
ایران میں رجیم چینج کی مہم سے شروع ہوا امریکی حملہ اب ہرمز کو ایران کے کنٹرول سے آزاد کرانے پر آکر اٹک گیا ہے۔جو ہرمز امریکی اور اسرائیلی حملے سے پہلے جہازوں کی آمد و رفت کے لئے کھلا ہوا تھا اب ایران کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مستحکم کرنے کے لئے ایک نیا طریقہ کار متعارف کروا دیا ہے۔
نئے نافذ کردہ نظام کے تحت، آبنائے سے گزرنے کا ارادہ رکھنے والے تمام بحری جہازوں کو آفیشل ایڈریس info@PGSA.ir سے ایک ای میل موصول ہوگی جس میں گزرنے کے لیے قواعد و ضوابط بیان کیے گئے ہیں۔بحری جہازوں کو اس فریم ورک کے مطابق اپنے کام کو ایڈجسٹ کرنے اور آبنائے ہرمز کو عبور کرنے سے پہلے ٹرانزٹ پرمٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔سپاہ پاسداران نے اعلان کردیا ہیکہ امریکہ اور اسرائل کے جہازوں کو کسی بھی صورت میں ہرمز سے گزرنے نہیں دیا جائےگا۔

ہرمز کے ایرانی کنٹرول کو ناکام بنانے کے لئے امریکہ نے جو بحری ناکہ بندی کی تھی اسکی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ اپنی ناکہ بندی کی ناکامی کے بعد امریکہ نے پروجیکٹ فریڈم شروع کرنے کا اعلان کیا۔ جسکے تحت ہرمز میں پھنسے جہازوں کو محفوظ طریقے سے نکالا جانا ہے۔۔ جب سے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا۔ کوئی بھی تجارتی جہاز وہاں سے گزرنے کی کوشش کرے تو ایران اسے روک لیتا یا حملہ کر دیتا۔ تقریباً دو ہزار جہاز خلیج میں پھنسے پڑے ہیں۔ ٹرمپ نے 4 مئی کو اعلان کیا کہ امریکی بحریہ ان جہازوں کو ہرمز سے نکالے گی۔ “پروجیکٹ فریڈم” کے لیے 15 ہزار امریکی فوجی، بحری تباہ کن جہاز، سو سے زیادہ طیارے اور ڈرون بوٹس تعینات کیے گئے۔ اس پروجیکٹ فریڈم کی ہوا ایک روز میں ہی نکل گئی کیونکہ ایران نے امریکہ کے ایک ڈسٹرائر جہاز پر میزائل اور ڈرون مار کر اسکو واپس جانے پرمجبور کردیا۔ ٹرمپ نے پروجیکٹ فریڈم کوموقوف کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ وجہ یہ بتائی کہ پاکستان کی جانب سے ایران کی ایک نئی تجویزپیش کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ ایران نے پاکستان کے ذریعے چودہ نکاتی تجویز امریکہ کو بھجوائی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس پر غور کر رہے ہیں ، البتہ انہوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر ایران نے کوئی “بری حرکت” کی تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ اس قدر بری طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ انہیں باعزت طریقے سے اس جنجال سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا ہے۔ہرمز انکے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ کوئی ملک ہرمز کو ایران سے آزاد کرانے کے لئے اس نام نہاد سوپر پار کی مدد کو تیار نہیں ہے۔ایک طرف امریکی شہریوں کا ایک قابلِ ذکر حصہ ٹرمپ کی ملک کی قیادت کے لیے ذہنی اور جسمانی صلاحیت پر سوال اٹھا رہا ہے۔یہ بات واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور ایپسوس کے مشترکہ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوئی ہے دوسری طرف مریکا کا قرض پہلی بار دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس کی مجموعی پیداواری اور معاشی صلاحیت سے تجاوز کر گیا ہے اور یہ 31.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ٹرمپ کو اب ایران میں رجیم چینج کی بات یاد ہے نہ اسکےافزودہ یورینیم کی بلکہ یاد ہے تو بس ہرمز ۔ ٹرمپ کسی بھی طرح ہرمز کی بندش ہٹوانے میں کامیابی کو ہی ایران کے خلاف جنگ میں اپنی کامیابی بتا کر جنگ کے جنجال سے نکلنا چاہتے ہیں۔

