
عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی اے ایم یو سے امروہا کا رشتہ اس وقت سے قائم ہے جب اے ایم یو محمڈن اینگلو اورینٹل کالج(ایم اے او) کالج ہوا کرتا تھا۔ امروہا کی جانی مانی شخصیت نواب وقار الملک مشتاق حسین اے ایم یو کے بانی سر سید احمد خاں کے دست راست تھے۔ اس عظیم تعلیمی ادارے کے قیام میں وقار الملک نے تاریخی کردار ادا کیا۔ وہ یونیورسٹی کے لئے سرمایہ کا بندو بست کرنے کے لئے قائم ‘کالج فنڈ کمیٹی’ کے سرگرم رکن تھے اور انہوں نے ایم اے او کالج جو بعد میں اے ایم یو بنا ,کے لئے ساڑھے سات لاکھ روپئے کا بندو بست کیا تھا۔ وقار الملک طویل عرصہ تک علی گڑھ یونیورسٹی کے سیکریٹری رہے۔ پروفیسر منظر عباس نقوی اور خلیق احمد نظامی سمیت متعدد علمی اور ادبی شخصیات اے ایم یو سے وابستہ رہیں۔مختلف شعبوں کے سربراہ اہل امروہا رہے۔ لیکن یونیورسٹی کے انتظامی امور سے امروہا کی شخصیات کبھی وابستہ نہیں رہیں لیکن مکینیکل انجینئرنگ کے تعلیمی شعبے سے وابستہ پروفیسرعابد علی خاں وہ شخصیت ہیں جو تعلیم کے ساتھ ساتھ یو نیورسٹی کے انتظامی امور میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

عابد علی خاں کی انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے پہلےانہیں ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن، مقرر کیا گیا اب انہیں ایک اور اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہیں یو نیورسٹی کے انٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل IQAC کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔یہ سیل تعلیمی ادارے میں معیار کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ پروفیسر عابد علیخاں کا شاندار تعلیمی ریکارڈ رہا ہے عابد علی خاں کو ارگونومکس، وائبریشن، WMSDs کا ماہر مانا جاتا ہے۔عابد علی خاں نے ابتدائی تعلیم وطن عزیز امروہا کے امام المدارس (آئی ایم ) انٹر کالج سے حاصل کی۔ انہوں نے 1995 میں اے ایم یو سے بی ایس سی انجینڑنگ اور 1998 میں اے ایم یو سے ہی ایم ایس سی انجینئرنگ کی۔ 2009 سے2013 تک اے ایم یو میں انجینئرنگ کے شعبے سے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر وابستہ ہوگئے۔ 2013 سے آج تک پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔2004 میں انہوں نے یونیورسٹی آف لیمرک، آئرلینڈ سے پی ایچ ڈی کیا۔

عابد علی خاں اپنے خاندان کی علمی وراثت کے امین ہیں۔ انکا خاندان حکیموں اور وکیلوں کے خاندان کے طور پر شہرت رکھتا ہے۔ اس خاندان میں نہ صرف قابل وکیل اور حاذق طبیب گزرے ہیں بلکہ انکے اجداد اعلی عہدوں پر فائز بھی رہے اورانہوں نے دینی خدمات کے میدان میں بھی اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔انکے خاندان کی نمائندہ شخصیتوں میں ڈپٹی کلکٹر نیاز علیخاں، ڈپٹی کلکٹر رفعت علی خاں، ڈپٹی کلکٹر حکیم امجد علی خاں، وکیل حکیم نواب علی خاں اور معروف وکیل اور آنریری مجسٹرٹ کاظم علی خاں ہیں۔۔ کاظم علی خاں عابد علی خاں کے دادا تھے۔5 فروری 1975 میں پیدا ہونے والے عابد علی خاں کے والد حسن علی خاں کاظم علی خاں کے چھوٹے فرزند تھے۔

