qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

غالب تقریبات کے تحت پریم چند پر بین الاقوامی سمینار

جشن غالب کی تقریبات کے تحت  منشی پریم چند پر سہ روزہ بین الاقوامی سیمنار  کامیابی کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔ دہلی کے غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ اس سیمنار میں ‘منشی پریم چند۔ ذہن، زمانہ اور آرٹ’ کے موضوع پر اردو اور ہندی کے مدعو ادیبوں نے  مقالے پیش کئے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 جشن غالب تقریبات کے تتحت منعقد اس بین الاقوامی سیمنار کی خاص بات  یہ رہی کہ اس میں ہندی کے نامور قلمکاروں کو بھی اظہار خیال کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ ملک کی معروف علمی اور ادبی شخصیات کے ساتھ ساتھ اس سیمنار میں تاجکستان اور ازبیکستان کے اردو اسکالرز نے بھی شرکت کی۔ سہ روزہ سیمنار کا افتتاح ہندی کے معروف شاعر اور دانشور اشوک  واجپئی نے کیا جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر انگریزی کے اسکا لر اور منشی پریم چند کے پوتے پروفیسر آلوک رائے اور مہمان ذی وقار کی حیثیت سے ہندی کے اسکالرز پروفیسر پرشوتم اگروال اور پروفیسر اپوروا نند نے شرکت کی۔پروفیسر ہریش ترویدی، پردیپ جین، پروفیسر سونیا گپتا،ڈاکٹر پر بھات رنجن اور ڈاکٹر جیتیدر شرویواستو نے منشی پریم چند کی شخصیت اور  فن افسانہ نگاری اور فن ناول نویسی پر مقالے پیش کئے۔ ازبیکستان اور تاجکستان  کے جن اردو  دانشوروں اور اسکالرز نے منشی پریم چند پر منعقد اس سیمنار میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں  تاجک نیشنل یو نیورسٹی کے پروفیسررجبوو حبیب اللہ،انسٹی ٹیوٹ  آف اورینٹل اسیٹڈیز  تاشقند کے  جنوبی ایشیائی زبانوں کے محکمہ  سے وابستہ  ایسو سی ایٹ پروفیسرمحترمہ ڈاکٹر مہیا عبدالرحمان،ازبیکستان کی اردو اسکالرزمحترمہ  مخلصہ شرخ میتووا اورمحترمہ مخیرہ عمروا اور تاجک نیشنل یونیورسٹی میں اردو اور ہندی کی استاد محترمہ صباحت یورووا شامل ہیں۔

سیمنار میں مقالہ نگاروں نے بتایا کہ پریم چند ایسے واحد ہندستانی فکشن نگار ہیں جنکے افسانوں اور ناولوں کا انگریزی،عربی، فرانسیسی، اسپینی،تاجک اور ازبیک زبانوں سمیت دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے. پروفیسرڈاکٹر رانیہ فوزی نے پریم چند کے مشہور زمانہ ناول ’گئودان‘ کا عربی  میں ترجمہ ’القربان‘ کے نام سے  کیا ہے۔پریم چند کودنیائے فانی سے رخصت ہوئے 86سال کا عرصہ گزرچکا ہے۔۔لیکن آج بھی  پریم چند کی کہانیاں نہ صرف سماج کا آئینہ ہیں ، بلکہ ہندوستانی تہذیب کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کی ریسرچ میں موضوع کے انتخاب کے لیے دنیا بھر میں  پریم چند اسکالرز کی پہلی پسند بن جاتے ہیں۔

مقررین نے  محققین سے یہ پتہ  لگانے کو کہا کہ آخر طویل عرصہ تک اردو میں لکھنے کے بعد پریم چند نے ہندی میں کیوں لکھنا شروع کردیا۔سیمنار میں پریم چند اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رشتوں پر بھی گفتگو کی  گئی۔ پریم چند نے ہندی اور اردو کے ادیبوں کوایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے ‘ہندستانی سبھا’ جامعہ میں ہی قائم کی۔ انہوں نے افسانہ ‘کفن’ بطور خاص جامعہ کے لئے ہی تحریر کیا تھا۔ انکا پہلا افسانہ ‘سوانگ’  جامعہ کے ہی رسالے میں شائع ہوا تھا۔ انقلابی شاعر جوش ملیح آبادی سے پریم چند کی ملاقات جامعہ میں ہی ہوئی تھی۔ مکتبہ جامعہ نے پریم چند کے چار ناول چھاپے۔ انکے خطوط کا مجموعہ بھی مکتبہ جامعہ نے ہی شائع کیا  تھا۔ اس اعتراض پر کہ غالب کی  تقریبات کے تحت پریم چند پر سیمنار کیوں منعقد کیا گیا۔  برمنگھم سے آئے اردو اور انگریزی کے قلمکار اور صحافی امیر مہدی نے مسکت جواب دیا۔ انہوں  نے کہا کہ پریم چند پر سیمنار در اصل غالب پر ہی سیمنار ہے۔ انہوں نے کہا کہ غالب کے معنیٰ غالب آجانے کے ہیں۔ اور پریم چند تمام فکشن نگاروں پر غالب ہیں اس لحاظ  سے پریم چند پرسیمنار غالب پر ہی  ہے۔

