
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے نام کی بھی لاج رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ سعودی عرب میں بے حیائی اور نیم برہنگی کے مظاہرے اب عام ہیں۔ مغربی رقاصائیں اور گلو کار وہاں کنسرٹ کرتے ہیں۔ سنیما گھر قائم ہو رہے ہیں۔ رقص و سرور کی محفلیں عام ہو رہی ہیں۔

لیکن ابھی تک بے حیائی اور نیم برہنگی سے بیت اللہ محفوظ تھا لیکن اب اسکا تقدس بھی خطرے میں پڑتا جارہا ہے۔ مسجد الحرام میں فیشن ایبل میک اپ زدہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ بے حیائی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں۔ مسجد الحرام میں فیشن ایبل خواتین سیلفیاں لیتی اور فوٹو کھچواتی نظر آتی ہیں۔ایسا لگتا ہیکہ مسجد الحرام میں بھی فیشن ایبل مغرب زدہ عورتوں کو بے پردہ اور بے حجاب رہنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔

حج و عمرے کے لئے مردو و خواتین کے لباس مختلف ہیں۔ خواتین مردوں کا لباس نہیں پہن سکتیں۔ مردوں کے لباس میں انکاداہنا بازو کھلا رہتا ہے لیکن خواتین کا لباس انکے پورے جسم کو ڈھک لیتا ہے۔صرف چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ پورا جسم لبادے میں ہوتا ہے۔ لیکن بیت الحرام میں اب فیشن ایبل خواتین مردوں کے احرام میں نظر آنے لگی ہیں۔کوئی خاتون مردوں کے مجمع میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر نماز ادا نہیں کرسکتی لیکن اب بیت الحرام میں مردوں کے درمیان خواتین کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اسلام کے مسلمہ اصولوں کی بیت الحرام میں دھجیاں اڑائی جا رہی ہی لیکن ایک دوسرے کے مسلک پر تنقید کرنے والے مذہب کے ٹھیکے دار چپی سادھے بیٹھے ہیں۔
