qaumikhabrein
Image default
uncategorizedٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

ٹرمپ ایران پر جوہری حملے کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔

امریکی صحافی اور معروف تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ٹکر کارلسن نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے حوالے سے آئندہ چند دن انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے یا دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

کارلسن نے ایران کے وسطی علاقے میں واقع پِک ایکس ماؤنٹین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مقام پر موجود زیرِ زمین تنصیبات کے گرد تقریباً 300 فٹ موٹی ٹھوس چٹانی تہہ ہے، جسے روایتی ہتھیاروں سے نشانہ بنانا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق اس تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیار کے استعمال کا امکان زیرِ غور آ سکتا ہے۔ انہوں نے ایک باخبر مبصر کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر ٹرمپ سے روزانہ رابطہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے حامی ہیں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے مخالف ہیں۔ کارلسن کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف بھی نیتن یاہو کے مؤقف کے قریب ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف معاہدے کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے حامی ہیں۔کارلسن نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے 27 ستمبر کو خفیہ طور پر ابوظہبی کا دورہ کیا تھا تاکہ متحدہ عرب امارات کو ایران کے خلاف آخری اور فیصلہ کن حملے کے لیے امریکی قیادت پر دباؤ ڈالنے پر آمادہ کیا جا سکے، تاہم امارات نے اس درخواست کی حمایت نہیں کی۔

وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر

کارلسن نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کیا گیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق تابکاری خلیج فارس کے پانی کو آلودہ کر سکتی ہے، جس سے خطے میں تقریباً 10 کروڑ افراد کی پانی کی فراہمی اور ماحولیات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی جوہری حملہ عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ کارلسن کے مطابق روس نے دو حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اس سے روس کو یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا جواز مل سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ہندستان کے درمیان ممکنہ جوہری کشیدگی اور شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کے خلاف ایسے ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے کا بھی ذکر کیا۔

امریکی صحافی اور معروف تجزیہ کار ٹکر کارلسن

کارلسن نے یہ بھی کہا کہ امریکی جوہری حکمت عملی میں رواں سال فروری سے خاموشی کے ساتھ تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں میدانِ جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی راہ نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن میں اس سنگین خطرے پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔

تجزیے میں کارلسن نے امکان ظاہر کیا کہ ٹرمپ 7 نومبر تک ایران کے خلاف آئندہ اقدام کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق امریکی صدر ابھی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچے اور جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف کی جانب سے پیش کیے جانے والے مذاکراتی راستے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

کارلسن کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ فروری میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کی ہلاکت کے بعد ایرانی قیادت کے بعض حلقوں میں زیادہ سخت مؤقف پیدا ہوا ہے۔ اس کے باوجود کارلسن کا کہنا ہے کہ ایران کے فیصلہ ساز حلقوں سے رابطے رکھنے والے افراد کے مطابق ایک طویل جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں اور معاہدے کا راستہ تلاش کرنا ضروری ہے۔

ٹکر کارلسن نے اپنے تجزیے کے اختتام پر کہا کہ دنیا کی آبادی سے اس ممکنہ تباہ کن فیصلے کے بارے میں کوئی رائے نہیں لی جا رہی، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں

Related posts

سلمان رشدی کی حالت نازک۔حملے میں لیور کو پہونچا نقصان۔ ایک آنکھ بھی ہو سکتی ہے ضائع

qaumikhabrein

یوکرین کو امدادی سامان کی آڑ میں ہتھیار بھیجے جارہے تھے

qaumikhabrein

شرعی احکامات کو رسومات کی قید سے آزاد کرنا ضروری۔ مولانا شہوار نقوی

qaumikhabrein

Leave a Comment