qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

ٓبنائےہرمزکا پانی گرم ہورہا ہے۔ امریکہ اور ایران میں پھر ٹکراؤ۔

آبنائے ہرمز کا پانی ایک بار پھر کھول رہا ہے۔ امریکی نیوی کے دو جنگی جہاز — یو ایس ایس ٹریکسٹن اور یو ایس ایس میسن — چند دنوں کے اندر دوسری بار ایرانی حملوں کا نشانہ بنے۔ سی بی ایس نیٹ ورک کے مطابق، جمعرات کی رات ہونے والے یہ حملے پیر کے واقعات سے کہیں زیادہ شدید اور منظم تھے۔

کیا ہوا آبنائے ہرمز میں؟

آبنائے ہرمز — دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک — وہ مقام ہے جہاں سے دنیا کا ایک بڑا حصہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ جب امریکی جنگی جہاز اس تنگ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایران کی تیز رفتار کشتیوں کے متعدد گروہوں نے انہیں گھیر لیا۔ یہ کشتیاں اتنے قریب آ گئیں کہ امریکی نیوی کو انہیں پیچھے دھکیلنے کے لیے فائرنگ کرنا پڑی۔

امریکی حکام کے مطابق، یہ جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ جہازوں نے اپنے پانچ انچ کے بحری توپ، قریبی دفاعی نظام “سی ڈبلیو آئی ایس” اور عرشے پر تعینات مسلح ٹیموں کی مدد سے اپنا دفاع کیا۔ اس کے علاوہ ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل بھی داغے گئے، جنہیں امریکی سینٹرل کمانڈ نے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دونوں طرف کے دعوے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ تینوں جنگی جہاز گولہ باری کی زد میں رہنے کے باوجود کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر گئے اور کوئی جانی یا مادی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی فوجیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

ادھر امریکی سینٹ کام نے باضابطہ بیان جاری کر کے کہا کہ انہوں نے جوابی کارروائی میں ایران کی فوجی تنصیبات، میزائل اڈوں اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا۔

 دوسری طرف ایران نے دعویٰ کیا ہیکہ امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائر  حملوں میں زخمی ہونے کے بعد علاقے سے فرار ہو گئے۔ ٹرمپ نے امریکی جنگی جہازوں کے فرار کو ایران کے حملے سے بچ نکلنے کے طور پر بیان کیا!

تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ نقصانات کی اصل حد کیا ہے؟ متعدد امریکی میڈیا رپورٹس یہ دعویٰ کر چکی ہیں کہ پینٹاگون اپنے نقصانات کو حقیقت سے کم کر کے پیش کر رہا ہے — ایک الزام جو اس پوری کہانی کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔

خطے کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟

امریکہ کی جانب سے آپریشن ایپک فیوری اور پروجیکٹ فریڈم کو معطل کیا جا چکا ہے۔ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک باعزت معاہدے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ لیکن ہرمز کا پانی روز بروز گرم سے گرم تر ہوتا جارہا ہے۔چند دنوں میں دو مرتبہ اس طرح کے واقعات کا ہونا محض ایک اتفاق نہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ ایک نئی اور خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تیل کا بہت بڑا حصہ گزرتا ہے، اگر یہاں کشیدگی مزید بڑھے تو عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات فوری اور گہرے ہوں گے۔

فی الحال دونوں فریق اپنے اپنے بیانات پر قائم ہیں اور حقیقت کی تصویر ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئی۔ لیکن ایک بات طے ہے — آبنائے ہرمز کا پانی کبھی اتنا گرم نہیں رہا جتنا آج ہے۔

Related posts

اسرائیل نے المیادین نیوزپر پابندی لگا دی

qaumikhabrein

جوش ملیح آباد مرثیہ پڑھتے بھی خوب تھے۔

qaumikhabrein

سنگ اسود کی Virtual زیارت کا پروجیکٹ

qaumikhabrein

Leave a Comment