
وکٹری اسپیچ میں عبدل السید نے کہا کہ ‘آج ہم نے’ان شاء اللہ‘ کو ’الحمدللہ‘ میں بدل دیا ہے’ میں اپنی کامیابی عوام کے نام کرتا ہوں، یہ مزدوروں کی نہیں میری جنگ ہے۔مشی گن کے سینیٹ انتخاب میں عبدل السیّد کی کامیابی محض ایک نشست کی جیت نہیں۔ یہ اس سیاست کی شکست ہے جو مذہبی شناخت کو ہتھیار بنا کر ووٹرز کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ اس ریاست کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، اور یہ حقیقت ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جنہوں نے مہینوں تک ان کے ایمان کو ان کا جرم بنا کر پیش کیا۔ اس مہم کا سب سے شرمناک پہلو خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار رہا۔ ایک صدر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام شہریوں کا نمائندہ بن کر بولے گا، مگر ٹرمپ نے ریاست در ریاست جلسوں میں عبدل کو “جہادی” کہا، انہیں “محمد” کہہ کر پکارا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں سینیٹ میں داخل ہونے سے پہلے میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا چاہیے۔ پورٹ ہورون کے جلسے میں معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ گیا، جہاں گیارہ ستمبر کے سانحے کا حوالہ دے کر ایک امریکی شہری کو، جو مشی گن ہی میں پیدا ہوا، ملک پر حملہ آور دشمن کے برابر کھڑا کر دیا گیا۔ اسی اسٹیج سے یہ جملہ بھی کہا گیا کہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ کسی کو امریکی نہیں بناتا۔ یہ وہی زبان ہے جو ٹرمپ نے برسوں پہلے باراک اوباما کے خلاف استعمال کی تھی، اور جس کا جھوٹ ثابت ہو چکا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس بار نشانہ ایک ایسا امیدوار تھا جس کا واحد “قصور” اس کا مسلمان ہونا تھا۔

س جیت کا ایک پہلو ہندوستانی قاری کے لیے خاص دلچسپی رکھتا ہے۔ عبدل السید کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جکاکو کا خاندانی تعلق کرناٹک کے قصبے بھٹکل سے ہے، جو منگلورو سے تقریباً 140 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ماہرِ نفسیات ہیں اور مشی گن ہی میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں۔ دونوں کی ملاقات یونیورسٹی آف مشی گن میں ہوئی، اور رپورٹوں کے مطابق ان کی منگنی اس وقت ہوئی جب عبدل پہلے سال کے طالب علم تھے، اور 2006 میں دونوں رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔ سارہ نے 2015 میں کولمبیا یونیورسٹی کے میڈیکل کالج سے ڈاکٹری کی ڈگری لی۔ ان کے والد ڈاکٹر طیب جکاکو، جو گردوں کے معالج ہیں، بھٹکل میں پلے بڑھے اور ایم بی بی ایس کے بعد امریکہ منتقل ہوئے۔ ان کے دادا شمس الدین جکاکو ایک معروف وکیل اور ماہرِ تعلیم تھے، جنہوں نے بی ڈی جٹی کی حکومت میں نائب وزیرِ مالیات کی ذمہ داری نبھائی۔ سارہ اس انتخابی مہم میں پوری طرح سرگرم رہیں۔ ایک جلسے میں انہوں نے ہنستے ہوئے اپنے شوہر کے بارے میں کہا کہ ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا سوائے میرے۔ یہ جملہ اس رشتے کی ایک جھلک دکھاتا ہے۔ ایک ایسے امیدوار کے لیے، جسے مخالفین “اجنبی” اور “غیر امریکی” ثابت کرنے پر تلے تھے، یہ بات کم معنی خیز نہیں کہ اس کے گھر میں علم، طب اور خدمت کی وہ روایت موجود ہے جو دو براعظموں کو جوڑتی ہے۔

اس مہم میں پیسے کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ ایلن مسک کی سپر پیک نے، جس کے سب سے بڑے مالی معاون وہ خود ہیں، اس مقابلے میں کروڑوں ڈالر جھونکے اور رپورٹوں کے مطابق اس رقم کا بیشتر حصہ عبدل کے خلاف اشتہارات پر خرچ ہوا۔ ٹرمپ کی اپنی حامی سپر پیک نے بھی راجرز کے لیے اشتہارات کی بھاری بکنگ کی۔ جب دنیا کے امیر ترین آدمی اور صدرِ امریکہ ایک ہی ریاست کے ایک ہی انتخاب پر یوں ٹوٹ پڑیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک ڈاکٹر اور سابق صحت عامہ کے افسر سے اتنا خوفزدہ کیوں تھے۔ جواب شاید اس کے پیغام میں ہے۔ عبدل نے سیاست میں پیسے کے اثر کے خاتمے، سب کے لیے علاج اور ارب پتیوں کی گرفت توڑنے کی بات کی، اور یہ بات اسی طبقے کو چبھتی ہے جو اس گرفت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
اس انتخاب میں مسلم دشمنی کو الزام کی شکل بھی دی گئی۔ عبدل پر اخوان المسلمون سے تعلق کا الزام لگایا گیا جس کی انہوں نے بار بار اور صاف الفاظ میں تردید کی۔ ان کی والدہ کے برسوں پرانے ایک ادارے سے وابستگی کو اچھالا گیا، حالانکہ رپورٹوں کے مطابق ان پر کسی غلطی کا الزام نہیں تھا۔ ایک مباحثے میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ امریکہ کے ساتھ ہیں یا بیرونِ ملک کی دہشت گرد تنظیموں کے۔ ایک امریکی شہری سے، جو ریاست میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا، یہ سوال ہی اپنے آپ میں توہین ہے۔ عبدل کا جواب وقار سے بھرپور تھا کہ انہیں اپنے آئین پر فخر ہے جو ہر شہری کو اپنے طریقے سے عبادت کا حق دیتا ہے۔
۔

ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی نئی نہیں۔ جب دلیل کم پڑتی ہے تو شناخت پر حملہ کیا جاتا ہے، جب پالیسی پر جواب نہیں بن پاتا تو خوف بیچا جاتا ہے۔ مگر مشی گن کے ووٹرز نے، جن میں عرب اور مسلم برادری کے ساتھ بہت سے دوسرے طبقے بھی شامل تھے، یہ سودا خریدنے سے انکار کر دیا۔ اگست میں عبدل نے اپنی ہی پارٹی کے مضبوط اسٹیبلشمنٹ امیدوار کو شکست دی تھی، اور نومبر میں انہوں نے ثابت کیا کہ نفرت انگیز مہم اور ڈالرز کی مالی طاقت بھی ہر بار فتح کی ضمانت نہیں۔ اس نتیجے کا ایک سبق خود ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے بھی ہے۔ جو سیاست مذہب کو گالی بنا دے، وہ وقتی طور پر کچھ جذبات تو بھڑکا سکتی ہے، مگر ایک متنوع معاشرے میں اس کی عمر کم ہوتی ہے۔ امریکہ کی طاقت ہمیشہ اس وعدے میں رہی ہے کہ شہری کی قدر اس کے عقیدے سے نہیں، اس کے کردار اور خدمت سے طے ہوگی۔ مشی گن کے ووٹروں نے اسی وعدے کو دہرایا ہے

