
اسلامی اسکالر دانشور اور خطیب مولانا سلمان ندوی کا انتقال امت مسلمہ کے لئے بڑا دھچکا ہے۔انکے انتقال سے ایسا خلا پیدا ہو گیا ہیکہ جسکی تلافی ممکن نہیں ہے۔مسلمانوں کے ہر طبقے میں مولانا سلمان کے انتقال سے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔مختلف مذہبی اور سماجی تنظیموں اور افراد نے اس سانحہ پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔سماجی کارکن غزال مہدی نے بھی اس انکے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے یوئے کہا ہیکہ مولانا سلمان ندوی کا انتقال نہ صرف امتِ مسلمہ بلکہ عالمِ انسانیت کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی خسارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا سلمان ندوی ہندوستان میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، بین المذاہب ہم آہنگی، عدل و انصاف، قومی یکجہتی اور امریکی سامراج اور صہیونیت مخالف فکر کے ایک بے باک، مدبر اور باوقار رہنما تھے۔ علمی میدان میں وہ ایک ممتاز استاد، مؤثر خطیب، صاحبِ قلم عالمِ دین اور بہترین مربی تھے۔ ان کی گفتگو اور تحریروں میں علم، وسعتِ نظر، اعتدال، اخلاص اور دردِ امت نمایاں طور پر جھلکتا تھا۔

غزال مہدی نے کہا کہ مولانا مرحوم کو خاندانِ رسالت ﷺ، بالخصوص حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسینؑ سے غیر معمولی عقیدت تھی، جس کا اظہار ان کی تقریروں، تحریروں اور طرزِ فکر میں ہمیشہ نمایاں رہا۔ ان کی علمی، دینی اور سماجی خدمات ہمیشہ قدر و احترام کے ساتھ یاد رکھی جائیں گی۔ غزال مہدی نے دعا کی کہ امت کو ان کا ایسا نعم البدل عطا فرمائے جو ان نازک اور پُرآشوب حالات میں بصیرت، حکمت، اعتدال اور جرأت کے ساتھ قوم کی رہنمائی کر سکے
