qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امام حسین کا اربعین: ہرسال ہونے والا معجزہ ہے۔

 دنیا بھر سے  امام حسین کے چاہنے والے کربلا پہونچ رہے ہیں۔ لاکھوں زائرین کربلا پہونچ چکے ہیں۔ اور لاکھوں نجف اور کربلا کے درمیان مشی میں ہیں۔ اس برس 14اگست کو کربلا میں امام حسین اور انکے ساتھیوں کا اربعین منایا جائےگا۔لاکھوں بلکہ کروڑوں زائرین عراق کے مقدس شہر کربلا کی طرف رواں دواں ہیں، جہاں امام حسین کی بارگاہ میں حاضری دے کر ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ایک مذہبی رسم ہے بلکہ محبت، اتحاد اور مزاحمت کا زندہ اظہار بھی ہے۔امام حسین کا اربعین نہ صرف شیعہ مسلمانوں بلکہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے لیے ایک عالمی اجتماع بن چکا ہے، جو انسانی حقوق اور انصاف کی علامت ہے۔

مشی اربعین: نجف سے کربلا کا مقدس پیدل سفر

اربعین کی سب سے نمایاں خصوصیت “مشی” ہے، یعنی پیدل سفریعنی سفر عشق۔ زائرین نجف اشرف سے، جہاں حضرت علی علیہ السلام کا روضہ ہے، کربلا کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہ فاصلہ تقریباً 80 کلومیٹر ہے، جو تین سے چار دن میں طے ہوتا ہے۔ راستے میں سیکڑوں “موکب” قائم ہیں، یہ موکب زائرین کو مفت کھانا، پانی، طبی امداد، آرام گاہ اور حتیٰ کہ موبائل چارجنگ کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک ریکارڈ ہے کہ یہ 80 کلومیٹر کا راستہ دنیا کا سب سے لمبا دسترخوان بن جاتا ہے، جہاں ہر قدم پر مہمان نوازی کا جذبہ جھلکتا ہے۔

مختلف ممالک سے زائرین کربلا آتے ہیں: ایران، پاکستان، لبنان، یورپ اور حتیٰ کہ امریکہ سے بھی بڑی تعداد میں عاشقان امام حسین کربلا پہونچ رہے ہیں۔۔ ایک امریکی سیاسی  مبصر اور سوشل  influencerجیکسن ہنکل بھی اس مشی میں شامل ہو کر زائرین میں تبرکات تقسیم کر رہے ہیں، جو اس اجتماع کی عالمی اپیل کو ظاہر کرتا ہے۔ راستے میں زائرین نعرے لگاتے ہیں جیسے “لبیک یا حسین” اور “ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین”، جو اتحاد اور جذبے کو مزید بڑھاتے ہیں۔

امریکی سیاسی مبصر جیکسن ہنکل کربلا میں

زائرین کی تعداد اور خدمت کا جذبہ

اس سال اربعین میں 20 ملین سے زائد زائرین کی شرکت متوقع ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع ہے۔ ۔ موکبوں میں رضاکارانہ خدمت کا جذبہ دیکھنے لائق ہوتا ہے؛ لوگ اپنے گھروں سے دور آ کر زائرین کی ضیافت کرتے ہیں۔ اس میں نہ صرف شیعہ بلکہ سنی، مسیحی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں، جو انسانی خدمت کی مثال قائم کرتے ہیں۔ راستے میں ایک مقام پر دسترخوان کو ایرانی ساختہ میزائل کی شکل میں سجایا گیا ہے، جو مزاحمت اور اتحاد کی علامت ہے۔میڈیا اس عظیم اجتماع کو اکثر نظر انداز کرتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر سے اس کی شان واضح ہوتی ہے۔ زائرین پیدل چلتے ہیں، تھکے نہیں، کیونکہ یہ سفر محبت کا ہے۔

اربعین کا پیغام: اتحاد، مزاحمت اور انسانی خدمت

اربعین کا پیغام صرف مذہبی نہیں بلکہ عالمی ہے: ظلم کے خلاف کھڑا ہونا، اتحاد قائم کرنا اور بے لوث خدمت کرنا۔ یہ امام حسین کی قربانی کی یاد دلاتا ہے کہ سچائی کی راہ میں قربانی دینے والے کبھی نہیں مرتے۔ آج کے دور میں، جب دنیا بھر میں تنازعات جاری ہیں، اربعین ایک پرامن احتجاج کی شکل ہے۔

اربعین ایک معجزہ ہے جو ہر سال ہوتا ہے۔ اگر آپ کو آسمانی فرشتوں کو دیکھنا ہے تو نجف سے کربلا کی مشی میں شامل ہوں، جہاں انسانی خدمت فرشتوں جیسی ہے۔ یہ سفر نہ صرف روح کو سکون دیتا ہے بلکہ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔

Related posts

بحرین ۔ جیل میں قیدی بھوک ہڑتال پر

qaumikhabrein

فلسطین کے دو بڑے مخالف گروہوں کے درمیان مصالحت کی کوشش۔

qaumikhabrein

افغانستان میں ایران، پاکستان اور ترکی کے قونصل خانے بند۔

qaumikhabrein

Leave a Comment