qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

جنگ میں ایران کا پلہ بھاری۔۔ برطانوی خفیہ کے سابق سربراہ کا دعوا

برطانیہ کے خفیہ ادارے MI6 کے سابق سربراہ سر الیکس ینگر نے موجودہ جنگ میں ایران کا پلہ بھاری ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اکانومسٹ ٹی وی کے ‘Inside Defence’ پوڈکاسٹ  کو انٹرویو دیتے ہوئے الیکس ینگر نے مشرق وسطیٰ میں جاری موجودہ جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے ایران کی جنگی حکمت عملی کی تعریف کی۔

ایران کا پلہ بھاری — ایک تلخ اعتراف

سر الیکس ینگر نے انٹرویو کے آغاز میں ہی واضح کیا کہ وہ اس نتیجے تک پہنچنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے اپنی پوری سرکاری سروس کے دوران ایران کے انقلابی گارڈز (IRGC) کی حکمت عملی کا قریب سے مشاہدہ کیا تھا۔ لیکن حقائق سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس جنگ کی پیچیدگی کو کم سمجھا اور تقریباً دو ہفتے قبل ایران کو جنگ میں پہل حاصل ہو گئی۔ یہ صرف میدانِ جنگ کی بات نہیں بلکہ حکمت عملی کی سطح پر بھی ایران نے امریکی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

جون سے تیاری — ایران کی فوجی دانش

ینگر کے مطابق ایران نے گزشتہ جون میں ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ جنگ ناگزیر ہے۔ چنانچہ اسں نے اپنی فوجی صلاحیت کو منتشر کرنا شروع کیا اور ہتھیاروں کے استعمال کا اختیار نچلی سطح کے کمانڈروں کو دے دیا۔

یہ ایک انتہائی اہم فیصلہ ثابت ہوا۔ امریکہ کی طاقتور اور بے مثال فضائی مہم کے باوجود ایران کو قابلِ ذکر برتری حاصل رہی کیونکہ مرکزی کمان کو ختم کر دینے سے پورا نظام نہیں رکا۔ یہ وہ سبق ہے جو ایران نے ماضی کی جنگوں سے سیکھا تھا۔

افقی توسیع — ہر سمت میں جنگ پھیلانا

ینگر نے ایران کی ‘ہوریزنٹل ایسکی لیشن’ یعنی افقی توسیع کی حکمت عملی کا خصوصی ذکر کیا۔ اس حکمت عملی کے تحت ایران نے اپنی زد میں آنے والے ہر ملک پر راکٹ داغنا شروع کیے۔ ینگر نے اعتراف کیا کہ ابتداً میں انہیں یہ قدم پاگل پن لگا، لیکن بعد میں واضح ہوا کہ یہ درحقیقت امریکہ پر بالواسطہ دباؤ ڈالنے کا بہت مؤثر طریقہ تھا۔ جب ہر طرف آگ لگی ہو تو امریکہ ایک ہی محاذ پر توجہ مرکوز نہیں رکھ سکتا

آبنائے ہرمز — توانائی کی جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار

ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرکے دنیا کی تیل سپلائی کے پانچویں حصے کو خطرے میں ڈال دیا۔ اس اقدام سے تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا اور عالمی معیشت پر فوری دباؤ پڑا۔ینگر نے کہا کہ ایران نے توانائی کی جنگ کی حقیقی اہمیت کو سمجھا اور اس طرح تنازعے کو محض علاقائی سے عالمی بنا دیا۔ جب دنیا کی معیشت متاثر ہوتی ہے تو بین الاقوامی دباؤ امریکہ پر بھی پڑتا ہے۔

ڈرون ذخیرہ — صفر ہونا ناممکن

ینگر نے ایک تکنیکی لیکن انتہائی اہم نکتہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواہ امریکی فضائی مہم کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایران کے ڈرون ذخیرے کو مکمل طور پر ختم کرنا عملاً ناممکن ہے۔

اگر ابتدائی ڈرون ذخیرے کا محض دس فیصد بھی باقی رہے تو ایران تیل ٹینکروں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے — اور یہ بذاتِ خود امریکہ کے خلاف ایک مضبوط لیور ہے۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اختیارات ‘بہت محدود اور کوئی اچھے نہیں’ ہیں۔

ٹرمپ کی ‘رجیم چینج’ بیان بازی — ایران کا غیر متوقع فائدہ

ینگر نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی ‘رجیم چینج’ کی زبان نے عملاً ایران کو ایک وجودی جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا۔ جب ایران کو یقین ہو کہ امریکہ انہیں دیوار سے لگانا چاہتا ہے تو وہ آخری دم تک لڑنے پر آمادہ ہو گئے۔

اس کے برعکس امریکہ کے لیے یہ ایک اختیاری جنگ ہے — جبکہ ایران کے لیے بقاء کی جنگ۔ اس عدم توازن نے ایران کو زیادہ صبر، پائیداری اور لڑنے کا عزم دیا ہے۔

خلاصہ

سر الیکس ینگر کا یہ انٹرویو کئی اہم سبق دیتا ہے۔ ایران نے ایک کمزور پوزیشن سے بھی بہت ہوشیاری سے اپنے پتے کھیلے — توانائی کی جنگ، ڈرون حکمت عملی، افقی توسیع، اور امریکہ کے اپنے بیانات سے فائدہ اٹھا کر ایران نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کے اختیارات انتہائی محدود ہیں۔

ینگر کا یہ تجزیہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ کسی ایران نواز شخص کی بات نہیں — بلکہ اس شخص کا تجزیہ ہے جس نے اپنی پوری زندگی ایران کے خلاف خفیہ آپریشنز میں گزاری۔حقیقی تعریف وہی ہوتی ہے جو دشمن کے منھ سے نکلے ۔۔۔

Related posts

رمضان کے دوران مسلمان خصوص احتیاط سے کام لیں۔۔مولانا محسن تقوی

qaumikhabrein

نیویارک کی جیل دنیا کی سب سے خطرناک جیل ہے۔

qaumikhabrein

اسرائل فلسطین کے بارے میں جھوٹی پروپگنڈہ مہم چلا رہا ہے۔

qaumikhabrein

Leave a Comment