qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

‘ایکس ‘پرایرانی پروفیسر مرندی کے قتل پر انعام۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس، جسے پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ اس بار معاملہ محض کسی متنازع پوسٹ کا نہیں بلکہ ایک یونیورسٹی پروفیسر کے قتل پر کھلے عام انعام کے اعلان کا ہے۔ اور سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ایکس نے نہ صرف اس پوسٹ کو برداشت کیا بلکہ اسے بطور اشتہار چلا کر اس سے مالی فائدہ بھی اٹھایا۔

ایکس پر ایک اسرائیل نواز اکاؤنٹ نے تہران یونیورسٹی کے پروفیسر محمد مرندی کے لیے دس لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا۔ اس پوسٹ میں نہ صرف انہیں قتل کرنے بلکہ زندہ اغوا کرنے پر بھی انعام کی پیشکش کی گئی۔ یہ پوسٹ ایک عام صارف کی پوسٹ نہیں تھی بلکہ اسے پیڈ پارٹنرشپ یعنی تشہیری پوسٹ کے طور پر چلایا گیا، جس کا مطلب ہے کہ ایکس نے اس مواد کو پھیلانے کے لیے پیسے وصول کیے۔

پروفیسر مرندی کو جب اس پوسٹ کا علم ہوا تو انہوں نے اسے ریکارڈ کیا اور عوامی سطح پر اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے ایکس اور اس کے مالک ایلون مسک کو براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے دہشت گردی کی کھلی حمایت قرار دیا۔

پروفیسر مرندی کون ہیں؟

سید محمد مرندی تہران یونیورسٹی میں انگریزی ادب اور اورینٹل ازم کے پروفیسر ہیں۔ وہ امریکی نژاد ایرانی ہیں اور اپنے واضح اور بے باک تجزیوں کی وجہ سے بین الاقوامی میڈیا پر پہچانے جاتے ہیں۔ وہ ایرانی جوہری مذاکرات کے مشیر بھی رہے ہیں اور مغربی میڈیا پر ایران کے موقف کے سرگرم ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مغرب اور اسرائیل کے ناقدین کی نظر میں ایک اہم ہدف بنتے ہیں۔تازہ اطلاع کے مطابق پروفیسر مراندی کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامIRGC نے انہیں اپنا ترجمان مقرر کیا ہے۔

ایکس کا کردار: سنگین سوالات

اس واقعے نے ایکس پلیٹ فارم کے بارے میں کئی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ایکس  کے مواد کی نگرانی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے؟ ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدنے کے بعد ہزاروں ملازمین کو فارغ کر دیا تھا جن میں مواد کی نگرانی کرنے والی ٹیمیں بھی شامل تھیں۔ اس کمی کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

دوسرا اور زیادہ سنگین سوال یہ ہے کہ جب اس پوسٹ کو بطور اشتہار چلایا گیا تو کیا ایکس کی ٹیم نے اسے دیکھا نہیں؟ اشتہاری مواد کی منظوری کا ایک عمل ہوتا ہے۔ اگر یہ پوسٹ اس عمل سے گزری تو یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ پوسٹ کی نشاندہی کے باوجود اسے کیوں نہیں ہٹایا گیا اور متعلقہ اکاؤنٹ کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

مغربی میڈیا کی خاموشی

اس پورے معاملے کا ایک اور تکلیف دہ پہلو مغربی میڈیا کی مکمل خاموشی ہے۔ پروفیسر مرندی نے خود حیرت کا اظہار کیا کہ جو میڈیا آزادی اظہار اور انسانی حقوق کے نام پر دنیا بھر میں لیکچر دیتا ہے، وہ اس واقعے پر بالکل خاموش ہے۔

یہ دوہرا معیار نیا نہیں ہے۔ اگر کوئی روسی یا ایرانی اکاؤنٹ کسی مغربی صحافی یا تجزیہ کار کے خلاف اس طرح کی پوسٹ کرتا تو یقیناً اسے بین الاقوامی سطح پر بڑی خبر بنایا جاتا، سرکاری بیانات آتے اور پلیٹ فارم پر فوری کارروائی کا مطالبہ ہوتا۔

آزادی اظہار کی آڑ میں دہشت گردی؟

ایلون مسک نے ٹوئٹر خریدتے وقت اسے آزادی اظہار کا چمپئن قرار دیا تھا۔ لیکن کیا آزادی اظہار کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی کسی کے قتل پر انعام کا اعلان کر سکتا ہے؟ دنیا کے کسی بھی قانونی نظام میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ امریکہ میں خود اس طرح کی دھمکی قابل تعزیر جرم ہے۔

یہ آزادی اظہار کا معاملہ نہیں بلکہ دہشت گردی کی کھلی حمایت ہے اور ایک ذمہ دار سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا فرض ہے کہ وہ اس طرح کے مواد کو فوری طور پر ہٹائے۔

نتیجہ

پروفیسر مرندی کے خلاف انعامی دھمکی کا یہ واقعہ کئی سطحوں پر لمحہ فکریہ ہے۔ یہ ایکس پلیٹ فارم کی ذمہ داری، مغربی میڈیا کے دوہرے معیار اور موجودہ امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں ہونے والی نفرت انگیزی کا آئینہ ہے۔جب تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو جوابدہ نہیں بنایا جائے گا اور ان پر یکساں قوانین لاگو نہیں کیے جائیں

Related posts

ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدہ 48 گھنٹوں کے اندر ممکن

qaumikhabrein

صحیفہ کاملہ کے اردو ترجمے کا ایک اور ایڈیشن منظر عام پر

qaumikhabrein

مجاہد آزادی مبارک مزدور کی بہن کا انتقال۔جامعہ قبرستان میں ہوئی تدفین

qaumikhabrein

Leave a Comment