qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

پروفیسر آذرمی دخت صفوی — ہندوستان میں فارسی علم کی سرخیل

پروفیسر آذرمی دخت صفوی محض ایک استاد یا محقق نہیں — وہ ایک زندہ روایت کا نام ہیں۔ صدیوں پہلے ایران سے آنے والے اس خاندان نے جو علمی شمع جلائی، وہ آج بھی ان کے وجود میں روشن ہے

پروفیسر آذرمی دخت صفوی کا تعلق لکھنؤ کے اس نواب خاندان سے ہے جس کی جڑیں ایران کے شاہی صفوی سلسلے تک جاتی ہیں۔ ان کے جدِ اعلیٰ شاہ رحمت اللہ صفوی مغل بادشاہ محمد شاہ کے عہد میں 1737ء میں ایران سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور عظیم آباد (پٹنہ) کے گورنر مقرر ہوئے۔ یہ خاندان بعد میں دہلی، پھر لکھنؤ اور بالآخر فرخ آباد کے مشہور قصبے شمس آباد میں مستقل طور پر آباد ہوا، جہاں آج بھی ان کی حویلیاں اور جاگیریں موجود ہیں۔

اس خاندان میں علم و ادب کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ ان کے جدِ اعلیٰ نواب ولی عرف نواب دولہا فارسی کے ممتاز ادیب تھے اور فارسی زبان میں ان کی بیس سے زائد تصانیف موجود ہیں۔ گویا علم و ادب پروفیسر صفوی کو ورثے میں ملا۔

پروفیسر صفوی 1948ء میں شمس آباد، فرخ آباد میں پیدا ہوئیں۔ انہیں فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ بزرگوار سے ملی جو خود فارسی زبان و ادب کے نامور محقق اور ناقد تھے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1966ء میں بی اے، 1968ء میں ایم اے اور 1974ء میں فارسی میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ ان کا ڈاکٹریٹ مقالہ “سعدی بحیثیتِ انسان دوست اور غزل گو” فارسی تنقید میں ایک اہم اضافہ ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 32 برس تدریس کے دوران وہ شعبۂ فارسی کی سربراہ رہیں اور “انسٹی ٹیوٹ آف پرشین ریسرچ” کی بانی ڈائریکٹر بھی بنیں۔ اس وقت وہ فارسی زبان ریسرچ سینٹر کی سربراہ ہیں۔ وہ آل انڈیا پرشین ٹیچرز ایسوسی ایشن کی صدر اور رسالہ “گندِ پارسی” کی مدیر بھی ہیں۔ فارسی، اردو، انگریزی اور ہندی — چار زبانوں پر مہارت انہیں ہند-ایرانی تہذیب کی حقیقی سفیر بناتی ہے۔ ان کے ڈیڑھ سو سے زائد مقالے فارسی، اردو اور انگریزی کے معتبر علمی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔

ان کی تصانیف و تالیفات میں تشریح الاقوام، اخبار الجمال، بحر زخار (3 جلد)، معنویت مولانا در عصر حاضر، تصوف و عرفان در ادب فارسی (2 جلد)، آفتاب عالمتاب، تذکرہ نویسی در زبان فارسی (2 جلد)، ادبیات داستانی فارسی (2 جلد)، انس التائبین کا انگریزی ترجمہ، نقش مثنوی در ادبیات فارسی (2 جلد)، عرفات العاشقین (جلد دوم)، کوچہ عشق، میراثِ مکتوب ہند و ایران (2 جلد)، نظم گزیدہ، سلک السلوک، چہل ناموس، نقش غزل در ادبیات فارسی (2 جلد)، حدیثِ ہند در ادبیات فارسی، انسانگرائی و اخوتِ جہانی در ادب فارسی (2 جلد)، Revolution and Creativity، اعجاز خسروی کا انگریزی ترجمہ (اسمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ، شکاگو)، مخ المعانی، نفوذ فرہنگ و زبان و ادب فارسی در ہند، روابط ہند و ایران، نقش زبان و ادب فارسی در فرہنگ مشترک ہند، اور ادب شناسی شامل ہیں۔

پروفیسر صفوی کو انکی علمی اور لسانی خدمات کے لئے درجنوں اعزازات اور انعامات  سے نوازہ جا چکا ہے۔ ان میں چند یہ ہیں۔ پریسیڈنٹ آف انڈیاایوارڈ، 2005۔ سعدی ایوارڈ، ایران کلچر هاوس، نئی دهلی۔ خصوصی ایوارڈ، برائے فارسی اسکالر بیرون ایران، حکومت ایران۔ یونیورسٹی سرٹیفیکٹ برائے استاد ممتاز۔ میکش ایوارڈ۔ غالب ایوارڈ۔ بزرگداشت و تجلیل از طرف انجمن آثار و مفاخر فرهنگی، تهران، 18 مئی2013۔ لوحہ یادگاری از طرف فرهنگستان زبان و ادب فارسی، دانشگاہ پیام نور، دانشنامۂ شبہ قارہ، وغیرہ۔

Related posts

​سلیم امروہویؔ: فکری شائستگی اور عقیدت کا درخشندہ ستارہ

qaumikhabrein

امین انقلاب کانفرنس میں شہدائے ایران کو خراج عقیدت

qaumikhabrein

مرحوم صحافی سلیم صدیقی کو خراج عقیدت

qaumikhabrein

Leave a Comment