qaumikhabrein
Image default
uncategorizedٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

شکریہ ایران۔ امریکہ کی دادا گیری  ختم کرنے کے لئے۔

کیا آپ کو معلوم ہیکہ عراق کو تیل سے ہونے والی آمدنی امریکہ کے قبضے میں رہتی ہے۔ عراقی حکومت کو اپنے اخراجات کے لئے امریکہ سے اپنے پیسوں کی بھیک مانگنا پڑی ہے جی ہاں۔خطرناک ہتھیاروں  کا الزام لگا کر امریکہ نے عراق میں صدام کی حکومت کو تختہ الٹ کر تیل کا جو کھیل کھیلا وہی  کھیل وہ ایران میں بھی کھیلنا چاہتا تھا۔  عراق کے بعد ونیزویلا کے تیل کی دولت ہتھیانے کے بعد ٹرمپ  کی ہمت بڑھ گئی اور انہوں نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔امریکہ وہ عظیم ملک ہے جس نے دنیا کی آزادی اور جمہوریت کی بہت فکر رہتی ہے اور وہ ہر اس ملک میں “امن”اور جمہوریت قائم کرنے نکل پڑتا ہے جہاں تیل کے ذخائر موجود ہوں۔ یہ محض اتفاق ہے۔ بالکل اتفاق۔ جیسے بلی کا باورچی خانے میں جانا “محض گھومنے” کے لیے ہوتا ہے۔

عراق کی دولت امریکی بینک میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عراق کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ ہر مہینے اربوں ڈالر تیل کی فروخت سے آتے ہیں — لیکن یہ پیسہ بغداد نہیں، سیدھا نیویارک جاتا ہے۔ 2003ء سے آج تک عراق کے تیل کی تمام آمدنی فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک میں جمع ہوتی رہی ہے، اور اس انتظام کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1483 اور امریکی صدارتی حکم نامے کے ذریعے قانونی شکل دے دی گئی — یعنی لوٹ مار کو قانون کا لبادہ پہنا دیا گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ عراق کو اپنا پیسہ کیسے ملتا ہے؟ ہر مہینے ایک طیارہ بغدادہوائی اڈے پر اترتا ہے جس میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ نقد رقم ہوتی ہے — سو سو ڈالر کے نوٹوں کی گڈیاں۔ یہ امریکی امداد نہیں، یہ عراق کا اپنا پیسہ ہے جو اسے “واپس” کیا جا رہا ہے۔ یعنی مالک کو کرائے دار سے اجازت لے کر اپنے ہی گھر میں داخل ہونا پڑتا ہے، اور وہ بھی ماہانہ قسطوں میں۔

80 ارب ڈالر سے زیادہ عراقی رقم آج بھی امریکی “تحویل” میں ہے — اور یہ “تحویل” کب ختم ہوگی، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔

2020ء میں جب عراقی پارلیمنٹ نے امریکی فوج  کو ملک سے نکالنے کی قراردادپر ووٹنگ کی تو واشنگٹن نے دھمکی دی کہ اگر امریکی فوجی عراق سے جائیں گے تو عراق کو اپنی دولت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ ۔جسکے بعد عراق نے چند دنوں میں ہی موقف بدل لیا۔ ۔اب عراق میں امریکی فوج کے انخلا کی بات سنائی نہیں دیتی۔

ونیزویلا: جب جمہوریت کیفکرلاحق ہوئی

ونیزویلا میں 1999ء میں ہوگو شاویز نے اقتدار سنبھالا اور تیل کی دولت کو امریکی کمپنیوں سے واپس لے کر اپنے عوام پر خرچ کرنا شروع کردیا۔ بس اسی دن سے امریکہ کو وہاں “جمہوریت کی فکر” لاحق ہو گئی۔ 2002ء میں فوجی بغاوت کرائی گئی لیکن بغاوت ناکام ہوئی تو امریکہ نے پلہ جھاڑ لیا۔۔ ۔

پھر پابندیاں، پھر ناکہ بندی، اوراس سے بھی دل نہ بھرا تو 2020ء میں امریکہ نے صدر نکولس مادورو پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات لگا دیے اور ان کے سر پر 15 ملین ڈالر کا انعام رکھ دیا — گویا ایک آزاد ملک کے منتخب صدر کو اشتہاری مجرم کی طرح “مطلوب” قرار دے دیا گیااور انکو اغوا کرکے امریکہ لایا گیا جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائےگا۔۔ونیزویلا میں جمہوریت خطرے میں نہیں تھی وجہ یہ تھی کہ مادورو نے تیل امریکہ کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب ونیزویلا کے تیل پر بھی امریکہ کا قبضہ ہے اوراسکے ایک ریسرچ ری ایکٹر سے 13.5 کلوگرام یورینیم کو برطانیہ کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے ذریعے قبضے میں لے لیا ہے۔

تیل کے لئے ایران نشانے پر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایران کے پاس دنیا کے چوتھے بڑے تیل ذخائر ہیں۔ انقلاب کے بعد ایران  نے امریکہ کو بڑا شیطان قرار دیدیا۔ امریکہ کو وہاں “جوہری خطرہ” نظر آنے لگا ۔ حالانکہ امریکہ خود واحد ملک ہے جس نے جوہری بم استعمال کیا ہے۔ پابندیاں، دھمکیاں، پراکسی جنگیں لیکن ایران میں امریکہ کا داؤ الٹا پڑ گیا۔ وہ نہ عراق ثابت ہوا اور نہ ونیزویلا۔  اٹھائس فروی کو حملے کے بعد امریکہ جنگ کی ایسی دلدل میں پھنس گیا ہے جس سے نکلنے کے لئے وہ جتنے ہاتھ پیر مار رہا ہے اتنا ہی وہ اس دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔

امریکہ  دنیا کے قدرتی وسائل پر قبضہ چاہتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکی خارجہ پالیسی کا فارمولہ نہایت سادہ ہے: جہاں تیل ہے وہاں “آزادی کو خطرہ” ہے۔جمہوریت خطرے میں  ہے اور دنیا کو اسکےجوہری ہتھیاروں سے خطرا ہے۔ جہاں تیل نہ ہو وہاں امریکی ڈرامہ نہیں پہنچتا۔ عراق میں ہتھیار نہیں ملے لیکن تیل ضرور ملا — اور اس تیل کی قیمت نیویارک میں “محفوظ” ہے۔ دنیا کے امیر ترین تیل ملک کو اپنی ہی دولت ماہانہ قسطوں میں ملتی ہے۔لیکن ایران کے ہاتھوں امریکہ کو جو شکست، رسوائی اور ذلت ملی ہے اسکے بعد وہ دوسرے ملکوں کو دھمکیاں اور دھونس دینا بھول جائےگا۔دنیا میں امریکی دادا گیری کا دور اب ختم ہورہا ہے۔شکریہ ایران۔ دنیا کا امریکہ کی دادا گیری سے نجات دلانے کے لئے۔۔

Related posts

افغانستان میں دس لاکھ بچوں کی زندگی خطرے میں۔

qaumikhabrein

اورنگ آبادمیں اسپورٹس فیسٹیول

qaumikhabrein

افغانستان میں غریبوں پر سردی کا قہر۔ 150سے زائد افراد ہلاک

qaumikhabrein

Leave a Comment