
بنارس کی مقامی عدالت نے گیان واپی مسجد کمپاؤنڈ کا سروے کرنے کی محکمہ آثار قدیمہ کو ہدایت دی ہے۔ گیان واپی مسجد کاشی وشوناتھ مندر سے بالکل متصل ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کو ایک پانچ رکنی ٹیم بنا کر اس بات کا سروے کرنے کی ہدایت دی گئی ہیکہ اس عمارت کے ڈھانچے میں تغیر و تبدل کیا گیا ہے یا اضافہ کیا گیا ہے یا کوئی اور مذہبی ڈھانچہ ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہیکہ ماہرین کی پانچ رکنی کمیٹی کے دو ارکان اقلیتی فرقے سے ہوں۔

کمیٹی یہ پتہ لگائے گی کہ متعلقہ مسجد کی تعممیر سے پہلے وہاں کوئی مندر تھا یا متنازعہ مقام پر اوپر سے کوئی ڈھانچہ بنا دیا گیا۔ مارین کی کمیٹی کو جیو ریڈیو لاجی سسٹم استعمال کرنے کا بھی اختیار ہوگا اور یہ اطمینان بھی کرنا ہوگا کہ حقائق جاننے کے ئے کسی کھدائی کی تو ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کو کمیٹی کے لئے ایک آبزرور مقرر کرنے کی بھی ہدایت دی۔ انجمن انتظامیہ کمیٹی کے جوائنٹ سیکریٹری سید یاسین نے عدالت کے حکم پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں امید تھی کہ بابری مسجد کے بعد امن و امان ہوگا لیکن لگتا ہیکہ عدالتیں اور اقتدار میں بیٹھے لوگ ایسا نہیں چاہتے۔
