
سوشل میڈیا کے ذریعے مدد طب کرنا بھی اب یو پی میں لوگوں کو مہنگا پڑ رہا ہے۔ جی ہاں واقعہ اتر پردیش کے امیٹھی کا ہے۔ ششانک یادو نامی ایک ٹویٹر صارف نے اپنے دادا کے لئے آکسیجن سلنڈر کی اپیل کی تھی۔ پولیس نے ششانک یادو کے خلاف مبینہ طور پر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کے لئے افواہ پھیلانے کے لئے ایف آئی آر درج کی ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہیکہ ششانک یادو گمراہ کن جانکاری پھیلا رہا تھا۔ ششانک نے حالاکہ اپنے دادا کے کورونا مریض ہونے کا ذر نہیں کیا تھا۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق رام گنج پولیس اسٹیشن کے پولیس سب انسپیکٹر ویریند سنگھ نے کہا کہ ششانک یادو نے یو پی کی حکومت کو نشانہ بنانے کے لئے آکسیجن سپلائی اور کورونا وائرس کے بارے میں غلط جانکاری پھیلائی۔ اخبار کے مطابق ملزم کے جھوٹے ٹویٹ کے بعد بہت سے افراد نے یوپی حکومت کو لعنت ملامت کی۔
