
اردو ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ ریاست اتر پردیش کا قصبہ ’امروہہ‘ علم و دانش کا وہ گہوارہ ہے جس نے مصحفیؔ، رئیس امروہویؔ، جونؔ ایلیا اور کمال امروہیؔ جیسے نابغہ روزگار فنکار پیدا کیے۔ جنہوں نے اس شہر کا نام پوری دنیا میں روشن کیا۔ اسی کہکشاں کا ایک درخشندہ ستارہ سلیم امروہویؔ ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مدحتِ رسول ﷺ، حمدِ باری تعالیٰ اور منقبتِ اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
سلیم امروہویؔ محض ایک شاعر کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیبی روایت کے تسلسل کا نام ہے جس میں فکر کی بلندی، لہجے کی شائستگی اور عقیدت کا وفور یکجا نظر آتا ہے۔
اگر سلیم امروہویؔ کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ان کے ہاں “فن برائے فن” نہیں بلکہ “فن برائے مقصد” کا رجحان غالب ہے۔ ان کی شاعری کی سرحدیں اس کلاسیکی روایت سے ملتی ہیں جہاں لفظ کو وضو کرکے برتا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں وہ وقار اور تمکنت موجود ہے جو مذہبی شاعری کا خاصہ ہونی چاہیے۔
ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا سہلِ ممتنع میں شعر کہنا ہے۔ وہ پیچیدہ فلسفوں کو محبت اور عقیدت کے ایسے پیرائے میں ڈھالتے ہیں کہ عام قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں اور خاص طبقہ ان کے فنی رچاؤ کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے احمد فرازؔ ہو یا شمس الرحمان فاروقیؔ، تقی عابدیؔ ہو یا گلزارؔ اور ہلال نقویؔ ہو یا پروفیسر وسیم بریلویؔ ان سبھی درخشندہ ستاروں کو سلیم امروہویؔ کی شاعری نے متاثر کیا ہے جس کا اعتراف ان سبھی افراد نے اپنے مضامین میں کیا ہے جو سلیم امروہویؔ کے شعری مجموعہ میں شائع ہو چکے ہیں۔

شاعری دراصل کوزے میں دریا بند کرنے کا فن ہے، اور جب تذکرہ رسولِ اکرم ﷺ کا ہو تو الفاظ کی حرمت اور ان کا انتخاب غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ سلیم امروہوی کی نعتیہ شاعری کے حوالے سے اقبال مرزا (مدیر ماہنامہ ‘صدا’ لندن) کی یہ رائے حرفِ معتبر کی حیثیت رکھتی ہے کہ:
“حضرت علیؓ کا قول ہے کہ اختصار گفتگو کی جان ہے، سلیم امروہوی کی شاعری نے یہ ثابت کر دیا کہ چھوٹی بحروں میں بھی بہت بڑی بڑی باتیں کی جا سکتی ہیں۔”
اسی طرح کینیڈا کے معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر سید تقی عابدی، سلیم امروہوی کے موضوعاتی تنوع پر رقمطراز ہیں:
“سلیم امروہوی کے کلام میں نعتیہ مضامین میں سب سے زیادہ اشعار نبی کریم ﷺ کے اخلاق و کردار پر ملتے ہیں اور آج کے دور میں ضروری بھی یہی ہے۔”
گزشتہ ماہ دورانِ رمضان مجھے سلیم امروہویؔ کی نعتیہ اور منقبتی تخلیقات کو مکمل طور پر پڑھنے کا موقع ملا۔ جس کو پڑھ کر محسوس ہوا کہ ان کی حمدیہ شاعری میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی ربوبیت کا اعتراف بڑے عجز کے ساتھ ملتا ہے۔ وہ کائنات کے ذرے ذرے میں صانعِ حقیقی کے جلووں کی جستجو کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ غزل کی دنیا کا معتبر نام ہیں لیکن نعت گوئی ان کا خاص میدان ہے۔ میں اپنے بچپن سے ان کو سنتا آیا اور کئی نعت گو شعراء کی آواز میں بھی آپ کا کلام سنا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ نعت کہنا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے، جہاں ایک طرف الوہیت کی سرحد ہے اور دوسری طرف انسانیت کی معراج۔ سلیم صاحب اس نازک سرحد کا پاس رکھنا خوب جانتے ہیں۔ ان کی نعتوں میں مبالغہ آرائی کے بجائے سیرتِ طیبہ کے روشن پہلوؤں اور درِ رسول ﷺ سے وابستگی کا والہانہ اظہار ملتا ہے۔ ان کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو:
قرآن کے جو لفظ ہوں شامل بیان میں
تب نعت کہہ سکو گے محمدؐ کی شان میں

