
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کا محاورہ لبنان کے ایک نوحہ خوان کے معاملے پر صادق آتا ہے۔ محمد ہادی صالح کی گرفتاری نے دنیا بھر میں شیعوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہادی صالح اسرائیل کی بد نام زمانہ خفیہ ایجنسی موساد کا ایجنٹ نکلا۔ ہادی صالح کا باپ حزب اللہ کا کمانڈر ہے اور اسکا ایک بھائی حالیہ اسرائل ۔لبنان جنگ میں حزب اللہ کی جانب سے شہید ہو چکا ہے۔ ہادی صالح کا قصہ حیران کن بھی ہے اور افسوسناک بھی۔ اس سے اسکا کمین پن بھی ظاہر ہوتا ہے اور مکاری بھی۔ اسکی مہیا کردہ جانکاری پر حذب اللہ کے جو سپاہی شہید ہوتے تھے۔ وہ ان شہیدوں کی میت پر جاتا تھا اور ان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے تعزیتی کلام اور نوحےپڑھتا تھا۔گزشتہ ہفتے محمد ہادی صالح کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسکے اوپر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام ہے۔

لبنانی اخبار L’Orient LeJour کے مطابق ابتدائی طور پر محمد ہادی صالح کو اسٹاک مارکیٹ میں مالی دھوکہ دہی کے الزام میں چند ہفتے قبل حراست میں لیا گیا تھا، لیکن اس کے موبائل فون کی تفتیش کے دوران ایسے شواہد ملے جن سے اس کے اسرائیلی موساد کے ساتھ روابط اور مبینہ طور پر پیسے کے عوض قتل میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔
سعودی اور لبنانی ذرائع کے مطابق، صالح نے موساد کو مختلف معلومات دینے کے بدلے تقریباً 23,000 امریکی ڈالر وصول کیے۔اس نے مبینہ طور پر خود کو حزب اللہ کا رکن ظاہر کر کے اپنی خاندانی وابستگیوں کی مدد سے تنظیم کے رہنماؤں اور اعلیٰ عہدیداروں کی معلومات حاصل کیں۔
صالح نے حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز کی لوکیشنز، حزب اللہ کے جنگجوؤں کی استعمال کردہ موٹرسائیکلوں کی اقسام، اور وہ نئے کمانڈر جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی جگہ تعینات کیے گئے تھے، ان کے نام موساد کو فراہم کیے۔

لبنانی عدالت نے محمد ہادی صالح پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کے الزامات میں مقدمہ قائم کیا ہے۔ اس پر پیسوں کے بدلے لبنانی شہریوں کی شہادت کا سبب بننے کا الزام ہے۔
صالح نعت خواں اور منقبت خواں خواں ہے جو شہداء کے ساتھ تصویریں لیکر، انہیں آن لائن پوسٹ کرتا تاکہ موساد ان کی شناخت کر سکے، اسرائل کے ہاتھوں ان لوگوں کی شہادت کے بعد انہی کی شہادت پر وہ نوحہ خوانی بھی کرتا تھا۔اس نے حزب اللہ کے سیکیورٹی مراکز کی کو لوکیشنس موساد کو فراہم کیں جسکے نتیجے میں متعدد لبنانی شہریوں اور حزب اللہ کے ارکان کی شہادت ہوئی۔اس کا نام جنوبی شہر نبطیہ پر اسرائیلی فضائی حملے سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جو 27 نومبر کی جنگ بندی کے بعد سب سے شدید حملہ تھا، اسکے ساتھ ساتھ یکم اپریل کو بیروت کے نواح میں کیے گئے اسرائیلی حملے کے لئے بھی اسی کی فراہم کردہ جانکاری کو ذمہ دار مانا جا رہا ہے جہاں حزب اللہ کمانڈر حسن بدیر اور ان کے بیٹے علی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ہادی صالح کئی بار کربلا بھی جا چکا ہے۔وہ ضریح مبارک کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی تصویریں بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا رہاہے۔
