
پدم شری فاطمہ زکریہ کو اورنگ آباد میں سپرد لحد کردیا گیا۔ مو لانا آزاد کالج کی مسجد کے امام عبدالخالق نے فاطمہ زکریہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس موقع پر شہر اور بیرون شہر کی ممتاز ہستیاں اور کالج کے طلبا اور اساتزہ موجود تھے۔ دوران تدفین جسمانی فاصلے کا خاص خیال رکھا گیا ، میڈم زکریا کو زکریا کیمپس میں انکے شوہر ڈاکٹر رفیق زکریا کے مزار کے قریب ہی دفن کیا گیا ہے۔۔
نماز جنازہ اور تدفین میں ایم پی امتیاز جلیل ، ڈاکٹر ارتکاز افضل ، ممبئی سے پہنچے سینئر صحافی سرفراز آروز اور دیگر عمائدین شہر کثیر تعداد میں موجود تھے۔ کورونا گائیڈ لائن کی روشنی میں تدفین سادگی سے انجام پائی۔ آخری رسوم کے موقع پر پدم شری ایوارڈ یافتگان کو گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا ہے لیکن کورونا پروٹوکول کی وجہ سے گارڈ آف آنر نہیں پیش کیا گیا۔۔ فاطمہ زکریا کے بھانجے ہارون انصاری نے اس موقع پر فاطمہ زکریا کے مداحوں سے خصوصی طور پر دعائے مغفرت کی اپیل کی ۔ ایم پی امتیاز جلیل نے شہریوں سے اپیل کی کہ جو قیمتی ادارہ ذکریہ پریوار کی جانب سے انہیں ملا ہے اس کی ترقی اور بقا کے لئے کوشش کرتے رہیں۔ فاظمہ ذکریہ کی بیٹی تسنیم ذکریہ اور بھانجے ہارون آدم کو لوگوں نے مرحومہ کا پرسہ دیا.

گزشتہ روز اٹھاسی برس کی عمر میں فاطمہ ذکریہ کا اورنگ آباد کے کمل نین بجاج اسپتال میں انتقال ہو گیا تھا۔ فاطمہ ذکریہ کے فرزند اور عالمی شہرت یافتہ صحافی فرید ذکریہ عالمی پروازیں بند ہونے کے سبب اورنگ آباد نہیں پہونچ سکے۔ ڈاکٹر رفیق ذکریہ اور فاطمہ ذکریہ کی قوم اور ملک کے تئیں تعلیمی خدمات کو لوگوں نے یاد کیا۔
