qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

بی بی زینب کے روضے  کے امام شیخ منصور دھماکے میں ہلاک

یکم مئی 2026 کی دوپہر، جب دمشق کے مضافاتی علاقے سیدہ زینب میں شارع الفاطمیہ پر ایک کار میں بم پھٹا، تو اس کی لپیٹ میں آنے والے کوئی اور نہیں بلکہ وہ ہستی تھی جو برسوں سے روضہ مبارک سیدہ زینب (س) کی امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔ شیخ فرحان حسن منصور — علاقے کی نمایاں ترین مذہبی شخصیات میں سے ایک — زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔

دمشق کی وزارتِ داخلہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکا کہ آیا یہ کوئی منصوبہ بند حملہ تھا یا اتفاقی دھماکہ۔ لیکن جو لوگ شام کی زمینی صورتحال سے واقف ہیں، ان کے لیے یہ سوال ہی بے معنی ہے — کیونکہ سیدہ زینب کے علاقہ  میں کئی بار خون کی ہولی کھیلی جا چکی ہے۔روضہ مبارک سیدہ زینب (س) شیعہ مسلمانوں کے لیے نہایت متبرک مقام ہے، جہاں دنیا بھر سے زائرین آتے ہیں۔ 2008 سے اب تک یہ علاقہ متعدد بار مہلک حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ 2016 میں ہونے والے دوہرے خودکش حملوں میں 134 افراد لقمہ اجل بنے۔ 2023 میں ایک بار پھر دھماکے سے 6 جانیں گئیں۔ اور اب 2026 میں امام مسجد خود نہیں بچ سکے۔

یہ سلسلہ محض ”دہشت گردی” نہیں — یہ ایک مقدس مقام اور اس سے وابستہ لوگوں کو منظم طور پر نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی ہے۔شیعوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ نئے شام میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔شیخ فرحان منصور کا خون اس سوال کا جواب مانگتا ہے: کیا نئے شام میں صرف وہی زندہ رہ سکتے ہیں جو اکثریت کے مذہبی رنگ میں رنگے ہوئے ہوں؟ اگر ہاں، تو پھر یہ ”نیا شام” اسد کے شام سے کتنا مختلف ہے؟

Related posts

کراچی والے مہنگائی سے پریشان 2400 روپئے میں خرید رہے ہیں 20 کلو آٹا

qaumikhabrein

داعش کے ہاتھوں بوکو حرام کا سرغنہ ابوبکر شکاؤ مارا گیا۔

qaumikhabrein

جمعیت علما کا دس روزہ سیرت النبی پروگرام

qaumikhabrein

Leave a Comment