
امام حسین کے فرزند ہم شبیہ پیغمبر جناب علی اکبر علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر امروہا میں ‘جشن علی اکبر’ کے عنوان سے ایک طرحی محفل منقبت کا اہتمام کیا گیا۔ عزا خانہ مسماۃ چھجی میں منعقدہ اس محفل کی صدارت مولانا صفدر رضا امامی نے کی جبکہ مسند پر مولانا منظر عباس، استاد شاعر شان حیدر بے باک امروہوی اور نوشہ امروہوی بھی موجود تھے۔ محفل کی نظامت ہر سال کی طرح ڈاکٹر لاڈ لے رہبر نے کی۔
حضرت علی اکبر کی شان میں منظوم نزرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے شعرا کو مصرع طرح ”علی اکبر میں حسن احمد مختار ملتا ہے” دیا گیا تھا۔ مولانا منظر عباس نے تلاوت کلام الہیٰ سے محفل کا آغاز کیا جبکہ تاجدار امروہوی نے بارگاہ رسالت مآب میں طرح میں ہی نعت کا نزرانہ پیش کیا۔

نوشہ امروہوی، ڈاکٹر لاڈلےرہبر، شان حیدر بے باک،حسن امام امروہوی،وسیم امروہوی، مولانا انضار،فرقان امروہوی، جمال عباس فہمی، اشرف فراز، کوکب امروہوی،شاندار مجتبیٰ، ضیا کاظمی،عسکری امروہوی،ارمان ساحل، شاہنواز تقی، ناظم امروہوی،علمدار سیتا پوری، ضیغم ابن شمیم امروہوی ،قسیم ابن رفیع سرسوی،فیضی ابن لیاقت ،معجز امروہوی، شاداب امروہوی، سامی امروہوی،محفل کے کنوینر شجاع عباس اورمحسن امروہوی نے بار گاہ ہم شبیہ پیغمبر میں طرحی کلام پیش کیا۔ 17 کم عمر مدح خوانوں نے بھی محفل میں مختلف شعرا کا کلام پیش کرکے محفل کی رونق میں اضافہ کیا۔

گزشتہ اکیس برس سے یہ محفل نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد کی جارہی ہے۔ کورونا کی وجہ سے ایک سال اس جشن کا اہتمام نہیں ہوسکا تھا۔حضرت علی اکبر کی ولادت گیارہ شعبان کو سن تینتالیس ہجری میں مدینہ میں ہوئی تھی۔انکی والدہ جناب لیلیٰ بنت ابو مرہ تھیں۔ ابو مرہ صحابی پیغمبر اروہ ابن مسعود کے فرزند تھے۔

جناب علی اکبر کے سن ولادت کے سلسلے می مورخین کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ جناب علی اکبر شکل و صورت، اخلاق واطوار اور رفتار و گفتار میں رسول اللہ سے بہت زیادہ مشابہ تھے۔امام حسین علیہ السلام کی زبان معجز بیان سے تاریخ میں یہ قول ملتا ہیکہ انہیں جب بھی اپنے نانا نانا رسول اللہ کی زیارت مقصود ہوتی تھی وہ اپنے اس فرزند کو دیکھ لیا کرتے تھے۔

