے۔یہ ہے امریکہ کا “سفارتی انداز” — دھمکی۔ گالی گلوچ اور دباؤ اور بس۔
جنگ بندی کی مدت ختم ہونے والی ہے ۔ اور امریکہ ایک بڑے حملے کی تیاری کرہا ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی ہیکہ اگر ایران نے سمجھوتہ نہیں کیا تو اسکو تباہ و برباد کردیا جائےگا۔

آخری سوال: امریکہ کب سیکھے گا؟
تاریخ گواہ ہے امریکی فوجی طاقت کے زور پر مسئلے کو حل نہیں کرسکا ہے۔ ایران کے معاملے میں تو یہ سبق اور بھی واضح ہے۔ 45 سال کی پابندیاں، کھلی جنگ، اعلیٰ قیادت کا قتل — ان سب کے باوجود ایران نے سرنڈر نہیں کیا۔
بدھ کے روز جنگ بندی ختم ہوگی ۔ ٹرمپ نے ایران کو برباد کرنے کی جو دھمکی دی ہے اس میں تجزیہ کاروں کو جوہری حملے کی منشا نظر آرہی ہے۔کیونکہ ایران کے استقلال اور استقامت سے ٹرمپ بری طرح جھنجھلائے ہوئے ہیں۔ اس جنگ میں انکا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا الٹا وہ ہرمز جو جنگ سے پہلے کھلا ہوا تھا وہ بھی بند ہو گیا ہے۔ ایران کا ہرمز ہتھیار اسکے جوہری ہتھیار جیسا ہی خطرناک ہے۔اگر امریکہ پھر حملے کا راستہ چنتا ہے تو وہ صرف مزید تباہی مول لے گا — ایران کی بھی، خطے کی بھی۔امریکہ اپنی عزت و وقار، فوجی طاقت کی ساکھ وہ پہلے ہی کھو چکا ہے۔ نیٹو اور اسکے یورپی اتحادی بھی اسکا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔جس ذہنی دیوالیہ پن کا ٹرمپ شکار ہے اس سے لگتا ہیکہ وہ ایران پر جوہری حملہ کر سکتا ہے۔ دانش مندی اس میں ہے کہ طاقت کی بجائے مساوی بنیادوں پر مذاکرات کیے جائیں۔ لیکن جب تک واشنگٹن “بلا شرط ہتھیار ڈالو” کی زبان بولتا رہے گا، امن کا راستہ بند رہے گا