یہ بھی خاص بات ہیکہ عابد علی خاں کے اجداد کا اے ایم یو اور اسکے بانی سر سید احمد خاں کے ساتھ قریب کا رشتہ رہا ہے۔ بیر سٹر حامد علی خاں ، بیرسٹر رفعت علی خاں اور بیرسٹر کاظم علی خاں نے اے ایم یو اورایم اے او کالج سے ہی تعلیم حاصل کی تھی۔ حامد علی خاں نے لندن سے وکالت کی تھی اورانکے شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ قریبی تعلقات تھے ۔وہ انگریزی اور اردو میں شاعری کرتے تھے انکی ایک انگریزی نظم ‘اے فیر ویل ٹو لندن’ برٹش لائبریری میں آج بھی رکھی ہے۔ حامد علی خاں اور نواب وقار الملک کے فرزند محمد احمد نے لندن میں ساتھ ساتھ وکالت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ جبکہ امجد علی خاں کے فرزند نواب علی خاں کی دوستی سر سید احمد خاں کے بیٹے جسٹس سید محمود سے تھی۔

عابد علی خاں کے خاندان کی سب سے زیادہ نمائندہ شخصیت حکیم امجد علی خاں کی تھی۔ وہ ڈپٹی کلکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ حاذق طبیب اور عالم دین بھی تھے. مولانا حکیم امجد علی طبیب، عالم اور محقق ہونے کے ساتھ اعلیٰ عہدوں پر رہ کر دینی خدمات انجام دیتے رہے ۔ حکیم امجد علی خاں کے والد مولانا حکیم ابو علی خاں کا شمار اپنے وقت کے معروف علماء میں ہوتا تھا۔ امجد علی خاں کی تصانیف میں تنزیہ القرآن ،معراج المعرفہ، کنز المعرفه، ناصر الایمان، جواہر زواہر ، ، فرائد الفوائد ، کشف الرین فی اثبات العزاء علی الحسین، اور تحفہ اثنا عشری کے باب حدیث ثقلین کا مدلل جواب کے نام لئے قابل ذکر ہیں۔ امجد علی خاں نے ‘شمس التواریخ’ لکھنی شروع کی تھی لیکن اسکو مکمل انکے فرزند وکیل نواب علی خاں نے کیا۔ یہ کتاب نواب علی خاں کے نام سے ہی شائع ہوئی ہے۔

حکیم امجد علی خاں نے امروہا میں دینی تعلیم کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئےمدرسہ سید المدارس قائم کیا۔ شہر کی شیعہ جامع مسجد ‘اشرف المساجد’ کی تعمیر میں بھر پور مالی تعاون کیا۔انہوں نے نماز کے اوقات معلوم کرنے کے لئے مسجد میں دھوپ گھڑی نصب کرائی تھی۔

پروفیسر عابد علی خاں کو انٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل IQAC کا ڈائریکٹر مقرر کرکے یونیورسٹی نے انہیں ایک بہت اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ یہ سیل تعلیمی ادارےمیں معیار کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ اسکا کام صرف ڈیٹا اکٹھا کرنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ معیار کو بہتر بنانے، احتساب کو یقینی بنانے، اسٹیک ہولڈرز کے اعتمادی جذبات کو برقرار رکھنے اور ادارے کی کارکردگی پر اعتماد قائم کرنے کے لیے اس ڈیٹا کا تجزیہ بھی کیا جائے۔ چونکہ معیار کی یقین دہانی ایک مسلسل عمل ہے، اس لیے آئی کیو اے سی (انٹرنل کوالٹی اسسمنٹ سینل) اب اعلیٰ تعلیم میں ایک مرکزی موضوع بنتا جا رہا ہے، جو معیار کی بہتری اور اس کے تسلسل کے اہداف کے حصول کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔

پرو فیسر عابد علی خاں نے جس رفتار کے ساتھ اے ایم یو میں ترقی کی منزلیں طے کی ہیں انہیں دیکھتےہوئے کہا جاسکتا ہیکہ مستقبل میں نہ جانے کتنے اعلیٰ عہدے انکے منتظر ہیں۔ ‘ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں’۔