ان کی نعتوں میں مدینہ کی گلیوں کا تصور، سبز گنبد کی ٹھنڈک اور شفاعتِ نبی ﷺ کی امید تو ایک خاص آہنگ کے ساتھ ابھرتی ہی ہے، ساتھ ہی ان کے ہاں جس عقیدت کا اظہار ہوتا ہے وہ انسان کو بہت متاثر کرتا ہے۔نبی کریم ﷺ کا ذکر کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک عظیم سعادت اور اللہ کی خاص توفیق ہے کہ کسی انسان کی زبان پر اس کے محبوب ﷺ کا نام آئے۔ سلیم امروہویؔ کا ماننا ہے کہ ہمیں جب بھی یہ موقع ملے، تو پہلے اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں اس پاکیزہ کام کے لیے منتخب کیا۔ وہ اپنی ایک نعت کا آغاز اس طرح کرتے ہیں کہ:
جب کبھی ذکر مصطفیٰؐ کرنا
شکر خالق کا بھی ادا کرنا
ذکرِ رسول ﷺ ایک عبادت ہے اور عبادت کی توفیق اللہ دیتا ہے، اس لیے شکرِ الٰہی لازم ہے۔ نبی سے محبت دراصل اللہ ہی کی محبت کا ایک راستہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جب بھی ہم نبی کریم ﷺ کی تعریف، تذکرہ یا نعت بیان کریں، تو اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہرگز نہ بھولیں کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ذکر آپس میں وابستہ ہے۔ دوسری بات خالق کا شکر ادا کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ وہ اللہ کی طرف سے عالمِ انسانیت کے لیے سب سے بڑا تحفہ اور رحمت ہیں۔ اس عظیم نعمت (رسول ﷺ) کے تذکرے پر منعم (نعمت دینے والے یعنی اللہ) کا شکر ادا کرنا ایمان کا تقاضا ہے، شعر ملاحظہ ہو:
ڈالی نظر جو میں نے خدا کے کلام پر
تھیں آیتیں ہزار محمدؐ کی شان میں

نعت کہنا محض انسانی بس کی بات نہیں۔ جب کوئی سچے دل سے حضور ﷺ کی مدح سرائی کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ایسی غیبی تائید اور فصاحت عطا ہوتی ہے کہ اس کے الفاظ سننے والوں کے دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ سن 2010 میں منظر عام پر آئے اپنے نعتیہ مجموعہ کلام “ذکر مصطفیٰؐ” میں سلیم امروہویؔ اس مفہوم کو قلم بند کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
میں نے کیا جو ذکر محمدؐ کی ذات کا
قدرت نے جان ڈال دی میرے بیان میں
اس خوبصورت شعر میں شاعر نے نہ صرف حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عقیدت کا اظہار پیش کیا ہے بلکہ نعت گوئی کے فن کی معراج کو بیان کرتے ہوئے شاعر نے اپنی عاجزی کا بھی اظہار پیش کیا ہے۔
محبتِ اہل بیت علیہم السلام دینِ اسلام کی روح اور ایمان کا وہ بنیادی ستون ہے جس پر نجات کی پوری عمارت استوار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں “مودتِ فی القربیٰ” کو اجرِ رسالت قرار دیا، وہیں رسول اللہ ﷺ نے اہل بیتؑ کو “کشتیٔ نوح” سے تشبیہ دی ہے یعنی وہ سہارا جس سے وابستگی ہی غرق ہونے سے بچا سکتی ہے۔ لہٰذا، اہل بیتؑ کی پیروی اور ان سے سچی محبت درحقیقت حکمِ خدا کی تعمیل اور قولِ رسولؐ کی پاسداری ہے، جو دنیا و آخرت میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ خاندان رسولؐ سے یہ وابستگی محض ایک جذباتی تعلق نہیں بلکہ ایک ابدی “سرمایۂ نجات” ہے۔ “سرمایۂ نجات” جنابِ سلیم امروہویؔ کی کتاب کا عنوان اور اسکا ٹائٹل شعر اسی آفاقی حقیقت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
الفت ہے اہل بیتؑ کی ‘سرمایۂ نجات’
یہ قولِ مصطفیٰؐ بھی ہے، حکمِ خدا بھی ہے

