
کربلا میں موت اور دفن کی تمنا ہر مومن کے دل میں ہوتی ہے لیکن بہت کم ایسے خوش قسمت افراد ہوتے ہیں جنہیں موت بھی کربلا آئے اور دفن کے لئے قبر بھی کربلا میں ملے۔ کربلا میں دفن ہونا ایک بڑی سعادت کی بات ہے لیکن امام حسین کے حرم کے قبرستان میں دفن ہونا اور بھی بڑی سعادت ہے۔ یہ سعادت نصیب ہوئی پاکستان کی ایک دینی طالبہ کو۔ پاکستان کے چکوال سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ سیدہ رفعت بتول ہمدانی کربلا میں دینی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ انکی اچانک موت ہوگئی۔ انکےجنازے کو نجف میں مولا علی کی ضریح کا طواف کرایا گیا۔ کربلا میں مولا عباس اور مولا امام حسین کے ضریح اقدس کا طواف کرایا گیا۔ انکی نماز جنازہ مولا امام حسین کے حرم اقدس می ہوئی۔ رفعت بتول کو دفن کے لئے قبر حرم امام حسین کے اس قبرستان میں نصیب ہوئی جہاں حرم امام حسین کے خدام دفن ہوتے ہیں۔رفعت بتول ہمدانی کے غسل و کفن و دفن کا انتظام حرم امام حسین کی جانب سے ہوا ۔ جلوس جنازہ میں بڑی تعداد میں طلبا اور علما شریک ہوئے۔ اللہ ایسی مبارک موت ہر مومن کو نصیب ہو۔
