
عراق میں شہید رہبر انقلاب کی تشیع جنازہ میں ایک کمسن لڑکے نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔اسکے جزبے کو سراہتے ہوئے شہد رہبر کے دفتر نے اسکو مدعو کیا اسکو اعزاز سے نوازہ اور امام را کےروضے کی زیارت کا شرف دلایا۔
جب شہید رہبرِ معظمؒ کا جسدِ خاکی کربلا پہنچنے والا تھا، تو راستے بھر عقیدت مند اپنے رومال، ٹوپیاں، انگوٹھیاں اور دیگر تبرکات جنازے پر پھینک رہے تھے، تاکہ وہ شہید رہبرؒ کے جسدِ مبارک سے مس ہو جائیں۔اسی ہجوم میں ایک معصوم عراقی بچہ بھی موجود تھا۔ اس کے پاس نہ رومال تھا، نہ انگوٹھی، نہ کوئی اور چیز۔ اس نے بے اختیار اپنی شرٹ اتاری اور جنازے پر پھینک دی، صرف اس آرزو میں کہ وہ بھی شہید رہبرؒ کے جسدِ خاکی سے مس ہو جائے۔
یہ منظر اس قدر دل کو چھو لینے والا تھا کہ اس کی ویڈیو پورے عراق میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جب یہ ویڈیو عراق میں دفترِ شہید رہبرِ معظمؒ تک پہنچی تو اعلان کیا گیا کہ اس بچے کو تلاش کیا جائے، تاکہ اس کی بے مثال محبت اور عقیدت کی قدر کرتے ہوئے اسے انعام دیا جا سکے۔کئی دن کی تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ یہ بچہ کربلا سے تقریباً 450 کلومیٹر دور واقع شہر تلعفر سے صرف تشییعِ جنازہ میں شرکت کے لیے آیا تھا۔ اسے عربی بھی نہیں آتی تھی، بلکہ وہ صرف اپنی مادری زبان ترکمانی بولتا تھا۔

بالآخر عراق میں شہید رہبرِ معظمؒ کے نمائندۂ خصوصی، آیت اللہ سید مجتبیٰ الحسینی، نے اس بچے کو دفتر میں مدعو کیا اور دفترِ رہبرِ معظمؒ کی جانب سے اسے بسیجی رومال اور ایک انگوٹھی بطورِ تحفہ پیش کی۔ کسی مؤمن کی طرف سے اس بچے کو مشہد میں امام علی رضا ع کی زیارت اور شہید رہبر معظم رح کے مرقد کی زیارت کا بھی اعلان کیا گیا۔
محبت اور عشق زبان، نسل اور سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی؛ سچے عشق کی اپنی ہی ایک زبان ہوتی ہے۔