اس  سہ روزہ سیمنار میں پروفیسر علیم اشرف،شین کاف نظام، پروفیسر ثروت خاں، ڈاکٹر جاوید عالم،ڈاکٹر فیضان الحق، پروفیسر چندر شیکھر، پروفیسر ہریش ترویدی، پروفیسر ارتضی کریم، ڈاکر خالد علوی، پردیپ جین، پروفیسر طارق چھتاری،پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر شہزاد انجم،  پروفیسر انیس الرحمان،پروفیسر غضنفر، پروفیسر سونیا گپتا، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر ابو بکر عباد، ڈاکر سفینہ بیگم،پروفیسر خالد محمود،ڈاکٹر مشتاق صدف، ڈاکٹر مشرف علی، ڈاکٹر محمد اکمل،ڈاکٹر نیلو فر حفیظ، پروفیسر صادق، ڈاکٹر مقصود دانش،ڈاکٹر فوزان احمد،محترمہ نازرین انصاری، ڈاکٹر شاہد جمال، پروفیسر مظہر مہدی،پروفیسر ندیم احمد،پروفیسر محمد کاظم، ڈاکٹر پربھات رنجن، ڈاکٹر مختار تجاروی، ڈاکٹر فیض اللہ،پروفیسر خواجہ اکرام،پروفیسر صغیر افراہیم،پروفیسر حبیب اللہ، امیر مہدی، ،  پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر انور پاشا اور ڈاکٹر ادریس احمد نے شرکت کی۔مقررین نے  غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر  ڈاکٹر ادریس احمد کو اس بین الاقوامی سیمنار کے کامیاب اہتمام  کے لئے مبارکباد کا مستحق قرار دیا۔

پریم چند نے مزدوراورسرمایہ دار کی کشمکش کو بھی موضوع بنایا ہے ۔پریم چند نے جن موضوعات و مسائل پر قلم اٹھایا وہ مسائل آج کہیں زیادہ بڑی صورت میں ہمارے معاشرے کو متاثر کررہے ہیں ۔اس لئے پریم چند کی معنویت اُن کے عہد سے زیادہ آج محسوس کی جاتی ہے۔ پریم چند نے تین سو سے زیادہ کہانیاں لکھیں جو مختلف مجموعوں میں جمع ہیں۔ ہندی میں تقریبا دو سو کہانیاں۔’مان سرور’ کے نام سے آٹھ جلدوں میں چھپی ہیں۔ ہندی میں ‘رچناولی’ کے نام سے پریم چند کی تمام تحریریں 20 جلدوں میں شائع ہو چکی ہیں۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے پریم چند کی تمام تحریریں 22 جلدوں میں اردو میں شائع  کی ہیں۔

وہ گاندھی کے زیر اثر ہندوستانی زبان کے پرجوش حمایتی تھے۔ وہ مروجہ اردو اور ہندی کو ایک ہی قوم کی زبان سمجھتے تھے ۔ان کی اس کوشش سے اردو اور ہندی دونوں زبانوں کو فائدہ پہنچا۔

ان کا اصلی نام دھنپت رائے شریواستو ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 31 جولائی 1880  میں منشی عجائب لال کے گھر میں ضلع وارانسی مرٹھوا کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ بہت ہی بیمار ہو گئے تھے۔ صحت خراب ہونے کے سبب ان کا انتقال 8 اکتوبر 1936 کو، 56 سال کی عمر میں ہوا۔

Related posts

امام حسین ؑکے عزادار کے حصے میں معصوم گھنٹوں کا ذخیرہ ہے۔ مولانا قمر سلطان

qaumikhabrein

چار جلدوں پر مشتمل ہوگی کلیات میر انیس

qaumikhabrein

مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد فوری روکا جائے۔پوپ فرانسس

qaumikhabrein

Leave a Comment