سلیم امروہویؔ کی نعتیہ شاعری کے مندرجہ ذیل منتخب اشعار میں حضور پاک ﷺ کے پیغامِ انسانیت اور آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی سے جڑے اخلاقی انقلاب کی بہترین عکاسی دیکھنے کو ملے گی۔
جس کے پیغام نے انساں کو بنایا انساں
سارے عالم کے لئے بن کے وہ رہبر آیا
واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے کہ آپ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ حضور ﷺ کی آمد سے پہلے انسان اپنی حقیقت سے ناواقف تھا۔ آپ ﷺ کا اصل کارنامہ صرف مذہبی تعلیمات ہی نہیں بلکہ “انسان کو انسان بنانا” ہے، یعنی اسے اخلاقیات، ہمدردی اور شعورِ ذات سے نوازنا ہے۔
اُن کے کردار کی بلندی کا
تذکرہ دھیان سے سنا کرنا
سلیم امروہویؔ زور دیتے ہیں کہ حضور ﷺ کی سیرت کا تذکرہ محض عقیدت کا اظہار ہی نہیں بلکہ اپنے کردار کو سنوارنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہاں “دھیان سے سننا” دراصل اس پیغام کی گہرائی کو سمجھنے اور اسے اپنی زندگی میں ڈھالنے کی دعوت ہے۔ انسانیت کی معراج بلند کردار ہے، اور آپ ﷺ کا کردار اس کے لیے کامل نمونہ ہے۔
زمانے پہ چھائی تھی جب تیرگی
جہالت تھی ہر سمت پھیلی ہوئی
وہ پھیلا گیا علم کی روشنی
نبيٌ، نبيٌ، نبيٌ، نبیؐ
نبيٌ، نبيٌ، نبيٌ، نبیؐ

یہاں شاعر بتاتا ہیں کہ جب دنیا تاریکی اور جہالت کی لپیٹ میں تھی، تب آپ ﷺ کے پیغامِ انسانیت نے علم کی شمع روشن کی۔ پیغامِ انسانیت کا ایک لازمی حصہ تعلیم اور آگاہی ہے، جس کے ذریعے ظلمت کا خاتمہ ممکن ہوا۔
اس فہرست کے آخری اشعار میں سیرتِ محمدی ﷺ کے اثر کو بیان کیا گیا ہے۔
سیرتِ محمدؐ پر جس نے بھی نظر ڈالی
وہ بشر اُسی لمحہ ہو گیا محمدؐ کا
یہاں پیغامِ انسانیت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت اتنی جامع اور پرکشش ہے کہ جو بھی اسے غیر جانبداری سے دیکھتا ہے، وہ آپ ﷺ کے اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ انسانیت کا سب سے بڑا درس یہی ہے کہ انسان کا دل دوسرے انسان کے لیے نرم ہو جائے، جیسا کہ آپ ﷺ کی سیرت سے ثابت ہے۔
سلیم امروہویؔ کی نعت محض تعریف و توصیف تک محدود نہیں، بلکہ وہ حضور ﷺ کو ایک عالمی رہبر (رهبرِ عالم) کے طور پر پیش کرتے ہیں جن کا پیغام طبقاتی، لسانی اور جغرافیائی حدود سے بالا تر ہو کر پوری انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔ ان کے نزدیک آپ ﷺ کا لایا ہوا دین دراصل “انسانیت کا ضابطہ اخلاق” ہے۔
سلیم صاحب کا شمار ان شعراء میں ہوتا ہے جن کے ہاں حبِ علیؑ اور مودتِ اہلِ بیتؑ جزوِ ایمان ہے۔ ان کی منقبتوں میں جوش و خروش بھی ہے اور فکرِ رسا بھی۔
محمدؐ نے کہا چہرہ پہ حیدرؑ کے نظر ڈالو
عبادت کا صلہ ملتا ہے حیدرؑ کی زیارت سے
اسی کلام میں وہ لکھتے ہیں کہ:
محمدؐ اور علیؑ اک نور کے ٹکڑے ہیں یہ دونوں
ملا کر دیکھ لو جب چاہو تم سیرت کو سیرت سے

وہ معرکہ کربلا کے پیغام کو عصرِ حاضر کے تناظر میں پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے کلام میں ذکرِ علیؑ اور تذکرہِ امام حسینؑ صرف تاریخی حوالہ جات نہیں، بلکہ حق و صداقت کی علامت بن کر ابھرتے ہیں۔ منقبت کا یہ شعر ان کی عقیدت کا ترجمان ہے:
اس واسطے حسینؑ نے نیزہ پہ خود پڑھا
قرآن اہلبیتؑ سے ہر گز جدا نہ ہو
امام حسینؑ کا صبر محض ایک انسانی صفت نہیں بلکہ ایک ایسا منفرد نمونہ ہے جس کی مثال پوری کائنات کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس ذیل میں سلیم امروہویؔ کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
سر تو سجدے میں ہے سر پر ظلم کی شمشیر ہے
سارے عالم سے جدا یہ صبر کی تصویر ہے سلیم امروہویؔ نے ان اشعار میں ‘سجدہ’ اور ‘شمشیر’ کے تقابل سے بندگی کی اس معراج کو بیان کیا ہے جہاں جسمانی اذیت پر روحانی سکون غالب آ جاتا ہے۔ ان کا قلم صرف واقعاتی کربلا کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ اس کے پیچھے چھپے ہوئے فلسفہِ استقامت کو اجاگر کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک حسینی صبر محض خاموشی کا نام نہیں، بلکہ باطل کے سامنے اس عظیم احتجاج کی تصویر ہے جو تلواروں کے سائے میں بھی سرِ تسلیمِ خم نہیں کرتا۔ سلیم صاحب کا یہ اندازِ بیاں قاری کو اس حقیقت سے روشناس کرواتا ہے کہ تاریخِ انسانی میں بہت سے صابر گزرے ہوں گے، مگر وہ صبر جو عین سجدے کی حالت میں شمشیرِ ستم کے نیچے دکھایا گیا، وہ صرف اور صرف فرزندِ رسولؐ کا خاصہ ہے.

