
ایران پر مسلط کردہ جنگ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ اتحاد بین المسلمین میں یقین رکھنے والے مسلمان رہبر معظم کی شہادت سے بہت غم زدہ ہیں۔اس مسئلہ پر ملک بھر میں بحث و مباحثہ اور مذاکرات کا سلسہ جاری ہے۔، دانشور، صحافی اور مشائخ اپنے اپنے انداز سے حالات پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔یہ سوال گردش کررہا ہے کہ ان حالات میں ایک مسلمان کی ذمہ داری کیا ہے۔ ‘ایران امریکہ جنگ اور مسلمانوں کی ذمہ داری’ کے عنوان سے ایک آن لائن مذاکرے میں اس بات پر اتفاق ظاہر کیا گیا کہ اس وقت ضرورت مسلمانوں کے اندر اتحاد کو مستحکم کرنے کی ہے۔ کہنہ مشق شاعر و ادیب و سابق جنرل سیکریٹری حلقہ ادب اسلامی قطر محسن حبیب نے کہا کہ وہ وقت نزدیک ییکہ جب ایران اور غزہ کے درمیان سے اللہ تعالیٰ ایسے مجاہدین کو امت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے اٹھائے گا جو امت کی تاریخ بدل دیں گے اور امت مسلمہ کا شاندار ماضی دوبارہ لوٹ آئے گا۔

اس آن لائن مذاکرے کا اہتمام ’’مکتب سدرۃ المنتہٰی اور مکتب تاج القرآن‘‘نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ جس میں امریکہ سے مولانا ڈاکٹر سید شاہ سمیع اللہ حسینی بندہ نوازؔ چشتی قادری سجادہ نشین و متولی آستانۂ حضرت سید شاہ ملک حسینیؒ، شاہ راج پیٹو مشیرِ قانونی کل ہند جمعیۃ المشائخ ، ایم اے نجیب سفیر برائے امن، اظہر عمری سینئر صحافی و ضلعی صدر اترپردیش ورکنگ جرنسلسٹ یونین آگرہ‘اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نجمہ سلطانہ، حجت الاسلام والمسلمین مولانا باسط علی،۔عبد الحامد منان سینئر صحافی، سید شاداب احمد رضوی بانی و پرنسپل مکتب سدرۃ المنتہٰی، ڈاکٹر سید حبیب امام قادری (ایڈیٹر تاریخ دکن جرنل، ایڈوکیٹ محمد اکرام الدین مرتضیٰ پاشاہ‘ سید شیر الدین قادری المعروف مقیم پاشاہ کنوینر اجلاس‘ ارشد حسین سماجی جہدکار‘ اسماء خاتون، ناظمہ سلطانہ، ساجدہ بیگم اور محمد شبیر احمدنےاظہار خیال کیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ ایران و امریکہ کا تنازعہ ایک سیاسی حقیقت ہے، مگر مسلمانوں کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس میں تقسیم کا شکار بنتے ہیں یا اتحاد کا مظاہرہ کر کے حکمت اور عدل کی مثال قائم کرتے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے، اس لیے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ ایسے حالات میں ہندوستان سمیت کئی ذمہ دار ممالک تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ممالک جو توازن، غیرجانبداری اور سفارتی روابط رکھتے ہیں۔ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں امن، مکالمہ اور باہمی احترام کو اہمیت دی جاتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
مذاکرے میں کہا گیا کہ دورِ حاضر میں وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان باہمی اتحاد، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے چیلنجز کا مقابلہ جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور مثبت حکمتِ عملی سے کرنا زیادہ مؤثر ہے۔ اس تناظر میں سب سے مضبوط اور پائیدار ہتھیار تعلیم ہے، جو نہ صرف فرد کو بااختیار بناتی ہے بلکہ پوری قوم کی سمت بھی متعین کرتی ہے۔
یہ بھی کہا گیا اس نازک موقعہ پر ضروری ہے کہ تمام فریق صبر، حکمت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ جذباتی ردِعمل کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دینا ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہی پیغام متعلقہ اداروں، بشمول ایران کے قونصل خانوں تک پہنچنا چاہیے کہ موجودہ حالات میں تحمل اور مکالمہ ہی بہترین راستہ ہے۔آج امت اور عالمی برادری دونوں کے لیے یہ وقت اتحاد، دانشمندی اور ذمہ داری کا ہے۔ اگر صبر، تدبر اور بات چیت کو اپنایا جائے تو نہ صرف کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ ایک پر امن اور مستحکم مستقبل کی راہ بھی ہموار کی جا سکتی ہے۔

شرکا نے خیال ظٓاہر کیا کہ اتحاد کا مطلب صرف نعرہ نہیں بلکہ عملی طور پر ایک دوسرے کا ساتھ دینا، برداشت کو فروغ دینا اور مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ اگر تعلیم، نظم و ضبط اور باہمی احترام کو اپنایا جائے تو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا سامنا کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور باوقار مستقبل بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے
ایران کی معروف قم یونیورسٹی سے حال ہی میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد حیدرآباد تشریف لائےحجت الاسلام والمسلمین مولانا باسط علی نےکہاکہ ایران کی موجودہ ریاستی شناخت 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ایک اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی جس کے بعد ایران نے اپنی خودمختاری، علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر خاص توجہ دی۔ ایران نے میزائل ٹیکنالوجی، ڈرونز اور دفاعی نظام میں بھی خاصی پیش رفت کی ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا کہ ایران کے نوجوانوں نے جس حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ مشکل حالات اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کے باوجود ان کا یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہونا ان کے عزم اور حوصلے کی زندہ علامت ہے، تاہم ایسے حالات میں جذبات کے ساتھ ساتھ دانشمندی اور بصیرت کو بھی پیشِ نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ کسی بھی ردِ عمل کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو اتحاد، شعور اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں

۔سید شاداب احمد رضوی بانی و پرنسپل مکتب سدرۃ المنتہٰی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جنگ کے آغاز پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایران کے اہم مقامات اور رہنماؤں کو نشانہ بنا کر اسے حکومت کی تبدیلی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایران نے امریکہ کے خلیجی اتحادیوں پر میزائل اور ڈرون سے حملے کر کے جواب دیا ۔پھر جیسے جیسے لڑائی میں تیزی آتی گئی ایران نے خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے سمندری ٹریفک میں خلل ڈالنے کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر لی۔اس اقدام نے جلد ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کے بلا تعطل بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔آن لائن مذاکرے میں کہا گیا کہ قرآن امن، رواداری اور مکالمے کو فروغ دیتا ہے، اور سکھاتا ہے کہ دشمنی کے باوجود انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہی اصول بین الاقوامی تعلقات میں بھی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر ممالک باہمی احترام، برداشت اور سنجیدہ مذاکرات کو ترجیح دیں تو کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔

