
ایرانی خاتون زہرا طاہری نے ایک ایسے شعبے میں قدم جمائے ہوئے ہیں جو برسوں سے مردوں کا خصوصی میدان سمجھا جاتا رہا ہے، یعنی ”آٹوموٹو تکنیکی خدمات“، اور وہ بھی ایک بالکل مختلف انداز کے ساتھ۔
30 سالہ زہرا طاہری کا اپنے کیریئر کے آغاز کے بارے میں کہنا ہیکہ ”مجھے بچپن سے تکنیکی کام پسند تھے۔ میرے دل میں ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ ایک دن میں بھی اسی طرح کا کیریئر بناؤں گی۔ میں نے تقریباً دس سال طبی اور انتظامی شعبوں میں کام کیا، اور اپنے سات سالہ بیٹے کی وفات کے بعد پورا ایک سال نوکری سے چھٹی لے لی۔ اس مشکل دور نے میری زندگی کا رخ بدل دیا، مگر اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ اب کچھ ایسا کروں گی جس میں میری اصلی دلچسپی ہو۔ اپنے چچا (جو ٹائر درآمد کرنے والے ہیں) کی مدد سے اب تقریباً دو سال سے میں اس شعبے میں ہوں۔
شروع میں میرے گھر والوں اور آس پاس کے لوگوں نے میرا خوب مخالفت کی۔ انھیں میری پچھلی نوکری زیادہ اچھی لگتی تھی اور انھوں نے مجھے پڑھانے کا مشورہ بھی دیا۔ لیکن میں نے سوچ سمجھ کر یہ راستہ چنا۔ اب وہی لوگ میرے کام کی حمایت کرتے ہیں، یہاں تک کہ میرے پیج کی سٹوریز بھی ری پوسٹ کرتے ہیں۔“

آٹوموٹو آئل، رِمز اور ٹائرز کی یہ ماہر اپنے ابتدائی ورک پلیس تجربات کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ”شروع میں حالات بہت مشکل تھے۔ ورکشاپ پر موجود سب لوگ مرد تھے اور میں اکیلی خاتون۔ کچھ لوگوں کو لگا کہ میں کوئی بلاگر ہوں یا صرف اشتہار کے لیے آئی ہوں۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ دلچسپ اور غیر متوقع بات تھی کہ میں خود تکنیکی کام کر رہی ہوں۔ کچھ لوگوں نے تو آن لائن پیغام بھیج کر اشتہار کی قیمت بھی پوچھ لی۔
انھیں لگتا تھا کہ میرا پیج ایک اشتہار ہے اور وہ اس کے ذریعے اپنا کاروبار پروموٹ کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو جواب دیتے ہوئے میں نے زور دے کر کہا کہ میری ورچوئل سرگرمی صرف نوکری ہے، بلاگنگ نہیں۔ میں اپنے لیے کام کرتی ہوں اور میرا کام تکنیکی کار سروس دینا ہے، اشتہار کے لیے مواد تیار کرنا نہیں۔“
زہرا طاہری کہتی ہیں کہ ”اپنے کیریئر میں مجھے کئی بار صنفی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ورکشاپ پر کچھ مرد عزت سے پیش آتے تھے، لیکن مجموعی طور پر ورک پلیس ایک خاتون کے لیے بہت سخت اور بوجھل تھا۔ میرے ورچوئل پیج پر روزانہ کم از کم پانچ چھ ہراساں کرنے والے پیغام ضرور آتے ہیں۔ البتہ میں نے ان ہراسانیوں کو کبھی اپنا سفر روکنے نہیں دیا۔ پیغام پڑھتی ہوں اور نظر انداز کر دیتی ہوں۔ میرا یقین ہے کہ جو شخص واقعی سمجھدار اور باشعور ہے، اسے سمجھنا چاہیے کہ اس شعبے میں کام کرنے والی خاتون صرف پیشہ ورانہ کوشش چاہتی ہے۔
یہ ہراسانی صرف آن لائن تک محدود نہیں۔ چونکہ میرا رابطہ نمبر پیج پر درج ہے، اس لیے کبھی کبھی ہراساں کرنے والے فون کالز بھی آتے ہیں۔ کئی بار مجھے فون بند کرنا یا اٹھانا ہی چھوڑنا پڑتا ہے۔
تاہم، ان پیغاموں کے ساتھ ساتھ مثبت توانائی سے بھرپور کالز بھی آتی ہیں۔ مرد فون کر کے کہتے ہیں: ”آپ بہت زبردست ہیں، خدا آپ کا بھلا کرے، ہم آپ سے متاثر ہیں۔“ کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جب ہم آپ کو مشکلات کے باوجود پوری طاقت سے کام کرتے دیکھتے ہیں تو ہمیں بھی حوصلہ ملتا ہے۔ یہ پیغام بھی موجود ہیں۔“
