qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

ٹرمپ کی زبان ۔ کسی ملک کے صدر کی نہیں بلکہ کسی غنڈے کی  زبان ہے۔

دنیا کے سب  سے طاقتور ملک  سمجھے جانے والے امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لہجہ ، زبان اور باڈی لینگویج کسی ملک کے سربراہ کی معلوم نہیں ہوتی بلکہ کسی محلے کے اوباش غنڈے  کی سی لگتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے دور اقتدار میں یورپی اتحادیوں کو مفت خور کہا، میڈیا کو عوام کا دشمن قرار دیا، نیٹو کو بے کار ادارہ بتایا اور ایران کی پوری آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی۔ اسکے  لیڈروں کو گالیاں دیں۔ اب انہوں نے پوپ کو کمزور اور جرائم کا حامی کہا ہے اور سوشل میڈیا پر ایک تصویر شائع کی جس میں انہیں مسیح جیسی شفائی طاقتوں کا حامل دکھایا گیا۔ ٹرمپ پوپ کو جرم کو پسند کرنے والا بتاتے ہیں اور خود کو بہت لبرل شخص سمجھتے ہیں۔ انکی نظر میں پوپ تو جرم پسند کرنے والی شخصیت ہیں وہ خود اپنے بارے میں کیا سمجھتے ہیں۔ وہ خود کیا ہیں۔ ایران کے لیڈروں کے قتل کو فخریہ طور پر اپنا کارنامہ بتانے والا، معصوم طالبات کو موت کے گھاٹ اتارنے والا، غزہ میں  معصوم لوگوں کا خون بہانے والے نیتن یاہو کی حمایت کرنے والااور ایپسٹین فائلوں  کے مطابق کمسن لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والا شخص جب دوسروں  جرم پسند کرنے والا بتاتا ہے تو ہنسی بھی آتی ہے اور اس کی ذہنی پستی اور اخلاقی گراوٹ کا احساس بھی ہوتا ہے۔

تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ واشنگٹن اور ویٹیکن کے درمیان تعلقات دو امریکیوں کے گرد گھوم رہے ہیں — ایک عمر رسیدہ سیاستدان اور ایک امریکی نژاد پوپ، اور دونوں ایک دوسرے کے براہ راست آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ منظر خود ہی اس دور کی عجیب و غریب سیاست کی گواہی دیتا ہے۔

معاملے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “آج رات ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی، پھر کبھی واپس نہیں آئے گی۔” یہ الفاظ فلمی ڈائیلاگ نہیں تھے — یہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے صدر کا باضابطہ بیان تھا، جس پر دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔پوپ لیو چہاردہم نے اس دھمکی کو سراسر ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ یہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کا معاملہ ہے بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی کا اخلاقی سوال بھی ہے۔ انہوں نے دنیا کو دعوت دی کہ وہ دل میں سوچیں کہ ان معصوم بچوں اور بوڑھوں کے بارے میں جو اس جنگ کی آگ میں جھلس جائیں گے۔ پوپ کا یہ موقف تاریخی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ کسی پوپ نے اس سے پہلے کبھی کسی امریکی صدر کو اس قدر براہ راست نشانہ نہیں بنایا تھا۔

ٹرمپ نے اس تنقید کو خاموشی سے نہیں سنا۔ انہوں نے پوپ لیو پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسا پوپ نہیں چاہتے جو ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کی حمایت کرے اور یہ کہ پوپ خارجہ پالیسی کے لیے بہت برے ہیں۔ ٹرمپ اور پوپ فرانسس کے درمیان یہ کشیدگی نہ تو اچانک پیدا ہوئی اور نہ ہی صرف ایران تک محدود ہے۔ اس سے پہلے پوپ فرانسس نے ٹرمپ کی ہجرت مخالف پالیسیوں کو انسانی وقار کے لیے نقصاندہ قرار دیا تھا اور تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر ملک بدر کرنے کی منصوبہ بندی کو ذلت آمیز کہا تھا ۔

ٹرمپ اور ان کے دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف جنگ کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے اسے خدا کی مرضی قرار دیا۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ خدا اس جنگ کے ساتھ ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں، کیونکہ خدا اچھا ہے۔ پوپ نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ خدا ان کی دعائیں نہیں سنتا جو جنگ برپا کرتے ہیں اور بائبل کی آیت سے حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تمہارے ہاتھ خون سے رنگے ہیں۔

اہم سوال یہ  ہیکہ کیا دنیا ایسی قیادت کی متحمل ہو سکتی ہے جو ایک پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی اور قتل و غارتگری برپا کرے۔

Related posts

افغان طالبان کی حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنےکی جانب روس کا بڑا قدم

qaumikhabrein

انصاف کے بنیادی تصور کو بدلنے کی کوشش۔۔سراج نقوی

qaumikhabrein

بلا اجازت حج کرنے کی سزا ایک لاکھ ریال  جرمانہ

qaumikhabrein

Leave a Comment