
امریکہ کی یہ روش رہی ہیکہ اسکی پالیسیوں کو تسلیم نہیں کرنے والے ملکوں پر معاشی پابندیاں لگاتا ہے۔ ان ملکوں کی کمپنیوں،بینکوں صنعتکاروں کے اپنے ملک میں جمع ثاثوں کو ضبط کرلیتا ہے۔ جن تنظیموں یا افراد پر وہ دہشت گرد ہونے کا الزام لگاتا ہے انکے عالمی دوروں اورمالی لین دین پر قدغن لگاتا ہے۔ ان تک فنڈز پہونچنے کی راہیں مسدود کردیتا ہے لیکن اس طرح کی پابندی امریکہ نے کبھی طالبان یا اسکے لیڈروں پر نہیں لگائی۔

اب افغانستان پر طالبان کے مکمل کنٹرول حاصل کرلینے کے بعد امریکہ نے افغانستان کے مرکزی بینک دی افغان بینک کے اثاثوں کو منجمد کردیا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق دی افغان بینک کے امریکی بینکوں میں موجود 9.5 بلین ڈالر کے اثاثوں کو اس لئے منجمد کیا گیا ہیکہ مستقبل میں بننے والی طالبان کی حکومت ان اثاثوں کا استعمال نا کرسکے۔ دی افغان بینک کے بڑے اثاثے نیو یارک فیڈرل ریزرو اور دیگر امریکی مالی اداروں کے پاس ہیں۔ امریکی حکومت نے امریکی بینک اکاؤنٹس میں موجود افغان حکومت کے اثاثوں کو بھی منجمد کردیا ہے۔


