
عصمت ، طہارت ،علم اور خلقت کے اعتبار سے 14 معصومین یکساں ہیں لیکن ولادت کے حوالے سے بنت پیغمبر بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہ بقیہ 13 معصومین سے مختلف اور منفرد مقام رکھتی ہیں۔جناب رسول اکرم سے لیکر مولا علی اور ان سے لیکر امام آخر الزماں تک تمام معصومین نبیوں اور اماموں کے پاک و مقدس صلبوں سے گزرتے ہوئے ولادت کی منزل تک پہونچے لیکن بی بی فاطمہ زہرا اپنی ولادت کے لئے صلبوں کی محتاج نہیں رہیں بلکہ انکا مقدس نور براہ راست اللہ کی جانب سے رسول اکرم کو عطا کیا گیا۔ مولانا سید یوسف مشہدی نے امروہا میں بی بی زہرا کی اندوہناک شہادت کے سلسلے میں منعقد ایک مجلس سے خطاب کرتے ہوئے آیات قرآنی اور احادیث پیغمبر کے حوالے سے بنت پیغمبر کے فضائل و مناقب بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی فرد کے مقام و مرتبے کے تعین کے لئے علما نے تین پیمانے اور معیارات مقرر کئے ہیں۔ مولانا یوسف نے کہا کہ کسی شخصیت کے مقام و مرتبے کا پتہ لگانے کے لئے یہ دیکھا جائےگا کہ اسکے سلسلے میں اللہ کا کیا کہنا ہے ۔ رسول کی اسکے بارے میں کیا رائے ہے اور اسکے دشمن اسکے سلسلے میں کیا کہتے ہیں۔

مولانا مشہدی نے آیت تطہیر، آیت مباہلہ، صورہ دہ اور آیت قربا سمیت متعدد آیات قرآنی بیان کرتے ہوئے کہا کہ بعض علما کا یہ دعویٰ ہیکہ قرآن میں کم از کم تین سو آیات بی بی زہرا کی شان میں موجود ہیں اسکے علاوہ رسولوں اور نبیوں کی ماؤں کے سلسلے میں جو بھی فضائل قرآن میں موجود ہیں وہ تمام ذات بنت رسول میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ مولانا یوسف مشہدی نے علامہ اقبال کے کچھ فارسی اشعار پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال نے بی بی زہرا کی ہستی کی منزلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ و رسول کی شریعت کی زنجیر میں جکے ہوئے ہیں ورنہ وہ بی بی زہرا کی قبر مبارک پر سجدہ کرتے اور اسکا طواف کرتے۔

ایام فاطمیہ میں مجالس عزا کے اہتمام پر کئے جانے والے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مولانا مشہدی نے کہا کہ بی بی زہرا پر ڈھائے جانے والے مظالم واقعات کربلا سے کسی طور کم نہیں ہیں۔ایام فامطہ کی مجالس میں جو مصائب بیان کئے جاتے ہیں ان میں اور واقعات کربلا میں بہت سی مماثلتیں ہیں۔ کربلا میں خیموں کا جلنا ہو، جناب علی اصغر بے شیر کی شہادت ہو ، امام حسین کی لاش کو پامال کرکے انکی پسلیوں کو چور چور کرنا ہو، امام سجاد کو بیڑیوں اوررسیوں میں جکڑا جانا ہو یا بہن کے سامنے بھائی کو ذبح کئے جانے کے واقعات ہوں ان سے مماثلت رکھنے والے مصائب رسول اللہ کی وفات کے بعد بی بی زہرا اور مولا علی پر گزرے۔ بی بی زہرا کا دروزہ جلایا گیا۔ بی بی کی پسلیاں شکستہ ہوئیں۔ جناب محسن بی بی زہرا کے بطن میں شہید ہوئے ،مولا علی کے گلے میں رسی کا پھندہ ڈالا گیا اور امام حسن اور امام حسین کے سامنے انکی ماں کو ظالموں کے ذریعے زد و کوب کیا گیا۔

امروہا کے محلہ جعفری کے عزا خانے میں بی بی زہرا کی شہادت کے سلسلے میں خمسہ مجالس عزا کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مولانا یوسف مشہدی اس خمسہ مجالس سے خطاب کر رہے تھے۔ پہلی دوسری اور تیسری مجلس میں سید مزمل حسین،سید مہتاب حسین اور سیدافضال حیدر نے اپنے ہمنواؤں کے ساتھ مرثیہ خوانی کی۔ ہر برس اس خمسہ مجالس کا اہتمام سید اختر عباس اور انکے برادران کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