سلیم امروہویؔ نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ ایک ادبی ماحول تھا، حالانکہ وہ اپنے والد محترم کے سایہ سے بہت جلد ہی محروم ہو گئے تھے لیکن ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر عظیم امروہویؔ اور ماموں نواب سید انتقام علی خاںؔ کی رغبت سے ان کو ادبی سرپرستی حاصل ہوئی۔ جس کی وجہ سے ان کا رجحان شاعری کی طرف بڑھا اور ایک کامیاب شاعر ایک بہترین ناظم بھی بن گیا۔ آپ کی شخصیت کا ایک نہایت اہم اور روشن پہلو ان کی فنِ نظامت بھی ہے۔ سلیم امروہویؔ نہ صرف شعر کہنے کا فن جانتے ہیں بلکہ ان کا شعر پڑھنے کا انداز اور نظامت کا لہجہ بھی بہت متاثر کن ہے۔ جب وہ مائیک پر کھڑے ہوتے ہیں، تو محفل کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ لہجے کی جمگماہٹ اور ان کی آواز کا اتار چڑھاؤ سامعین کو سحر زدہ کر دیتا ہے۔ وہ موقع و محل کی مناسبت سے برمحل اشعار اور اقوالِ زریں کا ایسا تانا بانا بنتے ہیں کہ مشاعرہ یا نشست اپنی تمام تر معنویت کے ساتھ جاری رہتی ہے۔حالانکہ وہ بہت کم مشاعروں کی نظامت انجام دیتے ہیں لیکن جب بھی کسی اہم محفل یا مشاعرہ کی نظامت انجام دیتے تو اس دوران ان کی نظامت میں ایک ایسا علمی رعب ہوتا ہے جو بد نظمی کو قریب نہیں پھٹکنے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک و بیرونِ ملک کے بڑے مشاعروں میں ان کی موجودگی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔
سلیم امروہویؔ کی زبان خالص امروہوی تہذیب کی عکاس ہے۔ وہ ثقیل اور بوجھل الفاظ کے بجائے فصیح اور بلیغ اردو کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ہاں استعارات اور تشبیہات کا استعمال بہت نپا تلا ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں سوز و گداز کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کی توانائی پائی جاتی ہے جو مایوس دلوں کو حوصلہ بخشتی ہے۔مذہبی اصناف کے علاوہ انہوں نے سماجی موضوعات پر بھی قلم اٹھایا ہے، غزل کی دنیا میں انکا ایک مخصوص مقام ہے، صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر پرنب مکھرجی کی فرمائش پر وہ صدر جمہوریہ بھون میں بھی کئی بار کلام پیش کر چکے ہے۔ بیرون ملک کی محافل میں انکی مسلسل آمد رفت رہتی ہے لیکن ان کی پہچان کا اصل حوالہ ہمیشہ “مقدس شاعری” ہی رہا ہے۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ قلم کی حرمت اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک اسے پاکیزہ تذکروں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
سلیم امروہویؔ عصرِ حاضر کے ان معدودے چند فنکاروں میں سے ہیں جنہوں نے شہرت کی ہوس سے دور رہ کر فن کی آبیاری کی ہے۔ ان کی حمد، نعت، منقبت اور ان کا بے مثال اندازِ اصلاحی فکر کی شاعری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ امروہہ کی اس علمی روایت کے امین ہیں جس نے اردو ادب کو ہمیشہ وقار بخشا ہے۔
دعا ہے کہ اردو ادب کا یہ مجاہد اور عظیم خدمتگار اسی طرح اپنے فکر و فن کے چراغ جلاتا رہے اور دنیا بھر میں اردو ادب بالخصوص رثائی ادب کے حوالہ سے اس شہرِ ادب کا نام روشن کرتا رہے۔(تحریر: علی عابدی امروہوی)

