qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اسلام آباد مذاکرات۔اسرائل کے دباؤ کی وجہ سے ہوئے ناکام۔

مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں اسلام آباد مذاکرات ایک ایسے باب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جہاں ناکامی کا بیج شروع ہی میں بو دیا گیا تھا۔ یہ مذاکرات کسی حقیقی سمجھوتے کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سفارتی فریب کی بنیاد پر ترتیب دیے گئے تھے، اور اکیس گھنٹے کی طویل بات چیت کے بعد بے نتیجہ اختتام اس فریب کا منطقی انجام تھا۔ اسلام آباد جو “امن کا شہر” بننا چاہتا تھا، وہ محض ایک ایسے سفارتی ڈھانچے کی میزبانی کرتا رہا جو شروع سے ہی کھوکھلی بنیادوں پر کھڑا تھا۔

مذاکرات اکیس گھنٹے چلے جو اس بات کی گواہی ہے کہ دباؤ غیر معمولی تھا۔ وینس کو ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں رہنا پڑا اور ایک موقع پر نیتن یاہو نے بھی براہ راست فون کر کے اپنا موقف منوانے کی کوشش کی۔ رپورٹوں کے مطابق نیتن یاہو کی اس مداخلت کے بعد مذاکرات کا رخ تیزی سے ناکامی کی طرف مڑ گیا۔ اسرائیل کے لیے ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ قابل قبول نہیں تھا کیونکہ ایران کے دس نکات میں لبنان پر حملوں کا خاتمہ بھی شامل تھا جو اسرائیل کی جنگی ترجیحات کے بالکل خلاف تھا۔مزاکرات کی ناکامی سے ایک بت تو ثٓبت ہو گئی کہ امریکہ کی سفارتی اعر خارجہ پالیسی پر اسرائل کے مفادات غالب ہیں۔

جب امریکی فوجی طاقت اپنا مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔ امریکہ  دنیا میں یکہ و تنہا رہ گیا۔ ٹرمپ کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا تھا۔ایران کے ہاتھوں اسے اپنے جدید اور قیمتی سازسامان کی تباہی مل چکی تھی۔ ہرمز کی بندش کا معاشی بوجھ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تو امریکی صدر نے فریبی چال چکی۔اورایران کے دس مطالبات کو”مذاکرات کی قابل عمل بنیاد”بتاکر گفتگو پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے  دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کردیا۔ ایران نے یہ سمجھا کہ امریکہ نے اس کے دس نکات کو اصولی طور پر قبول کر لیا ہے اور اسلام آباد میں انہی نکات کی تفصیلات طے ہوں گی۔ ایرانی صدر پزشکیان نے اعلان کیا کہ امریکہ نے “ایران کے مطلوبہ عمومی اصولوں کو قبول کر لیا ہے”۔ لیکن اسی روز وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ ایران نے جو دستاویز عوامی سطح پر جاری کی وہ وہی نہیں جو تہران نے ٹرمپ کو بھیجی تھی۔ گویا جنگ بندی کے اعلان کے پہلے ہی دن دونوں فریق دو مختلف دستاویزات کی بات کر رہے تھے اور دونوں کا دعویٰ تھا کہ دوسرے نے اپنی شرطیں مانی ہیں۔

ایرانی وفد اسلام آباد اپنے دس نکات پر بات کرنے آیا تھا جنہیں ٹرمپ “قابل عمل” کہہ چکے تھے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کی قیادت میں آیا یہ وفد سمجھوتے کے موڈ میں تھا اور ایران سے کوئی خاص ہدایت لینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کا مقصد و موقف واضح تھا۔ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ کے پندرہ نکاتی مطالبات لے کر آئے تھے جن میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کا پختہ عہد، انتہائی افزودہ یورینیم کی حوالگی، میزائل پروگرام پر پابندیاں، علاقائی پراکسی گروپوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول واپس کرنا شامل تھا۔ یہ وہی مطالبات تھے جنہیں ایران پہلے ہی مسترد کر چکا تھا۔مذاکرات کے خاتمے پر وینس نے کہا کہ ایران نے امریکی شرطیں نہیں مانیں ۔سوچنے الی بات ہیکہ ایران ان شرطوں کو اب کیسے مان لیتا جنہیں وہ پہلے ہی مسترد کرچکا تھا۔

اس پوری صورتحال کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ ٹرمپ نے جنگ بندی محض وقت خریدنے کے لیے کی تھی، نہ کہ کسی حقیقی معاہدے کی خواہش سے۔ فوجی آپشن ناکام ہو رہا تھا، عالمی معیشت پر دباؤ ناقابل برداشت تھا اور امریکی فوجی دھمکیوں کی ساکھ متاثر ہو رہی تھی۔

اسلام آباد مذٓاکرات کی ناکامی کے بعد ٹرمپ نے ایران پر “مکمل بحری ناکہ بندی” کی دھمکی دے دی اور خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی طرف بڑھنے لگا۔ دو ہفتے کی نازک جنگ بندی کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا اور مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقہ کار کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

Related posts

ٹرمپ  کے پیٹ میں درد۔ایران ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کررہا ہے۔

qaumikhabrein

یو پی کے پانچ شہروں میں نہیں لگےگا لاکڈاؤن۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر لگائی روک۔

qaumikhabrein

امروہا میں حسینی ٹائگرز کے دفتر کا افتتاح

qaumikhabrein

Leave a Comment