qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

صبا حیدر کی تاریخی کامیابی۔ اورنگ آباد سے الینوائے اسمبلی تک

امریکی ریاست الینوائے کے حالیہ انتخابات میں صبا حیدر نے ایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی اس امیدوار نے 3 نومبر 2026 کو ہونے والے عام انتخابات میں 84ویں ڈسٹرکٹ سے اسٹیٹ ریپریزنٹیٹو کی نشست جیت لی اور ریپبلکن امیدوار برائن اسکوبا کو بڑے فرق سے شکست دی۔ دستیاب اعداد کے مطابق انھیں 22,032 ووٹ ملے جبکہ ان کے مدمقابل کو 8,906 ووٹ حاصل ہوئے۔ میڈیا رپورٹوں میں ان کے ووٹوں کا تناسب 71.8 فیصد بتایا گیا ہے۔ اس جیت کے ساتھ وہ الینوائے جنرل اسمبلی میں پہنچنے والی پہلی جنوبی ایشیائی تارکِ وطن خاتون بن گئی ہیں۔ امریکی سیاست میں ہندوستانی نژاد خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کے لحاظ سے اسے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

صبا حیدر کا ہندوستان سے گہرا رشتہ ہے۔ ان کی جڑیں اتر پردیش کے ضلع بلند شہر کے قصبہ اورنگ آباد سے میں ہیں۔ اورنگ آباد کا نام سنتے ہی ذہن عموماً مہاراشٹر کے اس تاریخی شہر کی طرف جاتا ہے جسے مغل بادشاہ اورنگ زیب نے بسایا تھا، لیکن بلند شہر میں بھی اسی نام کا ایک قصبہ موجود ہے اور صبا کا خاندان اصل میں وہیں کے محلہ سادات کا رہنے والا ہے۔ ان کے والد سید علی حیدر اتر پردیش جل نگم میں چیف انجینئر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ صبا کی ابتدائی تعلیم غازی آباد میں ہوئی، جہاں انھوں نے ہولی چائلڈ اسکول اور آر سی سی گرلز کالج سے پڑھائی کی۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وائلڈ لائف سائنسز میں ایم ایس سی مکمل کی اور بتایا جاتا ہے کہ وہ گولڈ میڈلسٹ بھی رہیں۔ یوں ایک علمی اور سنجیدہ ماحول نے ان کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔

سنہ 2005 میں شادی کے بعد صبا حیدر امریکہ چلی گئیں۔ ان کے شوہر علی کاظمی کا تعلق علی گڑھ سے ہے۔ انھوں نے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، علی گڑھ سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور آج Large Bank میں وائس پریسیڈنٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ علی اور صبا کے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ نئے ملک میں صبا نے یوگا انسٹرکٹر کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کیا۔ یوگا کے ذریعے انھوں نے ہندوستانی تہذیب اور روایات کو متعارف کرایا اور مقامی برادریوں میں اپنی پہچان بنائی۔ سماجی سرگرمیوں میں ان کی فعال شرکت نے انھیں لوگوں میں مقبول بنایا، اور یہیں سے ان کے سیاسی سفر کی ابتدا ہوئی۔

سیاست میں ان کی پہلی نمایاں کامیابی سنہ 2024 میں سامنے آئی، جب انھوں نے ڈوپیج کاؤنٹی بورڈ کے ڈسٹرکٹ 5 کا انتخاب جیتا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انھیں 40,330 ووٹ ملے جبکہ ان کی حریف کو 31,395 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس کے بعد مارچ 2026 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخاب میں انھوں نے 63.1 فیصد ووٹ حاصل کر کے پارٹی کی باضابطہ امیدوار بننے کا اعزاز پایا، اور پھر نومبر کے عام انتخابات میں وہ اسٹیٹ ریپریزنٹیٹو  منتخب ہوئیں۔اس کامیابی پر ان کے خاندان اور چاہنے والوں میں خوشی کی لہر ہے۔ سید علی حیدر نے بیٹی کی اس کامیابی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق غازی آباد میں ان کے گھر پر مبارک باد دینے والوں کا تانتا بندھا رہا اور مٹھائیاں بانٹی گئیں۔

صبا حیدر کی کہانی ان نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے جو چھوٹے شہروں اور قصبوں میں بیٹھ کر بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ تعلیم، محنت، سماجی سرگرمی اور پختہ ارادے کے بل پر انھوں نے ثابت کیا کہ صلاحیت اور لگن کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوتی۔ بلند شہر کا اورنگ آباد، جو شاید تاریخ کی کتابوں میں مہاراشٹر کے اورنگ آباد کی طرح مشہور نہ ہو، آج ایک نئی شناخت کے ساتھ دنیا کے سامنے ہے۔

Related posts

امروہا میں شاہ ولایت کی عرس تقریبات کا آغاز

qaumikhabrein

جیکسن کو فلسطین کے حق میں بولنے کی سزا ملی تھی۔

qaumikhabrein

ایران نے تیار کیا اب تک کا سب سے مضبوط سوپر کمپیوٹر۔

qaumikhabrein

Leave a Comment